میرے مطابق

بشیر بدر: اردو غزل کو جدید آہنگ دینے والا عہد ساز شاعر

ghulam shabbir

اردو ادب کی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جو محض شاعر یا ادیب کی حیثیت سے نہیں، بلکہ ایک عہد کی علامت کے طور پر یاد رکھے جاتے ہیں۔ ان کی تخلیقات اپنے زمانے کی حدود سے نکل کر آنے والی نسلوں کے لیے بھی رہنمائی اور جمالیاتی آسودگی کا سامان فراہم کرتی ہیں۔ بشیر بدر بھی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے اردو غزل کو نئی زبان، نئی حسیت اور جدید طرزِ اظہار سے آشنا کیا۔ ان کی وفات اردو ادب کے ایک درخشاں باب کے اختتام کے مترادف ہے، تاہم ان کا کلام آنے والی صدیوں تک اردو زبان و ادب کے دامن کو منور کرتا رہے گا۔

بشیر بدر 1935 ء میں ایودھیا میں پیدا ہوئے، جو اس زمانے میں برطانوی ہندوستان کے متحدہ صوبوں کا حصہ تھا۔ ان کا اصل نام سید محمد بشیر تھا۔ بچپن ہی سے ان میں شعری ذوق نمایاں تھا اور انہوں نے محض سات برس کی عمر میں اپنا پہلا شعر کہہ لیا تھا۔ 1946 ء میں اٹاوہ میں منعقد ہونے والے ایک آل انڈیا مشاعرے میں انہوں نے پہلی مرتبہ اپنا کلام عوام کے سامنے پیش کیا۔ اسی مشاعرے میں انہیں ”بدر“ کا تخلص عطا کیا گیا، جو بعد ازاں ان کی شناخت بن گیا۔

تعلیمی اعتبار سے بھی بشیر بدر غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سے لے کر ڈاکٹریٹ تک کا سفر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں طے کیا۔ یہ ادارہ نہ صرف ان کی علمی تربیت کا مرکز بنا بلکہ ان کی فکری اور ادبی شخصیت کی تشکیل میں بھی بنیادی کردار ادا کرتا رہا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اسی جامعہ میں تدریسی فرائض انجام دینے لگے۔ بعد ازاں میرٹھ کالج میں شعبۂ اردو کے سربراہ مقرر ہوئے اور سترہ برس تک اس منصب پر فائز رہے۔

بشیر بدر کی شاعری کا سب سے نمایاں وصف اس کی سادگی اور عام فہم زبان ہے۔ انہوں نے اردو غزل کو محض خواص کی محفلوں تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ اسے عام قاری کے دل کی آواز بنا دیا۔ اگرچہ وہ کلاسیکی روایت سے پوری طرح واقف تھے، لیکن انہوں نے غزل کو نئی سماجی اور نفسیاتی جہتیں عطا کیں۔ ان کے ہاں محبت، تنہائی، انسانی رشتے، سماجی نا انصافیاں اور زندگی کے تلخ و شیریں تجربات نہایت دلنشیں انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔

اردو غزل پر میر تقی میر اور مرزا غالب کے اثرات ہمیشہ سے غالب رہے ہیں۔ ان دونوں عظیم شاعروں کی زبان میں فارسی تراکیب اور کلاسیکی رنگ نمایاں تھا۔ بشیر بدر نے اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں روزمرہ زندگی کی زبان شامل کی۔ ان کے اشعار میں وہ سادگی ملتی ہے جو عام آدمی کے دل تک براہِ راست پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بے شمار اشعار ضرب المثل کا درجہ اختیار کر گئے اور عوام و خواص میں یکساں مقبول ہوئے۔

میرٹھ میں قیام کے دوران ان کی ملاقات معروف مؤرخ پروفیسر عرفان حبیب سے ہوئی۔ عرفان حبیب کے مطابق بشیر بدر کی رومانوی اور سماجی شعور سے بھرپور غزلوں نے انہیں پورے برصغیر کے مشاعروں میں غیر معمولی شہرت عطا کی۔ وہ مسلسل سفر کرتے، مشاعروں میں شرکت کرتے اور سامعین سے داد وصول کرتے رہے۔ ان کی شخصیت اور اندازِ ترنم بھی ان کی مقبولیت کا اہم سبب تھے۔

سن 1986 ء کے فرقہ ورانہ فسادات ان کی زندگی کا ایک المناک موڑ ثابت ہوئے۔ میرٹھ کے علاقے شاستری نگر میں واقع ان کے گھر پر حملہ ہوا جس سے انہیں شدید ذہنی صدمہ پہنچا۔ اس واقعے نے ان کے دل پر ایسے گہرے نقوش چھوڑے کہ انہوں نے میرٹھ چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا اور بھوپال منتقل ہو گئے، جہاں ان کی اہلیہ کا خاندان مقیم تھا۔ اسی سانحے کے پس منظر میں ان کا یہ شہرۂ آفاق شعر تخلیق ہوا:

لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں

یہ شعر محض ایک ادبی تخلیق نہیں بلکہ انسانی المیے کا ایسا نوحہ ہے جو ہر دور میں اپنی معنویت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

بشیر بدر نے اردو اور ہندی دونوں زبانوں میں قابلِ قدر ادبی سرمایہ چھوڑا۔ ان کے شعری مجموعوں میں ”اکائی“ ، ”آمد“ ، ”آہٹ“ ، ”اجالے اپنی یادوں کے“ اور ”کلیاتِ بشیر بدر“ خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری میں محبت کی لطافت اور زندگی کی تلخی دونوں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ان کا اندازِ بیان نہایت سادہ مگر اثر انگیز ہے، جس کے باعث ان کے اشعار عوامی حافظے کا حصہ بن گئے۔

شاعری کے ساتھ ساتھ بشیر بدر نے تنقید کے میدان میں بھی اہم خدمات انجام دیں۔ ان کی کتاب ”آزادی کے بعد اردو غزل کا تنقیدی مطالعہ“ اردو تنقید میں ایک اہم اضافہ سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح ”بیسویں صدی میں غزل“ اردو غزل کے ارتقا اور رجحانات کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔ ان تصانیف سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ صرف شاعر ہی نہیں بلکہ ایک سنجیدہ محقق اور نقاد بھی تھے۔

ان کی علمی عظمت کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ طالب علمی کے زمانے میں ہی ان کا کلام نصاب کا حصہ بن چکا تھا۔ ان کے صاحبزادے طیب بدر نے ایک واقعہ بیان کیا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایک زبانی امتحان کے دوران ممتحن نے ان سے ان کے ہی شعر کا مفہوم پوچھا۔ جب بشیر بدر نے اپنی تشریح پیش کی تو ممتحن نے اس سے اختلاف کیا، حالانکہ وہ اس شعر کے خالق خود تھے۔ یہ واقعہ نہ صرف دلچسپ ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ ادب کی تعبیرات مختلف ہو سکتی ہیں۔

بشیر بدر کے متعدد اشعار عوامی سطح پر غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا ایک معروف شعر ہے :

دشمنی جم کر کرو لیکن یہ گنجائش رہے
جب کبھی ہم دوست ہو جائیں تو شرمندہ نہ ہوں

یہ شعر انسانی تعلقات میں اعتدال، شائستگی اور اعلٰی ظرفی کا پیغام دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس شعر کو سیاسی اور سماجی حلقوں میں بھی بارہا نقل کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ 1972 ء میں شملہ معاہدے کے موقع پر ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اس شعر کا حوالہ دیا تھا۔

ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انہیں 1999 ء میں پدم شری ایوارڈ سے نوازا۔ یہ اعزاز اس بات کا اعتراف تھا کہ بشیر بدر نے اردو ادب، بالخصوص غزل، کو نئی زندگی اور نئی توانائی عطا کی۔ ان کی شاعری نے سرحدوں، زبانوں اور نسلوں کی تفریق سے بالاتر ہو کر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنائی۔

زندگی کے آخری برسوں میں وہ پارکنسن اور ڈیمنشیا جیسے عوارض میں مبتلا رہے اور تقریباً ایک دہائی تک بسترِ علالت پر رہے۔ تاہم جسمانی کمزوری ان کے ادبی مقام کو متاثر نہ کر سکی۔ ان کی شاعری پہلے کی طرح مقبول رہی اور نئی نسل بھی ان کے اشعار سے اسی طرح لطف اندوز ہوتی رہی جیسے ان کے معاصرین ہوتے تھے۔

ان کے انتقال پر معروف شاعر و نغمہ نگار جاوید اختر نے کہا کہ آج اردو زبان کچھ اور غریب ہو گئی ہے۔ یہ جملہ درحقیقت پوری اردو دنیا کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ بشیر بدر کی رحلت ایک ایسے شاعر کی جدائی ہے جس نے محبت، انسانیت، رواداری اور حسنِ اظہار کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا اور انہیں دلوں تک پہنچایا۔

بشیر بدر اب ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی شاعری آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گی۔ جب تک اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی رہے گی، ان کے اشعار لوگوں کے دلوں میں گونجتے رہیں گے۔ اردو ادب کی تاریخ میں ان کا نام ایک ایسے شاعر کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے روایت اور جدت کے درمیان ایک خوبصورت پل تعمیر کیا اور غزل کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے اس کی اصل روح کو برقرار رکھا۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Salim Haidrani
Salim Haidrani
1 hour ago

Thank you 🙏

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW