میرے مطابق

مرحوم اُستاد شاہ حسین کے ساتھ میری طویل رفاقت کی داستان

آج میں وہ سب کچھ لکھ رہا ہوں جو شاید شاہ حسین کے زندہ ہوتے ہوئے نہ لکھ پاتا۔ یہ کہانی درد، اخلاص، شعور اور فکری ہم آہنگی سے لبریز ہے، جس میں دو جگری دوستوں کے درمیان ہونے والی لامحدود بحث و مباحثوں کی ایک طویل داستان شامل ہے۔

میری اور شاہ حسین کی رفاقت

آئیے سب سے پہلے شاہ حسین صاحب کے ساتھ اپنی رفاقت پر نظر ڈالتے ہیں کہ ہم کیسے دوست بنے اور کس طرح ایک دوسرے کے اتنے قریب ہو گئے کہ سولہ سالہ اس رفاقت کے دوران تقریباً ہر شام اکٹھے کھانا کھاتے اور رات گئے تک علاقائی اور بین الاقوامی حالات پر بحث و مباحثہ کیا کرتے تھے۔

مرحوم اُستاد شاہ حسین صاحب سے میری پہلی ملاقات اُس وقت ہوئی جب وہ اسپین میں ایک نجی اسکول المدینہ، میں بطور استاد خدمات انجام دے رہے تھے۔ ایک دن وہ ہمارے گھر کے سامنے مین روڈ سے اسکول جا رہے تھے۔ میں نے انہیں روک کر کہا کہ سر، میں بھی چاہتا ہوں کہ آپ کے اسکول میں بطور استاد کام کروں۔

شاہ حسین نے مسکراتے ہوئے کہا کہ استاد بننے کے لیے آپ کو چترالی ٹوپی پہننا ہوگی، تب ہی آپ ہمارے اسکول میں کام کر سکتے ہیں۔

میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ ابھی تو میری داڑھی بھی نہیں آئی اور آپ چترالی ٹوپی کی بات کر رہے ہیں۔

میری اس بات پر وہ ہنس پڑے اور کہا کہ پھر آپ استاد نہیں بن سکتے۔ خیر، میں تو استاد نہ بن سکا اور کسی اور کام میں مصروف ہو گیا۔ اُس وقت میری اور شاہ حسین کی رفاقت نئی نئی تھی اور ہم اتنے قریب نہیں تھے کہ کھل کر بات کر سکیں۔

ابتدا میں شاہ حسین صاحب میرے بڑے بھائی آدم خان کے دوست تھے اور وہ اکثر ان کے ساتھ ہمارے گھر آیا کرتے تھے۔ رات دیر تک ہم سب آپس میں گفتگو کیا کرتے تھے۔ بعد ازاں میری اور شاہ حسین کی رفاقت اتنی گہری ہو گئی کہ ہم تقریباً ہر شام اکٹھے کھانا کھاتے اور رات گئے تک علاقائی اور بین الاقوامی حالاتِ حاضرہ پر گرما گرم بحث و مباحثہ کرتے رہتے۔

اکثر اوقات آدم خان ہمیں ہنسی مذاق میں ڈانٹتے ہوئے کہتے کہ آپ دونوں کب سے اتنے بڑے فلسفی بن گئے ہیں کہ پوری دنیا کے حالات پر تبصرے کر رہے ہو۔ ہم بھی مسکرا کر ان کی بات ٹال دیتے اور دوبارہ بحث شروع کر دیتے۔

شاہ حسین اکثر مجھے کہتے تھے کہ آپ کا آئی کیو لیول بہت شاندار ہے اور آپ میری گفتگو کو بہت جلد سمجھ لیتے ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ راز، مجھے آپ سے بحث و مباحثے میں اس لیے لطف آتا ہے کہ آپ باتوں کی گہرائی کو فوراً سمجھ لیتے ہیں اور مجھے زیادہ وضاحت کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔

شاہ حسین کے تعلیم کے حوالے سے خیالات

سیاسی بحث و مباحثوں کے علاوہ ہم اسکولوں میں معیاری تعلیم و تدریس، بچوں کی بہتر تربیت اور والدین کی عدم دلچسپی پر بھی تفصیلی گفتگو کیا کرتے تھے۔

شاہ حسین صاحب اکثر کہا کرتے تھے کہ میرے شاگرد میرے بچوں کی مانند ہیں، اور میں نہیں چاہتا کہ میرے بچوں کا مستقبل برباد ہو۔

وہ بار بار اس بات پر زور دیتے تھے کہ معاشرے میں حقیقی تبدیلی کے لیے لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ناگزیر ہے۔ میں نے خود ان کے منہ سے کئی بار سنا کہ جب تک ہماری بچیوں کی تعلیم میں تناسب بہتر نہیں ہو گا، تب تک معاشرے میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔

شاہ حسین کی زندگی کا طرزِ عمل

شاہ حسین ایک سادہ لوح مگر باشعور انسان تھے۔ وہ سادہ لباس اور عام جوتے پہننے کو ترجیح دیتے تھے۔ وہ حد درجہ غیرت مند اور دیانت دار انسان تھے اور معاشرے میں اسی حوالے سے جانے جاتے تھے۔

انہیں موسیقی کا بھی شوق تھا اور وہ اکثر ہمارے ساتھ موسیقی کے پروگراموں میں شریک ہوتے تھے۔ ان کے پسندیدہ گلوکار ناشناس تھے، جنہیں وہ بڑے شوق سے سنتے تھے۔ کھانے پینے کے معاملے میں وہ زیادہ شوقین نہیں تھے، جو سامنے رکھ دیا جاتا، خوش دلی سے کھا لیتے تھے۔

شاہ حسین ڈپریشن کا شکار کیسے ہوئے

اب شاہ حسین کی بیماری کے حوالے سے کہانی کے ایک اہم موڑ کا ذکر ضروری ہے۔ شاہ حسین بچپن سے کسی ذہنی بیماری یا ڈپریشن کا شکار نہیں تھے۔ البتہ وہ مالی طور پر کمزور ضرور تھے، مگر انہوں نے کبھی ہمیں یہ احساس نہیں دلایا کہ وہ مالی مشکلات میں ہیں یا معاشرے میں زندہ رہنے کے حوالے سے پریشان ہیں۔

وہ ایک خودمختار اور آزاد خیال انسان تھے اور معاشرے کی اصلاح کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے تھے۔

گزشتہ سال مجھے ایک نامعلوم نمبر سے کالز اور میسیجز موصول ہونا شروع ہوئے۔ میسیجز میں صرف اتنا لکھا ہوتا تھا: ”میں ہوں“ ۔ میں پریشان ہو گیا کہ یہ کون ہے اور اپنا نام کیوں نہیں بتا رہا۔ کافی دیر تک یہ سلسلہ چلتا رہا، بالآخر انہوں نے بتایا کہ میں شاہ حسین ہوں اور اسلام آباد آ رہا ہوں۔

میں نے پوچھا کہ آپ اپنے نمبر سے پیغام کیوں نہیں بھیج رہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ ان کا موبائل گم ہو گیا ہے، اس لیے نئے نمبر سے رابطہ کر رہے ہیں۔

شاہ حسین اسلام آباد پہنچے تو میں نے ان سے بے چینی کی وجہ پوچھی۔ انہوں نے دبے لفظوں میں بتایا کہ وہ اندر سے ٹوٹ چکے ہیں اور انہیں میرے سوا کسی پر اعتماد نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ آپ ہی میرے لیے سب کچھ ہیں۔ میں نے انہیں تسلی دی کہ اللہ خیر کرے گا اور گھبرانے کی ضرورت نہیں۔

اُس وقت وہ شدید ذہنی دباؤ اور اینزائٹی کا شکار تھے۔ بعد ازاں ڈاکٹر رضوان تاج صاحب سے ان کا چیک اپ کروایا گیا اور کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ نارمل حالت میں آ گئے۔ کچھ معاملات ذاتی نوعیت کے تھے، اس لیے میں انہیں یہاں بیان نہیں کرنا چاہتا۔

اس کے بعد ہر دو ماہ بعد ان کا ڈاکٹر سے چیک اپ ہوتا رہا اور وہ مکمل طور پر نارمل ہو گئے۔ چونکہ میں اسلام آباد میں مقیم تھا، اس لیے ہماری گفتگو زیادہ تر فون پر ہوتی تھی۔

گزشتہ اکتوبر میں جب میں گھر گیا تو شاہ حسین سے ملاقات ہوئی۔ وہ پہلے سے زیادہ صحت مند اور تندرست نظر آ رہے تھے۔ میں نے کہا کہ ماشاءاللہ، اب تو آپ مجھ سے بھی زیادہ صحت مند لگ رہے ہیں۔ وہ ہنس کر بولے کہ ہاں، اب میں بالکل نارمل ہو چکا ہوں اور خوف و بے چینی میں بہت حد تک کمی آ گئی ہے۔

یکم نومبر کو میں حسبِ معمول کام کے سلسلے میں اسلام آباد واپس آ گیا۔ اس کے بعد بھی ہماری ہر شام فون پر بات ہوتی رہی۔ شاہ حسین کی وفات سے ایک رات پہلے بھی ہماری طویل گفتگو ہوئی، ہم خوب ہنسے اور دل کی باتیں کیں۔

میں نے انہیں بارہا کہا کہ اگر ڈپریشن یا بے چینی میں اضافہ محسوس ہو تو اسلام آباد آ جائیں، ڈاکٹر سے چیک اپ کروائیں اور کچھ دن میرے ساتھ رہیں۔ مگر انہوں نے کہا کہ بس سینے کا انفیکشن ہے، باقی میں بالکل ٹھیک ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ تیس دسمبر کو اسکول کی چھٹیاں ہوں گی، تب اسلام آباد آئیں گے۔

اگلی صبح بروز جمعہ بیس دسمبر دو ہزار پچیس میں دوستوں کے ساتھ بنوں گیا ہوا تھا اور شام آٹھ بجے تک ایک جرگے میں مصروف رہا۔ فارغ ہو کر موبائل آن کیا تو فیس بک اور واٹس ایپ پر شاہ حسین کے انتقال کی خبر نظر آئی۔

یہ خبر پڑھتے ہی مجھے ایسا جھٹکا لگا کہ میں بالکل خاموش ہو گیا۔ پہلے تو یقین نہ آیا اور سوچا شاید یہ جھوٹی خبر ہو۔ میں نے فوراً اپنے بڑے بھائی آدم خان کو فون کیا، جنہوں نے شاہ حسین کے انتقال کی تصدیق کر دی۔

آگے کا منظر میں یہاں بیان نہیں کر سکتا کہ مجھ پر کیا گزری اور اب میں کس طرح زندگی گزار رہا ہوں۔ شاہ حسین کے جانے سے صرف ایک انسان نہیں گیا، بلکہ ایک خواب جو حقیقی تبدیلی کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا تھا اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW