ایران میں کیا ہو رہا ہے؟ اور کیوں ہو رہا ہے؟

ایران اس وقت احتجاج یا وقتی اضطراب سے نہیں گزر رہا، بلکہ یہ ایک ایسے طویل المدت، مزمن اور ہمہ گیر بحران کی گرفت میں ہے جس کی جڑیں ریاستی ساخت، نظریاتی جمود اور سماجی تغیر کے باہمی تصادم میں پیوست ہیں۔ یہ بحران نہ اچانک پیدا ہوا ہے اور نہ کسی ایک واقعے کی ضمن میں ہے، بلکہ یہ دہائیوں پر محیط ایک مسلسل انحطاط، ظلم، جبر، اقربا پروری، ڈکٹیٹر شپ اور انکارِ حقیقت کا منطقی انجام ہے جو اب علانیہ صورت اختیار کر چکا ہے۔
ایرانی ریاست جو کہ اصل میں وہاں کی رجیم کی مذہبی من مانی یا فرضی تعبیر میں محصور ہے، بلکہ عوام کو محصور کر رکھا گیا ہے، وہ ہزار سالہ مذہبی متون اور 1979 کے انقلاب کو سٹیٹ کو چلنے چلانے کے لیے تا قیامت حتمی مانتے ہیں۔ اس کی فکر، اس کا سیاسی بیانیہ، اس کی لغتِ اقتدار اور اس کی اخلاقی اتھارٹی سب اسی عہد کے تصورات کے گرد گھومتے ہیں۔ اس کے برعکس ایرانی سماج علمی و سائنسی ارتقا کی بابت خاموش مگر فیصلہ کن طور پر بدل چکا ہے۔ یہ سماج اب شہری ہے، تعلیم یافتہ ہے، دنیا سے کٹا ہوا نہیں رہا اور فرد کی خودمختاری کو ایک فطری حق کے طور پر دیکھتا ہے۔
وہاں کی نئی نسل مذہب کو بطور ایمان یا روحانی تجربہ تو مسترد نہیں کرتی، مگر اسے جبری نظم، قانونی تعزیر اور ریاستی اخلاقیات کی صورت میں قبول کرنے سے انکاری ہے۔ اور اس انکار کا ایران کے حالیہ بحران میں کلیدی کردار ہے۔
ایران میں مذہب ایک عرصے سے عقیدے کے دائرے سے نکل کر ریاستی اقتدار کے آلے میں تبدیل ہو چکا ہے۔ وہاں مذہب کو نظمِ حکومت، پولیسنگ اور سزا کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے، جس کا مقصد ایرانی سپریم لیڈر کی ڈکٹیٹر شپ کو برقرار رکھنا اور عوام کو دباؤ میں رکھنا ہے۔ نتیجتاً یہاں جو ردِعمل پیدا ہوا ہے وہ مذہب سے بیزاری جو کہ اصل میں مذہبی ٹھیکیداروں کے رویوں کی وجہ سے ہے، پیدا ہو چکی ہے۔ ، وہ مذہب کے نام پر قائم جبر سے نفرت کرتے ہیں۔ وہاں کی ریاست اس فرق کو سمجھنے یا تسلیم کرنے کے بجائے ہر اختلاف کو فتنہ، ہر ابھرتی ہوئی آواز کو بیرونی ایجنڈا اور ہر احتجاج کو غیر ملکی سازش قرار دے کر مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
اقتصادی حالات اس وقت یہ ہیں کہ ایک امریکی ڈالر کے مقابلے ایک ملین سے زیادہ ایرانی ریال آتے ہیں۔ انڈوں کا ایک کریٹ 36 سے 40 لاکھ ایرانی ریال کا پڑ رہا ہے، ضروریات زندگی عوامی پہنچ سے روز بروز دور ہو رہی ہیں۔ یوں معاشی زوال نے اس فکری اور سماجی تصادم کو ایک آتش فشاں میں بدل دیا ہے۔ ایرانی معیشت برسوں سے شدید دباؤ کا شکار ہے۔ پابندیاں اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں، مگر اصل تباہی بدانتظامی، ساختی کرپشن اور اس حقیقت سے پیدا ہوئی ہے کہ پاسدارانِ انقلاب ایک نظریاتی محافظ ادارے کے بجائے ایک مقتدر معاشی طاقت بن چکا ہے، جس کے ہاتھ تیل، تعمیرات، درآمدات اور بڑے مالیاتی شعبوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ عام ایرانی کے لیے یہ صورتحال ناقابلِ فہم نہیں، بلکہ ناقابلِ برداشت ہے۔ مہنگائی معمول کی زندگی کو ڈسٹرب کئے ہوئی ہیں۔ ایران اپنے عوام کی فکر کریں بجائے اس کے وہ پراکسی جنگوں میں پیسہ پانی کی طرح بہا رہا ہے، جس کا خمیازہ ایرانی عوام بھگت رہی ہے۔ کیونکہ ایک تو ان کے ٹیکس کا پیسہ بغیر کسی فائدے کے باہر جا رہا ہے، اوپر سے دہشت گردی کی فروغ کی مد میں ایران پر پابندیاں لگی ہوئی ہیں، جس کا براہ راست اثر ایرانی عوام پر ہے۔
حالیہ احتجاج، جو مختلف ادوار میں شدت اور خاموشی کے ساتھ ابھرتے رہے ہیں، اسی اجتماعی اضطراب کا اظہار ہیں۔ 2022 میں مہاسا امینی کی قتل سے شروع ہونے والی تحریک جو ایرانی خواتین اور لبرل طبقہ تک محدود تھی، اب عام آدمی کی تحریک بن چکی ہے اور وہ اس رجیم کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ 2022 اور اس کے بعد ہونے والے احتجاجوں میں، غیر سرکاری اور انسانی حقوق کے اداروں کے محتاط تخمینوں کے مطابق، کم از کم چار سے پانچ سو افراد جان سے گئے، جن میں خواتین، نوجوان اور بعض کم عمر لڑکے بھی شامل تھے۔ ہزاروں افراد زخمی ہوئے، جبکہ دس سے پندرہ ہزار کے درمیان افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے متعدد کو سخت سزائیں، طویل قید اور بعض کو سزائے موت تک سنائی گئیں۔ مالی نقصان کا کوئی مستند سرکاری تخمینہ موجود نہیں، مگر نجی املاک، دکانوں، گاڑیوں اور شہری انفراسٹرکچر کو ہونے والا نقصان اربوں تومان تک بتایا جاتا ہے۔ ان اعداد و شمار سے زیادہ اہم وہ نفسیاتی اور سماجی زخم ہیں جو اس جبر نے معاشرے کے شعور پر ثبت کیے ہیں۔
ان احتجاجوں میں ایرانی عورت کا کردار قابلِ ذکر ہے۔ ایرانی عورت جو مظلوم تھی، مقہور تھی، اب مرکزِ مزاحمت بن چکی ہے۔ عورت کی مرضی یا حقوق کا سوال اب مذہبی یا تہذیبی نہیں رہا، بلکہ ریاستی اقتدار کے اس دعوے کو چیلنج کرنے کی علامت بن چکا ہے جو فرد کے جسم، لباس اور نجی زندگی تک میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ عورت کا انکار دراصل اس پورے نظامِ اخلاقیات کا انکار ہے جس پر ریاست اپنی مشروعیت قائم کیے ہوئے ہے، اور یہی بات ریاست کو سب سے زیادہ مضطرب کرتی ہے۔
ریاست کا ردِعمل حسبِ روایت جبر، تعزیر اور خوف پر مبنی ہے۔ گرفتاریوں کی یلغار، انٹرنیٹ کی بندش، اطلاعاتی سنسرشپ اور بیرونی دشمنوں کی ایجنڈا، مگر یہ سب تدابیر اب اپنی افادیت کھو چکی ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ خوف وقتی سکوت تو پیدا کر سکتا ہے، مگر قبولیت اور رضامندی پیدا نہیں کر سکتا۔ جب ریاست عوامی سپورٹ سے محروم ہو جائے تو اس کی طاقت جبر تک محدود رہتی ہے، اور یہ جبر بالآخر خود اپنی نفی کا سامان پیدا کرتا ہے۔
ایران کا بحران اس لیے سنگین ہے کہ یہاں معاملہ اب اصلاحات، سبسڈی یا کسی ایک قانون کی تبدیلی کا نہیں، بلکہ نظامِ اقتدار اور تصورِ حاکمیت کا ہے۔ ایک مذہبی تھیوکریسی اور ایک جدید، خود آگاہ اور باوقار سماج کے درمیان مفاہمت کی گنجائش تیزی سے سکڑ چکی ہے۔ یا تو ریاست اپنے نظریاتی جمود کو توڑے، یا پھر یہ تصادم مختلف شکلوں میں بار بار سر اٹھاتا رہے گا۔
ایران میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ تاریخ کے اسی بے رحم مگر واضح قانون کی توثیق ہے کہ جو ریاستیں وقت، سماج اور انسانی شعور کے ساتھ چلنے سے انکار کرتی ہیں، وہ وقتی طور پر طاقت سے زندہ تو رہ سکتی ہیں، مگر دائمی استحکام حاصل نہیں کر سکتیں۔ ایران میں سوال اب روٹی سے آگے بڑھ چکا ہے، یہ سوال وقار، اختیار اور انسانی خودمختاری کا ہے، اور ایسے سوالات کا جواب نہ زندان دے سکتا ہے، نہ لاٹھی، نہ خطبہ۔
ریاست جب اپنے شہریوں کو بنیادی حقوق اور آسائشیں دیتی ہے تو شہری خود بخود ریاست کے وفادار ہوتے ہیں۔ اور اگر آپ انہوں مجبور، مقہور و محصور رکھیں گے تو یہ لاوا ایک نا ایک دن پھوٹ جاتا ہے، جس کے سامنے پھر کچھ بھی نہیں ٹک پاتا۔ بعد میں ریاست اپنے آلہ کاروں کے ذریعے خواہ یہ پروپیگنڈا کریں کہ ان لوگوں کو ہمارا دشمن پیسہ دیتا ہے یا یہ کریں کہ یہ لوگ مذہب سے آزادی چاہتے ہیں، لیکن بہرحال یہ بے سود ہی ہوتا ہے۔
