میرے مطابق

بی بی نور اسکالرشپ: تعلیم، خدمت اور ماں سے محبت کی کہانی

ihtisham ur rehman baybak

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی اور کامیابی کی بنیاد ہے۔ معاشروں کی تعمیر، معیشت کی مضبوطی، سب کچھ تعلیم سے جڑا ہوا ہے۔ دنیا کی کوئی بھی قوم جدید تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتی۔ آج کے دور میں یہ حقیقت عیاں ہے کہ تعلیم کے بغیر نہ علاج و معالجہ ممکن ہے اور نہ ہی ٹیکنالوجی کا استعمال۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں حکومتی سطح پر تعلیم کے لئے وہ سنجیدگی دیکھنے کو نہیں ملتی جو کسی بھی قوم کی ترقی کے لئے ناگزیر ہوتی ہے۔ ایسے حالات میں نجی ادارے، فلاحی تنظیمیں اور شخصیات امید کی کرن بن کر سامنے آتے ہیں، جو اپنے سرمایہ اور خلوص سے قوم کے مستقبل کو سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں۔

گلگت بلتستان کے شیراز اور ان کے والد کی طرف سے اسکول کی تعمیر، کراچی کے شہزاد رائے کی تعلیمی کاوشیں، اور چترال کے قاری فیض اللہ و صفیرہ صاحبہ کے عملی اقدامات تعلیم سے محبت کی روشن مثالیں ہیں۔ انہی میں چترال کا ایک اور سپوت بھی شامل ہے جس نے اپنی والدہ کی یاد اور تعلیم سے محبت کو نئی جہت دے کر ”بی بی نور اسکالرشپ“ کا آغاز کیا ہے، جو آنے والے دنوں میں منفرد پہچان اختیار کرے گا۔

کہانی کچھ یوں ہے کہ آج سے تین سال قبل ایک نوجوان الخدمت اسکول قتیبہ کیمپس میں آیا۔ انہوں نے پرنسپل سے ملاقات کی اور اپنا تعارف کرایا: ”میرا نام نور الدین جلال ہے۔ اس ادارے کا طالب علم رہا ہوں۔ دوران طالب علمی میری والدہ وفات پا چکی تھی۔“ پرنسپل اور اس نوجوان کی گفتگو ایک اسکالرشپ پروگرام کی تشکیل پہ منتج ہو جاتی ہے اور نوجوان اس چاہت کا اظہار کرتے ہیں کہ ان کی والدہ کے نام پر اسی اسکول کے ذریعے ایک اسکالرشپ کا آغاز کیا جائے۔ یہ بات پرنسپل اخلاق الدین قاضی صاحب کے لئے نہ صرف انوکھی تھی بلکہ حیران کن بھی، کیونکہ ہمارے معاشرے میں تعلیم کے لئے ایسی سوچ رکھنے والے بہت کم ملتے ہیں۔

قاضی صاحب اور نورالدین صاحب مشاورت اور منصوبہ بندی کے بعد مختصر وقت میں ”بی بی نور اسکالرشپ“ کا آغاز کرتے ہیں۔ مجھے بھی پہلے پروگرام میں شرکت کا موقع ملا۔ اس وقت مجھے اسکالرشپ سے زیادہ پروگرام کی ترتیب اور اسکول کے طلبہ کی صلاحیتوں نے متاثر کیا۔ پروگرام کے بعد ایک دوست نے کہا کہ پرنسپل صاحب نے اسکالرشپ شروع کرا کے کمال کیا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ جو شخص طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا ہنر جانتا ہو، اس کے لئے اسکالرشپ لانچ کرانا کوئی بڑی بات نہیں۔

اب آتے ہیں اسکالرشپ کی جانب: ابتدا میں یہ اسکالرشپ صرف اسکول کی سطح پر بچیوں تک محدود تھی، مگر اس سال اس کا دائرہ کار بڑھا کر چترال کے مختلف علاقوں تک پھیلایا گیا، جو نہایت خوش آئند قدم ہے۔ امسال نورالدین جلال صاحب نے اپنے دادا کے نام پر (جن کے ساتھ وہ چترال ٹاؤن میں رہ کر قتیبہ اسکول میں تعلیم حاصل کرچکے تھے ) بچوں کے لیے بھی ”دست آمان اسکالرشپ پروگرام“ کے نام سے اس کا دائرہ مزید وسیع کیا۔

ان پروگرامز میں مختلف کلسٹرز شامل ہیں، مثلاً دروش، لوٹکوہ، کریم آباد، چترال اور کالاش کمیونٹی کلسٹر۔ اپنے اپنے کلسٹر میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات کو نقد انعامات دیے جاتے ہیں، جبکہ قتیبہ کیمپس کے لیے الگ اسکالرشپس مختص ہیں۔ اسکول میں پہلی پوزیشن کے لیے ایک لاکھ روپے، دوسری کے لیے پچھتر ہزار، اور تیسری کے لیے پچاس ہزار روپے رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح اپنے کلسٹر میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ و طالبات کو بھی پچھتر ہزار روپے کے نقد انعامات دیے جاتے ہیں۔

اس اسکالرشپ کے دو بنیادی پہلو ہیں۔ پہلا پہلو اس کے لئے مالی وسائل فراہم کرنا ہے، جو کہ دراصل صدقہ کی ایک صورت ہے۔ دوسرا پہلو ان وسائل کو ان کے اصل مستحقین تک پہنچانا ہے۔ فنانسنگ کا صالح عمل نورالدین جلال صاحب نے اپنی آمدنی کا خاص حصہ وقف کر کے کیا، اور اس مستحسن کام کو مستحقین تک پہنچانے کا نیک عمل اخلاق قاضی صاحب نے سرانجام دیا۔

یقیناً یہ ایک نیک اور صالح قدم ہے۔ تاہم یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ہر اچھے عمل میں مزید بہتری کی گنجائش ہوتی ہے۔ اس ضمن میں چند گزارشات پیش ہیں :

اول، اس اسکالرشپ کو صرف میٹرک میں اچھے نمبر لینے والوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ غریب طلبہ کے لئے بھی ایک کیٹیگری رکھی جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

دوئم، ایک طالب علم کو 75 ہزار دینے کی بجائے انعامی رقم کم کر کے زیادہ طلبہ کو مستفید کیا جائے۔
سوئم، گورنمنٹ اسکولوں کے طلبہ اور طالبات کے لئے الگ الگ کیٹیگریز متعارف کرائی جائیں۔

چہارم، کلسٹر سسٹم میں دور دراز کے علاقوں جیسے کہ ارندو، شیشی کوہ، وغیرہ کو کالاش ویلیز کے ساتھ ضم کر کے ایک الگ کلسٹر ”وحدت یا سنگم کلسٹر“ کے نام سے بنایا جائے اور وہاں طلبہ و طالبات کو الگ الگ اسکالرشپ دیا جائے تاکہ یہ علاقے بھی مرکزی دھارے میں آ سکیں۔

پنجم، اس اقدام کو مزید موثر بنانے کے لئے ایک مستقل اسکالرشپ فنڈ قائم کیا جائے جس میں اس اسکالرشپ کی رقم اور الخدمت فاؤنڈیشن کا حصہ بھی جمع ہو۔ چند سالوں میں اس فنڈ میں خاطر خواہ بچت ہو گی اور اس سے یہ اسکالرشپ ہمیشہ کے لئے قائم و دائم رہے گا۔

نور الدین جلال صاحب، قاری فیض اللہ صاحب اور صفیرہ صاحبہ جیسی شخصیات نہ صرف قابل تعریف ہیں بلکہ قابل تقلید بھی۔ یہ دوسروں کو بھی یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہوٹل اور دوسرے کاموں کو ترجیح دینے کی بجائے ایسے نیک کاموں میں حصہ ڈالنا چاہیے۔ اسی طرح اخلاق الدین صاحب کی کاوشیں اور کامیابیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جہاں ارادے مضبوط ہوں وہاں ایک ناکام ادارے کو بھی کامیاب کیا جا سکتا ہے۔ یہ تعلیمی اداروں کے سربراہان کے لئے ایک مثال بھی ہے کہ وہ معاشی حالات کا شکوہ کرنے کی بجائے آؤٹ سورس کر کے بھی اپنے اداروں اور طلبہ کے لئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW