کراچی کا جلتا ہوا ضمیر

کراچی ایک بار پھر آگ میں جل گیا۔ گُل پلازہ کا سانحہ صرف ایک عمارت کا حادثہ نہیں تھا بلکہ یہ اس پورے نظام کی ناکامی کا ثبوت ہے جو برسوں سے اس شہر پر مسلط ہے۔ ہفتے کی رات لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے 28 قیمتی جانیں لے لیں (تا وقت تحریر) ، درجنوں افراد لاپتہ ہوئے، سینکڑوں خاندان اجڑ گئے اور شہر ایک اور اجتماعی صدمے سے دوچار ہو گیا۔
حکومت سندھ نے ہر جاں بحق فرد کے لواحقین کے لیے ایک کروڑ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک بڑا اعلان لگتا ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک کروڑ روپے کسی باپ، کسی ماں، کسی بیٹے یا بیٹی کی کمی پوری کر سکتے ہیں؟ کیا یہ رقم اس خوف، اس اذیت اور اس نا انصافی کا مداوا ہے جس سے یہ لوگ گزرے؟ جواب صاف ہے، ہرگز نہیں۔
یہ سانحہ اچانک نہیں ہوا۔ کراچی میں فائر سیفٹی کا نظام برسوں سے کاغذوں میں زندہ اور حقیقت میں مردہ ہے۔ تنگ گلیاں، غیر قانونی تعمیرات، ناقص برقی نظام، ایمرجنسی راستوں کی عدم موجودگی اور فائر بریگیڈ کا فرسودہ ساز و سامان سب کو معلوم ہے۔ ان مسائل کی نشاندہی ہر بڑے حادثے کے بعد کی جاتی ہے، مگر عمل کبھی نہیں ہوتا۔
پاکستان پیپلز پارٹی برسوں سے کراچی اور سندھ میں اقتدار میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آج حکومت کے پاس معاوضوں کے لیے کروڑوں روپے موجود ہیں تو کیا یہی رقم جدید فائر فائٹنگ گاڑیوں، تربیت یافتہ عملے، فائر الارم سسٹمز اور سخت انسپیکشن نظام پر خرچ نہیں کی جا سکتی تھی؟ کیا جانیں بچانا سستا تھا یا مرنے کے بعد چیک دینا آسان؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ معاوضے اصلاحات کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ یہ صرف وقتی دباؤ کم کرنے اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ ہیں۔ اصل مسئلہ کرپشن ہے۔ وہ انسپکٹرز جو پیسے لے کر خطرناک عمارتوں کو کلیئر کرتے ہیں، وہ افسران جو آنکھیں بند رکھتے ہیں، اور وہ سیاسی سرپرستی جو اس سب کو ممکن بناتی ہے، سب اس جرم میں شریک ہیں۔ یہ رشوت نہیں، جیسا کہ خود گورنر سندھ نے کہا، یہ قتل کی قیمت ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق، گزشتہ 15۔ 17 سالوں میں سندھ حکومت کو 26۔ 30 ٹریلین بجٹ ملا، لیکن عوامی سہولتیں بہتر ہونے کے بجائے بدترین حال میں ہیں۔
ایک موقف یہ بھی ہے کہ ان میں سے 10 ٹریلین سے زائد رقوم کو بدعنوانی اور ناقص منصوبہ بندی میں ضائع کیا گیا ہے اور کراچی کو اس کا مناسب حصہ فراہم نہیں ہوا۔
گل پلازہ میں 1,200 دکانیں تھیں۔ کیا کسی نے سنجیدگی سے فائر سیفٹی آڈٹ کیا؟ کیا کبھی انخلاء کی مشق ہوئی؟ کیا بیسمنٹ اور اوپری منزلوں میں حفاظتی انتظامات موجود تھے؟ اگر قانون موجود ہے مگر اس پر عمل نہیں، تو ذمہ دار کون ہے؟ جواب پھر وہی ہے، حکمران اور ان کا نظام۔
کراچی کو ہمدردی کے بیانات نہیں، جدید اور فعال فائر فائٹنگ انفراسٹرکچر چاہیے۔ شہر کو ایسی فائر بریگیڈ درکار ہے جو چند منٹوں میں پہنچ سکے، نہ کہ گھنٹوں بعد ۔ ایسی عمارتیں چاہئیں جو قانون کے مطابق بنیں، نہ کہ رشوت کے بل پر۔ اور ایسی حکومت چاہیے جو حادثے کے بعد نہیں، حادثے سے پہلے جاگے۔
شہلا رضا صاحبہ نے نیوزی لینڈمیں لگنے والی ایک آگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”آگ کے واقعات دنیا میں کہیں بھی ہو سکتے ہیں“ ۔ انہوں نے غالباً Ballantynes Fireکا حوالہ دیا ہے۔ Ballantynes کی آگ 1947 میں کرائسٹ چرچ میں لگی تھی، جس میں 41 افراد جان سے گئے۔ لیکن اصل فرق یہ ہے کہ نیوزی لینڈ نے اس سانحے کو معمول بنا کر نظر انداز نہیں کیا۔
اس ایک حادثے کے بعد نیوزی لینڈ نے فائر سیفٹی قوانین میں بنیادی اصلاحات کیں۔ عمارتوں کے ڈیزائن، ایمرجنسی ایگزٹس، فائر الارم سسٹمز، عملے کی تربیت اور انسپیکشن کے نظام کو مکمل طور پر بدل دیا گیا۔ اس سانحے کو ایک سبق بنایا گیا، نہ کہ ایک جواز۔
آج حقیقت یہ ہے کہ Ballantynes جیسے بڑے کمرشل فائر سانحات نیوزی لینڈ میں دوبارہ دیکھنے میں نہیں آئے۔ وہاں حادثہ ہوا، ذمہ داری لی گئی، اصلاحات ہوئیں، اور جانیں بچائی گئیں۔ یہاں حادثہ ہوتا ہے، بیانات آتے ہیں، معاوضے بانٹے جاتے ہیں، اور پھر سب کچھ اگلے سانحے تک بھلا دیا جاتا ہے۔
اگر واقعی ”آگ ہر جگہ لگ سکتی ہے“ تو سوال یہ ہے کہ کیا ہر جگہ حکومتیں ایک جیسا ردعمل بھی دیتی ہیں؟ یا فرق صرف نیت، حکمرانی اور احتساب کا ہے؟
ایک کروڑ روپے ایک اعلان ہو سکتا ہے، انصاف نہیں۔ انصاف تب ہو گا جب آئندہ کوئی ماں جلتی عمارت سے مدد کے لیے فون نہ کرے، جب کوئی باپ اپنے بچوں کی لاشیں شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا انتظار نہ کرے، اور جب کراچی کے لوگ یہ سوال نہ کریں کہ اگلی باری کس کی ہے۔
شہرِ کراچی خیرات نہیں مانگ رہا۔ یہ حق مانگ رہا ہے۔ زندہ رہنے کا حق۔ محفوظ رہنے کا حق۔ اور نا اہلی اور کرپشن سے پاک نظام کا حق۔