خودکشی ایک سماجی عمل یا ذاتی قدم؟
ارسطو کے مطابق انسان معاشرتی حیوان ہے ”
انسان کو زندہ رہنے اور بقا کی جنگ لڑنے کے لئے معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے اسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جن سے کم از کم اسے بوقت ضرورت جذباتی سہارا مل سکے لیکن المیہ یہ ہے لوگوں کی اس بھیڑ میں فی زمانہ انسان تنہا ہے اسے جذباتی سہارا تو دور اپنے دکھ سکھ کو بانٹنے کے لئے بھی کوئی میسر نہیں آتا اور اس کا نتیجہ ذہنی دباؤ کی صورت نکلتا ہے۔ متعدد واقعات میں اس کا انجام خودکشی جیسا فعل انجام دینے پر ہوتا ہے۔
دنیا میں ہر سال متعدد افراد خودکشی کا شکار ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق دنیا میں ہر 100 میں سے ایک موت خودکشی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان میں ابھی تک خودکشی سے ہونے والی اموات کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی خاطر خواہ اعداد و شمار اب تک جاری نہیں کیے جا سکے ہیں تاہم ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر روز تقریباً 53 افراد خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں خودکشی سے متاثرہ افراد میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے۔ نوجوان کسی بھی ملک کی ترقی کی ضمانت ہیں اگر وہی ایسے اقدام اٹھاتے نظر آئیں تو یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔
خودکشی کے حوالے سے ایمائل درخیم اپنی کتاب ”خودکشی“ میں لکھتا ہے کہ خودکشی ایک نفسیاتی عمل سے زیادہ ایک سماجی عمل ہے۔
سوال یہ اٹھتا ہے آخر ایسی کون سی وجوہات ہیں جو ایک انسان کو اپنی ہی زندگی ختم کرنے پہ مجبور کر دیتی ہیں۔ اس فعل کے پیچھے آخر کون سے محرکات ہیں جو ایک جیتے جاگتے شخص کو اپنی زندگی ختم کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ وہ کون سی وجوہات ہیں جو تین بچوں کے باپ کو خودکشی جیسا عمل کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
ہم میں سے اکثریت کی رائے یقیناً پاکستان کے معاشی مسائل ہوں گے، یا نوجوانوں کی خودکشی کے متعدد واقعات میں محبت میں ناکامی بھی ایک اہم وجہ سامنے آتی ہے جو یقیناً ایک وجہ ہے۔
لیکن اس رجحان کی ایک اور وجہ ذہنی دباؤ، ڈپریشن، اور نفسیاتی مسائل بھی ہیں جن پر بات کرنا آج بھی ہمارے معاشرے میں پسند نہیں کیا جاتا ہے اور درحقیقت انھیں مسائل کی وجہ سے ایک انسان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔
ذہنی دباؤ کی وجہ سے خودکشی کا رجحان ہمارے معاشرے کا ایسا تاریک پہلو ہے جس پر بات کرنا آج بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔
خودکشی کے متعدد واقعات میں لواحقین اس بات کو چھپانا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں بجائے بتانے کہ متاثرہ شخص نے ایسا قدم اٹھایا کیوں؟ تاکہ مستقبل میں کسی اور جان کے ضیاع کو روکا جا سکے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے آج بھی یہاں ہمارے علماء ایسے شخص کا جنازہ پڑھنے میں تذبذب کا شکار ہیں جس نے خود اپنی جان لی ہو۔
ذہنی دباؤ یا ڈپریشن صرف ان لوگوں میں نہیں ہوتا جو اپنی زندگی کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ حاصل کر پائے ہوں بالکل اس کا تناسب بظاہر ہر طرح سے کامیاب لوگوں میں میں بھی زیادہ نظر آتا ہے۔
حال ہی میں اس قسم کا واقعہ ایس پی عدیل اکبر کی مبینہ طور پر ہونے والی خودکشی ہے۔ اس سے پہلے متعدد سول سرونٹس کی خودکشی کے کیسز اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بظاہر ہر طرح سے کامیاب ہونے کے باوجود بھی انسان اپنے نفسیاتی امراض کے ہاتھوں مجبور ہو کر انتہائی قدم اٹھا سکتا ہے
نوجوانوں میں اس کی بنیادی وجہ والدین کی طرف سے تعلیمی میدان میں امتیازی نمبروں کے حصول کا دباؤ بھی ہے۔ مزید برآں کچھ واقعات میں پسند کی شادی نہ ہونا بھی ایک اہم وجہ سامنے آتی ہے۔
متعدد واقعات میں خواتین نے بھی اپنی جان لینے کی کوشش کی ہے خواتین میں اس رجحان کی بنیادی وجہ گھریلو ناچاقیاں اور سسرالی رشتے داروں کی طرف سے ملنے والی ذہنی اذیت نمایاں عوامل ہیں۔
سوال یہ ہے اس قسم کے واقعات ہمارے معاشرے میں روز بہ روز بڑھتے کیوں جا رہے ہیں اور ان کی روک تھام کیسے ممکن ہے؟ بدقسمتی سے سرکاری سطح پر اس بارے میں سنجیدگی سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں اور پرائیویٹ سیکٹر بھی اس طرف کم ہی توجہ دیتا نظر آتا ہے۔
ان واقعات کے بڑھنے کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے ہمارے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اس بارے میں کوئی آگاہی فراہم نہیں کی جا رہی اور آج جو نسل ہمارے سامنے موجود ہے وہ انتہا کی جذباتی ہے انھیں کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کی بجائے فرار زیادہ بہتر لگتا ہے اس کی بنیادی وجہ ان کو ڈگریوں کے حصول میں لگا کر زندگی کے بنیادی مسائل سے نبردآزما ہونے کی تربیت کا فقدان ہے۔
ضروت اس امر کی ہے نہ صرف سرکاری سطح پر بلکہ عوامی سطح پر اس مسئلے پر سنجیدگی سے اقدامات اٹھائے جائیں۔ نہیں تو وہ وقت دور نہیں جب یہاں ہر کوئی زندہ رہنے کے اسباب تلاش کرنے کے بجائے خودکشی کے آسان طریقے ڈھونڈے گا۔
خدا کرے وہ دن کبھی نہ آئے۔


واہ واہ!
الفاظ کا چناؤ نہیں کیا جارہا کہ کیسے تعریف کروں! 😍🔥
زندگی اور موت دونوں نعمتیں ہیں ایسے ۔ زندگی کے حق کی طرح موت کے حق کو بھی انسان کے بنیادی حقوق کے چارٹر میں جگہ دی جانی چاہئیے۔
آپ ہی جو ٹیچر حضرات ہیں بچے کا رجحان چینج کر سکتے/سکتی ہیں کیونکہ یہ ٹائم بنیادی مرحلہ ایک نازک پہلو ہے یہاں سے ہی بچا سیکھتا ہے اور اس چیز / نظریے کو سامنے رکھ کر پروان چڑھتا وغیرہ وغیرہ