ضلع شوگر میں روایتی سیاست اور تبدیلی کی امید

ضلع شوگر کی سیاسی تاریخ پر اگر گہری نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ یہاں روایتی اور موروثی سیاست نے نہ صرف ترقی کے راستے مسدود کیے بلکہ عوام کو آپس میں تقسیم کر کے اپنے مفادات کی بھینٹ بھی چڑھایا۔ چند مخصوص سیاست دانوں اور ان کے ٹولوں نے ہمیشہ اقتدار کو اپنا حق سمجھا اور اس مقصد کے حصول کے لیے عوام کو علاقائی، خاندانی اور مذہبی بنیادوں پر ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کیا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عوام کی اکثریت اس تقسیم کو سمجھنے کے بجائے انہی نعروں اور جذباتی اپیلوں کا شکار بنتی رہی۔
روایتی سیاست دانوں کی سب سے بڑی چال یہی رہی ہے کہ عوام کو آپس میں الجھا کر رکھا جائے تاکہ کوئی اجتماعی آواز بلند نہ ہو سکے۔ کبھی علاقے کے نام پر، کبھی مسلک کے نام پر اور کبھی خاندانی وابستگیوں کے ذریعے لوگوں کو ایک دوسرے سے بدظن کیا گیا۔ اس تقسیم کا سب سے بڑا فائدہ انہی سیاست دانوں کو ہوا جنہوں نے انتشار کی اس فضا میں اپنی سیاست کو زندہ رکھا۔ جب عوام آپس میں لڑتے رہیں تو سوال پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا، احتساب کا تصور ختم ہو جاتا ہے اور اقتدار چند ہاتھوں میں محفوظ رہتا ہے۔
تعلیم کے میدان میں شوگر کے ساتھ جو زیادتیاں کی گئیں وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ روایتی سیاست دانوں نے تعلیم کو عوام کا بنیادی حق سمجھنے کے بجائے اسے بھی اپنی سیاست کا ہتھیار بنایا۔ تعلیمی اداروں کی تعمیر، اساتذہ کی تعیناتی اور سہولیات کی فراہمی میرٹ کے بجائے سیاسی وابستگیوں سے مشروط رہی۔ نتیجتاً شوگر میں آج بھی معیاری تعلیمی اداروں کی شدید کمی ہے، ہزاروں طلبہ بہتر تعلیم کے لیے ضلع سے باہر جانے پر مجبور ہیں اور کئی بچے غربت اور سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث تعلیم ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ تعلیم جیسے اہم شعبے کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا، کیونکہ باشعور اور تعلیم یافتہ عوام سوال کرتے ہیں، حق مانگتے ہیں اور روایتی سیاست کو چیلنج کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شوگر میں تعلیمی پسماندگی کو ایک طرح سے برقرار رکھا گیا تاکہ عوام سیاسی طور پر کمزور اور محتاج رہیں۔ یہ رویہ کسی صورت عوام دوستی یا قیادت کہلانے کا حق دار نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں بھی عوام کو مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ بنیادی صحت مراکز کی کمی، سہولیات کا فقدان اور عملے کی عدم دستیابی نے شوگر کے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا۔ لیکن روایتی سیاست دانوں نے ان بنیادی مسائل کے حل کے بجائے ہمیشہ اپنی کرسی کو ترجیح دی۔
ابتدا ہی سے شوگر میں موروثی سیاست اور مخصوص گروہوں کا غلبہ رہا ہے۔ نتیجتاً نہ صرف نئی نسل بلکہ تعلیم یافتہ اور صاحبِ فہم افراد بھی آگے آنے سے محروم رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شوگر آج ترقی، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبوں میں بلتستان کے دیگر اضلاع کے مقابلے میں واضح طور پر پیچھے ہے۔ جب سیاست چند خاندانوں یا مخصوص افراد کے گرد گھومتی رہے تو عوامی مفاد پسِ پشت چلا جاتا ہے اور ترقی کا سفر رک جاتا ہے۔ شوگر میں شروع سے چند سیاست دانوں کا ہی سکہ رائج رہا ہے، جس کے باعث عوام کے اذہان میں یہ بات راسخ ہو چکی ہے کہ سیاست کے لیے صرف وہی مخصوص لوگ اہل ہیں۔ حالانکہ یہ نہ کوئی فطری اصول ہے اور نہ ہی جمہوری تقاضا۔ یہ ایک مصنوعی سوچ ہے جسے جان بوجھ کر پروان چڑھایا گیا تاکہ اقتدار چند ہاتھوں میں ہی محدود رہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس رویے کو بدلا جائے اور اس سوچ کو چیلنج کیا جائے۔ شوگر کو بھی دیگر اضلاع کی طرح ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے سب سے پہلے موروثی سیاست کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ روایتی ٹولوں اور آزمائے ہوئے سیاست دانوں سے جان چھڑانا ہی حقیقی تبدیلی کی پہلی شرط ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آزمائے ہوئے کو بار بار آزمانا سب سے بڑی حماقت ہوتی ہے۔ اگر ماضی میں وہ لوگ شوگر کو ترقی نہیں دے سکے تو مستقبل میں بھی ان سے کسی معجزے کی توقع رکھنا خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ اس بار شوگر کی سیاست میں کچھ نئے اور نسبتاً باشعور چہرے سامنے آ رہے ہیں۔ ان میں طاہر شوگری، احتشام الحق شوگری، حسن شوگری اور سعید شوگری قابلِ ذکر ہیں۔ اگرچہ طاہر شوگری کئی برسوں سے سیاسی جدوجہد میں مصروف ہیں، مگر انہیں اقتدار میں آ کر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع نہیں ملا۔ کسی فرد کو آزمانے سے پہلے ہی اس کی قابلیت پر سوال اٹھانا دانشمندی نہیں کہلا سکتا۔ جمہوریت کا حسن ہی یہی ہے کہ ہر اہل شخص کو موقع دیا جائے۔
آج شوگر کے عوام کے پاس ایک سنہری موقع ہے کہ وہ موروثی سیاست کو دفن کریں اور روایتی سیاست دانوں کو مسترد کر کے نئے لوگوں کو آزما کر دیکھیں۔ طاہر شوگری، احتشام الحق شوگری، حسن شوگری اور سعید شوگری جیسے افراد کو موقع دینا محض ایک انتخابی فیصلہ نہیں بلکہ شوگر کے مستقبل کے لیے ایک سرمایہ کاری ہے۔ ان باشعور نمائندوں کو ووٹ دینے کے ساتھ ساتھ ہر پلیٹ فارم پر عوامی آگاہی پھیلانا بھی ضروری ہے، تاکہ سیاسی شعور بیدار ہو اور تبدیلی کا راستہ ہموار ہو۔
ان تمام حالات میں اب شوگر کے عوام کے سامنے ایک نیا اور امید افزا راستہ موجود ہے۔ نئے آنے والے سیاست دان، روایتی سیاست سے ہٹ کر ایک مختلف سوچ اور ویژن کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان افراد سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ وہ سیاست کو خدمت سمجھتے ہوئے عوام کو جوڑنے کا کردار ادا کریں گے نہ کہ تقسیم کرنے کا۔ نئے سیاست دانوں سے سب سے بڑی توقع یہی ہے کہ وہ تعلیم کو اپنی اولین ترجیح بنائیں گے۔ معیاری تعلیمی اداروں کا قیام، اساتذہ کی میرٹ پر تعیناتی، طلبہ کے لیے وظائف اور جدید تعلیمی سہولیات کی فراہمی شوگر کو تعلیمی پسماندگی سے نکال سکتی ہے۔ اسی طرح صحت کے شعبے میں بہتری، سڑکوں اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، روزگار کے مواقع اور نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کرنا وہ اقدامات ہیں جو شوگر کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ ان نئے چہروں سے یہ امید بھی وابستہ ہے کہ وہ شفاف سیاست کو فروغ دیں گے، عوام کو جوابدہ ہوں گے اور اقتدار کو ذاتی جاگیر بنانے کے بجائے عوامی امانت سمجھیں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ عوام کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے بجائے اتحاد اور شعور کا پیغام دیں گے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ شوگر کی تقدیر بدلنے کا وقت آ چکا ہے۔ اگر عوام نے ایک بار پھر روایتی سیاست دانوں پر بھروسا کیا تو نتائج بھی وہی ہوں گے جو ماضی میں دیکھے جا چکے ہیں۔ لیکن اگر اس بار نئے سیاست دانوں کو موقع دیا گیا تو شوگر میں ترقی، شعور اور انصاف کی ایک نئی صبح طلوع ہو سکتی ہے۔ یہ فیصلہ شوگر کے عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ تقسیم کی سیاست کو چنتے ہیں یا ترقی اور اتحاد کے راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔
