میرے مطابق

میں اُڈی اُڈی جاواں ہوا دے نال

Dr Muhammad Shafiq Gill

زندگی جہدِ مسلسل کا نام ہے اور اسی کی ہم سب کو تعلیم اور تربیت دی جاتی ہے۔ جب ہر کوئی آگے بڑھنے کے لئے تگ و دو کرتا ہے تو فطرتاَ مقابلے کی فضا پیدا ہوتی ہے جسے صحتمندانہ مقابلہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کبھی کبھار یہ مقابلہ غیر صحتمندانہ بن جاتا ہے جس سے بے شمار مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ زندگی میں ہمارا ایسے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے جن کی سوچ کا بنیادی محور یہ ہوتا ہے کہ ”میں آگے نہیں بڑھنا چاہتا لیکن آپ سے آگے بڑھنا چاہتا ہوں“ ۔ ایسے لوگ بیک وقت اپنے ارد گرد تمام لوگوں سے مقابلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ سوشل میڈیا نے اردگرد کی حدود لامحدود کر دی ہیں تو ان کا یہ مقابلہ بھی عذاب مسلسل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس چومکھی مقابلے میں منزل کبھی آتی بھی نہیں اور نہ ہی یہ منزل کے متلاشی ہوتے ہیں۔ اس لئے جتنا بھی ایندھن جلا لیں تسکین حاصل نہیں ہوتی بلکہ ہمہ وقت ”ھل من مزید“ کی کیفیت طاری رہتی ہے۔

جیسے جیسے انسان آگے بڑھتا ہے اور چھوٹی بڑی کامیابیاں سمیٹتا ہے، اسے مالی اور مادی فوائد کے علاوہ ایک طمانیت اور خوشی کا احساس بھی ہوتا ہے۔ اپنے آپ کو پسند کرنا اور اپنے آپ سے پیار کرنا بھی ایک فطری انسانی جذبہ ہے۔ ہم سب کے اندر ایک چھوٹی سی نرگس چھپی ہوتی ہے جو ہمیں ہمہ وقت نرگسیت کا شکار رکھتی ہے۔ جب تک یہ نرگس چھوٹی رہتی ہے ہمارے جذبات بھی قابو میں رہتے ہیں۔ نرگس اور نفس جب پھول جائیں تو تباہی کا باعث بنتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ دوران حج شیطان کو کنکر مارتے ہوئے ایک خاتون کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو گئیں اور اپنے جوتے اتار کر شیطان کو مارنا شروع کر دیے۔ لوگوں نے اعتراض کیا تو کہنے لگیں کہ سب پیچھے ہٹ جاؤ، اس کو بھی پتہ چلے کہ سکینہ سیالکوٹی آئی ہے۔

ہماری جاننے والی ایک سکینہ بھی انفرادیت پر یقین رکھتی ہیں۔ وہ موقع بے موقع ہر فورم پر سوال پوچھنا ضروری سمجھتی ہیں جس سے ہر کس و ناکس کو خبر رہتی ہے کہ سکینہ بہت آگے کا سوچتی ہیں۔ اگر وہ کسی گروپ میں شامل نہ ہو سکیں تو ماہی بے آب کی طرح تڑپتی ہیں۔ اپنے سے اوپر والوں کو رام کرنے کے لئے وہ تحائف اور خوشامد کے استعمال میں کبھی بخل سے کام نہیں لیتیں۔ اگر انہیں لگے کہ کوئی اور ایسا کام کر رہا جس میں آگے بڑھنے کے مواقع زیادہ ہیں تو وہ کمال شفقت سے سمجھاتی ہیں کہ ”میں ہوں نہ“ تو پھر آپ کو ٹینشن لینے کی کیا ضرورت ہے۔

ان کی سادہ سوچ کو کچھ یوں بیان کیا جا سکتا ہے
پنج ست مرن گوانڈناں تے رہندیاں نوں تاپ چڑھے
سنجیاں ہو جان گلیاں، وچ مرزا یار پھرے
( پانچ سات ہمسائیاں مریں اور باقیوں کو بخار ہو جائے
گلیاں خالی ہو جائیں اور ان میں مرزا یار پھرے )

اگر کوئی نادان ان کی نیت پر شک کرے تو وہ الحمدللہ اور ماشا اللہ کا مناسب استعمال کر کے منہ توڑ جواب دیتی ہیں اور اسے اسلام کے خلاف سازش سمجھتی ہیں۔ ان کے اردگرد کے لوگ ایک مسلسل اذیت کا شکار رہتے ہیں اور روزانہ کی چخ چخ سے بچنے کے لئے مناسب فاصلہ کی پالیسی رکھتے ہوئے ہر وقت ”آئی بلا ٹال تو“ کا ورد کرتے ہیں تاکہ یہ طوفان کسی اور ساحل سے جا ٹکرائے۔ انہوں نے اپنی ”محنت شاکہ“ (ایسی محنت جو دوسروں کو شاک پہنچائے ) کو ہمیشہ اوپر والے کا کرم قرار دیا ہے اور اس بات پر کبھی تکبر کا اظہار نہیں کیا۔

شمع بھی ایسی ہی ایک شخصیت ہیں جو ہر وقت آسمان کو سیڑھی لگانے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ بہت اوپر جانا چاہتی ہیں۔ ان کے اتنا اوپر جانے سے ہو سکتا ہے زمین پر کچھ سکون کا ماحول پیدا ہو لیکن اوپر والوں کے لئے قیامت سے پہلے قیامت آ سکتی ہے۔ اوپر والوں کی اس پریشانی کو مدنظر رکھتے ہوئے ہماری ان سے یہی گزارش ہے کہ وہ اپنی اوپر جانے کی رفتار تھوڑی کم کر دیں۔ لیکن اپنے خیرخواہوں کے لئے ان کا ایک ہی جواب ہے کہ یہ سب میرے اپنے کنٹرول میں بھی نہیں۔

رَو میں ہے رخشِ عمر، کہاں دیکھیے تھمے
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں

صابر مضطرب، ہمارے ایک اور جاننے والے ہیں جو اپنے تئیں بہت بڑے ”سوشل ورکر“ اور کمیونیٹی لیڈر ہیں۔ اگرچہ وہ صلہ کی تمنا سے بے نیاز ہیں لیکن ”بوٹا بوٹا جانے ہے“ کہ ان کی سماجی (اور ذاتی) زندگی او بی ای ( Order of British Empire) کے حصول کے لئے وقف ہے، جس کے لئے وہ دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ نہ زندگی کا کوئی شعبہ ان کی دسترس سے باہر ہے اور نہ ہی برطانیہ کا طول و عرض۔ دوسری طرف حکومت برطانیہ ہے کہ اس گوہر نایاب کو پہچان ہی نہیں پا رہی جس سے یوکے کی پاکستانی برادری ایک اذیت کا شکار ہے اور جھولی اٹھا اٹھا کر ان کے لئے ”تمغہ گو“ ہے کیونکہ سب کے لئے ”مکتی“ کا یہی ایک راستہ ہے۔ ویسے ہمیں حکومت پاکستان سے بھی یہی اعتراض ہے کہ ان کی خدمات کا اعتراف نہ کر کے وہ بھی ”غفلت جاریہ“ کی مرتکب ہو رہی ہے۔

یہ لوگ کامیابی بیچنے کے ماہر ہوتے ہیں اور سطحی کامیابی کو بھی پالش مار کر ایسا پیش کرتے ہیں کہ اتنا مشکل کام صرف ان کی خصوصی محنت سے ہی ممکن ہوا۔ اسی طرح یہ اپنی ناکامیاں چھپاتے ہیں جس سے عام آدمی کو یہی تاثر ملتا ہے کہ یہ ”خاص“ ہیں اسی لئے ہمیشہ کامیابی ہی ان کا مقدر بنتی ہے۔ عوام بلاوجہ احساس کمتری کا شکار ہو کر اپنے مقدر کو کوس رہی ہوتی ہے۔

کہتے ہیں کہ جلن (معدے کی نہیں ) ہماری قومی بیماری ہے۔ میڈم برفی بھی ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت ہیں جو اوپر سے برف کی طرح ٹھنڈی لیکن اندر سے دہکتی رہتی ہیں۔ اگرچہ یہ ”جیو لیکن جینے نہ دو“ کے اصول پر قائم ہیں لیکن فرق صرف اتنا ہے کہ وہ اپنی اس طاقت سے آگاہ ہیں اور اپنے شکار سے نہ صرف اس کا برملا اظہار کرتی ہیں بلکہ جلن کی اندرونی آگ بجھانے کے وظیفے بھی پوچھتی رہتی ہیں۔ اگرچہ وہ موقع پاتے ہی پھر سے ڈس لیتی ہیں لیکن ان کا یہ ماننا ہے کہ لگاتار وظیفوں کی وجہ سے کافی بہتری ہے ورنہ ان کے اردگرد جو دوچار لوگ سلامت ہیں کب کے نیست و نا بود ہو چکے ہوتے۔

ہمارے ایک ”صدر بالجبر“ ایسے بھی گزرے ہیں جو ہمیشہ ”سب سے پہلے پاکستان“ کا پرچار کرتے جس سے درحقیقت ان کی مراد ”سب سے پہلے پاکستان اور اس سے بھی پہلے میں“ تھی۔ ان کی یہ بات ایک طرح سے ٹھیک بھی تھی کیونکہ انہیں یقین کامل تھا کہ وہ سب سے زیادہ محب وطن ہیں۔ خود اعتمادی کا جب یہ عالم ہو تو عدالت خود بندے سے پوچھتی ہے بتا تیری رضا کیا ہے اور اس نئے ”قوم سدھار“ پروجیکٹ کے لئے ( جس کے بارے میں آپ عجلت میں سوچ بھی نہیں سکے ) آپ کو کتنا عرصہ درکار ہے۔ ان کا یہ بھی فرمانا تھا کہ ”میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں“ ۔ وہ علیحدہ بات ہے کہ بعد میں جب عدالتیں ان کے دیدار کی پیاسی ہوئیں تو وہ بیمار شمار رہنے لگے اور عدالت تک پہنچ ہی نہ پاتے تھے۔ آخر کار ایک دن وہ اپنا معاملہ بڑی عدالت میں لے گئے جہاں راستے میں کوئی ہسپتال نہیں پڑتا۔

عام انسانی قانون، آئین اور اخلاقیات عوامی خدمت کے اس جوش و جذبے کو قابو کرنے میں ہمیشہ بری طرح ناکام رہے ہیں۔ بالآخر مکافات عمل ہی موثر رکاوٹ ثابت ہوتی ہے لیکن تب تک ان میں سے اکثر اپنے اردگرد کے نظام کو تہہ و بالا کر چکے ہوتے ہیں کیونکہ اپنے تئیں وہ بہت اہم خدمت سرانجام دے رہے ہوتے ہیں جس کے لئے ان کی مسلسل اونچی پرواز انتہائی ناگزیر ہے

زد بانگ کہ شاہینم و کارم بہ زمیں چیست
صحرا است کہ دریاست تہ بال و پرِ ماست

ویسے بھی سوچیں اگر عوامی ترقی کے ایسے مصمم منصوبوں کو عدالتوں نے بروقت روک دیا ہوتا تو اب تک ملک کا کیا حال چکا ہوتا۔ اس گھٹن کا احساس ہمیں سنگاپور جاکر ہوا جہاں راہ چلتے سڑک پر نہ چیونگم پھینک سکتے ہیں، نہ نسوار یا پان کی پیک۔ سڑک کنارے کوڑا نہ ہونے کے سبب سٹریٹ فوڈ بالکل بے ذائقہ۔ کچھ ہی دن میں ہم بلبلا اٹھے

سب سے اچھا پاکستان ہمارا

المختصر، اوپر بیان کردہ تمام کردار فرضی ہیں ( مماثلت اتفاقیہ ہوگی) کیونکہ یہ تمام خصوصیات انسانی طبیعت کا جزو لازم ہیں اور کم و بیش ہم سب میں پائی جاتی ہیں۔ فارغ وقت میں (اپنے ہی) گریبان میں جھانکنے سے نئی دنیا سے متعارف ہوا جاسکتا ہے۔ اعتدال انسانی حیات کا حسن ہے جو کہنے کی حد تک آسان ہے درحقیقت ایک پل صراط ہے۔ غالباً اسی لئے تو کہتے ہیں

مرے بغیر تو جنت بھی نہیں ملتی

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW