میرے مطابق

آف لوڈِنگ اور ٹریفک قوانین پر عملدرآمد

abdul waheed khan

وطن عزیز پاکستان کے مختلف ائرپورٹس پر بیرونِ ممالک جانے والوں کو مختلف جائز یا ناجائز وجوہات کی بنا پر آف لوڈ کیے جانے کی شد و مد کے ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا پر حاوی خبروں کا شورو غوغا کم نہیں ہوا تھا کہ سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں ٹریفک آرڈیننس کے ذریعے ٹریفک قوانین اور نظم و نسق کو ٹھیک کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر ایسے آپریشن کا آغاز کیا گیا کہ عوام جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے ہاتھوں تنگ تھے کی چیخیں نکلوا دی گئیں جس کی وجہ رکشوں اور موٹرسائیکلوں کے بے دریغ چالان، بھاری بھرکم جرمانے، گاڑیوں کی تھانوں میں بندش اور ڈرائیوروں کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آرز کا اندراج تھا اور جو لوگ اس سے متاثر ہوئے ان کی حالت اور حالات دیکھ کر قاعدے، قانون و آئین کا احترام کرنے والوں کو بھی کہنا پڑا کہ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے میں ذرا ہاتھ ہولا رکھیں تو بہتر ہے کہ عوام پہلے ہی کئی قسم کی مشکلات کا شکار ہیں تو ایسے میں راتوں رات اچانک سے جرمانوں میں بیش بہا اضافہ اور ٹریفک قوانین میں بہت بڑی تبدیلی جن پر پلک جھپکتے عمل در آمد کی کاوشیں نہ صرف عوام الناس بلکہ نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد کو موجودہ حکمرانوں کے خلاف لا کھڑا کرے گی۔ اگرچہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد سے پہلے ضروری تھا کہ نئے ٹریفک آرڈیننس کی بڑے پیمانے پر عوام الناس کی آگاہی کے لئے مناسب تشہیر کی جاتی اور پھر بات صرف جرمانے تک ہوتی اور وہ بھی مناسب رقم ہو لیکن جس طرح سے عوام پر بے دریغ یلغار کی گئی ہے بجا طور پر قابل مذمت ہے اور یہ بھی دیکھا جائے کہ عوام الناس کے لئے دُور و نزدیک شہری اور دیہی علاقوں میں کون سی سفری سہولیات یا ٹرانسپورٹ مہیا کی گئی ہے۔

اسی طرح سڑکوں کی حالت زار یا سرے سے دیہی علاقوں بالخصوص دور دراز دیہات اور ڈھوکوں تک سڑکوں کا موجود ہی نہ ہونا بھی اپنی جگہ سوالیہ نشان ہیں لیکن اس سب کے باوجود بہرحال ٹریفک قوانین کا مکمل نفاذ اور پھر اِن قوانین پر مکمل عملدرآمد بھی بہت ضروری ہے تا کہ آئے روز ٹریفک حادثات اور ان حادثوں کی وجہ سے قیمتی جانوں کے ضیاع بالخصوص ون ویلنگ، تیز رفتاری، موٹرسائیکل ریس کی بدولت بڑھتے حادثات میں نوعمر نوجوانوں کو موت کے منہ میں جانے سے بچایا جا سکے۔ بدقسمتی سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر جس طرح دھڑا دھڑ نوجوانوں اور کم عمر لڑکوں پر ایف آئی آرز دی گئیں کی وجہ سے عوام بیچارے کسے وکیل کریں اور کس سے منصفی چاہیں جیسی صورتحال سے دوچار ہوئے جس پر بجا طور پر تنقید بھی ہوئی تو وزیر اعلیٰ پنجاب نے ایف آئی آرز کے اندراج سے پولیس کو روک دیا لیکن ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد بدستور جاری ہے جو کہ بہت ضروری ہے۔

ایف آئی آرز کے اندراج پر تنقید کرتے ہوئے گزشتہ دو دہائیوں سے زائد برطانیہ میں مقیم ایک دوست ملک ناہید احمد اعوان جو اٹک کی معروف سماجی و سیاسی شخصیت ہیں اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں یوں لکھتے ہیں ”چند مہینے پہلے برطانیہ میں گاڑی چلاتے ہوئے 30 کی سپیڈ والے روڈ پر میں 36 کی سپیڈ پر جا رہا تھا، سمجھ نہیں آئی لیکن چند دن بعد ایک خط گھر پر آ گیا کہ فلاں علاقے میں اتنے بج کر اتنے منٹ پر تمھاری گاڑی اوور سپیڈنگ میں ملوث پائی گئی ہے، براہ مہربانی جو شخص گاڑی چلا رہا تھا اس کی تفصیلات ہمیں بھیج دیں، مجھے پتہ تھا کہ ان کے پاس تصاویر بھی ہوتی ہیں، اگر میں اپنا نام نہ بھی دیتا تو اُن کو پتہ ہوتا ہے کہ ڈرائیور کون تھا لیکن وہ ثبوت صرف عدالت میں پیش کرتے ہیں۔ خیر میں نے اپنی مکمل تفصیل بھیجی تو چند دن بعد دوسرا خط موصول ہوا کہ شکریہ آپ نے تفصیل دے دی۔ اب آپ کے پاس دو آپشن ہیں یا تو جرمانہ دیں جو کے 100 پاونڈز ہو گا اور لائسنس پر پوائنٹ بھی لگ سکتے ہیں، یا پھر آپ ایک دن کا ڈرائیونگ بہتر کرنے والا کورس کر لیں جس پر آپ کا سو پاونڈ لگے گا۔

میں نے دوسرا آپشن لکھ کر بھیج دیا جس پر مجھے ایک دن کے لیے ایک جگہ بلایا گیا اور اوور سپیڈنگ کے نقصانات پر مجھے ایک دن میں اتنی تربیت اور ٹریننگ دی گئی کہ میں واپسی پر پیدل بھی آرام آرام سے چل رہا تھا۔ شاید وہاں پر مقصد عوام کی تربیت کرنا ہے نہ کہ جرمانے کے نام پر عوام کو لُوٹنا ہے۔ ہمارے ہاں تربیت تو سرے سے دی ہی نہیں جاتی ابتدا ہی جرمانے اور ایف آئی آر سے ہوتی ہے ”

ملک ناہید کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ یہاں برطانیہ میں ٹریفک قوانین پر نہ صرف بہت سختی سے عملدرآمد کروایا جاتا ہے بلکہ جا بجا جدید ٹیکنالوجی کے حامل ایسے کیمرے بھی نصب ہوتے ہیں جو گزرنے والی گاڑیوں کو مانیٹر کرنے کا فریضہ بخوبی سرانجام دیتے ہیں اور مخصوص سائن بورڈز کی مدد سے نہ صرف کیمرے کی موجودگی سے پہلے آگاہ کیا جاتا ہے بلکہ روڈز پر سامنے سائن بورڈز کے ساتھ ساتھ روڈز کے اوپر لائنوں اور نشانات کے ذریعے بھی ڈرائیورز کی آگاہی کے لئے مختلف پیغام درج کیے جاتے ہیں تاکہ حادثات سے بچا جا سکے۔

گزشتہ دنوں برطانیہ کے دوسرے نمبر پر بڑے کثیر الثقافتی شہر برمنگھم میں 27 ایسے بڑے روڈز پر حدِ رفتار کو 40 میل فی گھنٹہ سے کم کر کے 30 میل کر دیا گیا ہے اور حکام کا خیال ہے کہ حدِ رفتار کم کرنے سے خطرناک روڈ حادثات میں پچاس فیصد کمی واقع ہو گی۔ یہاں برطانیہ میں گاڑی کے روڈ ٹیکس اور انشورنس کے ساتھ ساتھ سالانہ فٹنس سرٹیفکیٹ کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے جبکہ بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی چلانے کا تصور بھی محال ہے اور ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لئے بھی باقاعدہ ڈرائیور ہونا ضروری ہے لیکن انتہائی سخت گیر قسم کے ٹریفک قوانین کے باوجود بھی نہ صرف یہاں بھی حادثات ہوتے ہیں اور لوگ قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب بھی ہوتے ہیں لیکن جب پکڑے جائیں تو پھر جرم کی نوعیت کے مطابق سزا سے نہیں بچ سکتے۔

برطانیہ میں پرائمری سکول کے بچوں کو روڈ کراسنگ اور ٹریفک کے اشاروں و دیگر ابتدائی قوانین سے آگاہی ابتدائی کلاسوں سے ہی سکھائی جاتی ہے اِس ضمن میں جہاں پاکستان میں بھی لوگوں کو اور بالخصوص سکول و کالجز کے طلبا و طالبات کو ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی دینا ضروری ہے وہیں پر سڑکوں کی حالتِ زار اور سفری سہولیات کی بہتری بھی وقت کا تقاضا ہے جس کے لئے بڑے شہروں کے علاوہ چھوٹے شہروں اور دُور دراز کے دیہات کی طرف بھی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے لیکن شاید اِن سے بھی پہلے پاکستانی ائرپورٹس پر مسافروں کی آف لوڈنگ کا مسئلہ ہو یا صوبہ پنجاب میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کی صورتحال ہو یقیناً اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ سرکاری سطح پر رشوت خوری کے خاتمہ کے ساتھ ساتھ عام اور غریب عوام کی عزتِ نفس کی پامالی کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات بھی وقت کی ضرورت ہیں ورنہ سب کہانیاں ہیں۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW