میرے مطابق

لمحہ فکریہ

samira zaheer

‎‎‎رب کریم کی عطا کردہ نعمتوں میں زندگی سب سے خوبصورت نعمت ہے پھر کیا وجہ ہے ہمارے معاشرے میں خودکشی کا تناسب دن بدن بڑھتا جا رہا ہے۔

‎حال ہی میں پاکستان کی ایک نجی یونیورسٹی میں دو طلباء نے اپنی جان لینے کی کوشش کی۔ بدقسمتی سے ایک جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

‎‎پاکستان میں اموات کی چوتھی بڑی وجہ خودکشی ہے جس میں 70 فیصد 15 سے 29 سال کے نوجوانوں کی ہے۔ ‎یہ ایک المناک صورتحال ہے کسی ملک کے نوجوان اپنی زندگی کو اتنا ارزاں سمجھ رہے ہوں۔

‎اس کی بنیادی وجوہات میں معاشرتی دباؤ کے ساتھ ذہنی دباؤ بھی ہے۔

‎‎یہاں ہر 4 میں سے 1 شخص کسی نہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہے اور اس پہ ستم یہ ہے اس کا علاج کروانا باعث شرمندگی سمجھا جاتا ہے۔

‎ ہمارے ہاں عمومی تاثر یہی ہے اگر ایک انسان کسی ماہر نفسیات کے پاس جا رہا ہے تو وہ پاگل ہے اب لوگوں کی باتوں سے بچنے کے لئے انسان اپنا علاج کروانے سے بھی گریزاں ہوتا ہے۔
‎حالانکہ یہ بات سمجھنے کی انتہائی ضرورت ہے ہمارا دماغ بھی ہمارے جسم کا حصہ ہے اسے بھی علاج کی ضرورت ہو سکتی ہے۔
‎اب یہاں سوال یہ ہے آخر یونیورسٹی کے طلباء میں قوت برداشت کیوں ختم ہو چکی ہے۔ کیوں ہماری نوجوان نسل اپنی زندگی کو اتنا کم مایہ سمجھ رہی ہے۔

‎‎سب سے پہلی وجہ والدین کی طرف سے دباؤ ہے اور دوسری بنیادی وجہ وسائل کی کمی یا عدم دستیابی ہے بد قسمتی سے وطن عزیز میں ہر ایک کو ترقی کے یکساں مواقع نہیں مل پا رہے ہیں جس کی وجہ سے نوجوانوں میں ذہنی دباؤ اور ڈپریشن بڑھ رہا ہے۔

‎‎نوجوان نسل کسی بھی ملک کا اثاثہ ہوتی ہے کیوں کہ آگے جا کر ملک کی باگ ڈور انھیں ہی سنبھالنی ہوتی ہے اگر وہی اپنی جان لینے کے در پہ ہو تو یہ ریاست کی نہ صرف ناکامی ہے بلکہ ہے اس کی نا اہلی کو بھی ثابت کرتی ہے۔

‎‎اب سوال یہ ایسے کون سے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جس سے آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔

‎سب سے پہلے یہ ذمہ داری اساتذہ اور والدین پر عائد ہوتی ہے۔ بچے اور والدین میں کمیونیکیشن گیپ کو ختم کرنا ہو گا جو ہمیشہ سے ہمارے معاشرے کا المیہ رہا ہے بالکل یہی حال استاد اور طالب علموں کے ساتھ ہے زیادہ تر طلبہ اپنے مسائل اساتذہ کو بتانے سے جھجکتے ہیں بعض واقعات میں اس کی وجہ استاد بھی ہیں کیوں کہ وہ طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں سمجھتے۔

‎‎سب سے بنیادی ذمہ داری ریاست پہ عائد ہوتی ہے اس کے لئے پورے ملک میں نظام تعلیم کو یکساں کیا جائے کیوں کہ متعدد واقعات میں طلبہ میں خودکشی کی ایک وجہ بروقت فیس کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔ ایسا اس لئے ہے بعض والدین اپنے بچوں کو ایسی درسگاہوں میں داخل کروا دیتے ہیں جن کے اخراجات ان کی پہنچ سے دور ہیں ظاہر ہے وہ ایسا بچے کے بہتر مستقبل کے پیش نظر ہی کرتے ہیں لیکن وہاں جا کے جو دباؤ اس بچے کو سہنا پڑتا ہے وہ اس کی موت کی وجہ بن جاتا ہے۔

‎‎ضرورت اس امر کی ہے ان واقعات کو سنجیدگی سے لیا جائے اور اس کی روک تھام کے ریاستی سطح پر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ ‎اگر ایسا نہ کیا تو وہ وقت دور نہیں جب ہم سب کو صرف جائے فرار موت کی صورت میں ہی نظر آئے گا۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW