میرے مطابق

ڈاکٹر عمران فاروق شہید کا قتل اور مصطفی کمال کے الزامات

salman nasim shad

پاکستانی سیاست میں بعض معاملات ایسے ہیں جو وقت کے ساتھ قانونی دائرے سے نکل کر جذباتی نعروں، شخصی نفرت اور سیاسی مفادات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ، الطاف حسین کے خلاف لگائے گئے الزامات، اور ان الزامات کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا سیاسی بیانیہ بھی اسی المیے کی ایک واضح مثال ہے۔

ڈاکٹر عمران فاروق کا قتل لندن کی سرزمین پر ہوا۔ یہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک سنگین فوجداری جرم تھا، جس کی تفتیش برطانیہ کے قدیم، خودمختار اور دنیا بھر میں معتبر ادارے اسکاٹ لینڈ یارڈ نے کی۔ یہ کوئی رسمی یا سرسری کارروائی نہیں تھی بلکہ برسوں پر محیط ایک ہمہ جہت تحقیق تھی، جس میں ہزاروں افراد سے پوچھ گچھ کی گئی، ہزاروں دستاویزات، شواہد، مالی لین دین اور سفری ریکارڈز کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا، اور ہر ممکن پہلو پر تحقیقات کی گئیں۔

اس تمام طویل اور جامع تفتیش کے باوجود، کسی بھی مرحلے پر کسی برطانوی عدالت نے الطاف حسین کو ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کا مجرم قرار نہیں دیا، نہ ہی ان پر فردِ جرم عائد کی گئی۔ یہ حقیقت کسی سیاسی جماعت کا دفاع نہیں بلکہ برطانوی عدالتی ریکارڈ کا حصہ ہے۔

یہاں اسکاٹ لینڈ یارڈ اور برطانوی ریاست کے مزاج کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ برطانیہ وہ ملک ہے جہاں قانون کا اطلاق:

شاہی خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والے افراد پر بھی ہوا
وزرائے اعظم، وزراء اور اعلیٰ حکومتی شخصیات تحقیقات کی زد میں آئیں
عالمی دہشت گردوں، انتہا پسند مبلغین اور غیر ملکی نیٹ ورکس کے خلاف سخت ترین کارروائیاں کی گئیں

ابو حمزہ المصری جیسے خطرناک شدت پسند کو گرفتار کر کے سزا دی گئی اور امریکہ کے حوالے کیا گیا، انجم چودھری جیسے انتہا پسند مبلغ کو طویل قید کی سزا سنائی گئی، متعدد افراد کی شہریت منسوخ کی گئی، اور کئی مشتبہ عناصر کو ملک بدر کیا گیا۔ یہ تمام مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ برطانیہ میں نہ شہرت بچاتی ہے، نہ سیاست، نہ کسی بیرونی دباؤ کا بیانیہ۔

ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہے کہ اگر الطاف حسین واقعی دہشت گرد ہوتے، یا ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں براہِ راست ملوث ہوتے، تو کیا برطانوی ریاست خاموش رہتی؟ کیا اسکاٹ لینڈ یارڈ برسوں کی تفتیش کے بعد محض نظر انداز کر دیتا؟ حقیقت یہ ہے کہ اگر جرم ثابت ہوتا تو کارروائی ضرور ہوتی۔

اسی تناظر میں مصطفیٰ کمال کی جانب سے الطاف حسین پر بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کا ایجنٹ ہونے کا الزام بھی قانونی معیار پر پورا نہیں اترتا۔ برطانوی قانون کے تحت کسی غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کرنا نہایت سنگین جرم ہے۔ ایسے شخص کے خلاف فوری گرفتاری، انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت مقدمہ، شہریت اور رہائش کے حقوق کا خاتمہ اور سخت نگرانی لازم ہوتی ہے۔ اگر الطاف حسین واقعی ”را“ کے ایجنٹ ہوتے تو وہ لندن میں کسمپرسی، تنہائی اور پابندیوں کی زندگی نہ گزار رہے ہوتے، بلکہ سخت ترین قانونی گرفت میں ہوتے۔

یہاں ایک اور اہم تضاد بھی قابلِ توجہ ہے کہ مصطفیٰ کمال ماضی میں ڈاکٹر عمران فاروق کو بھی ”را“ کا ایجنٹ قرار دے چکے ہیں۔ یعنی ایک ہی بیانیے میں مقتول بھی ”را“ کا ایجنٹ، ملزم بھی ”را“ کا ایجنٹ، اور تمام تر الزام آخرکار ایک ہی سیاسی شخصیت پر۔ یہ طرزِ استدلال قانون نہیں بلکہ سیاست ہے۔

یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ ایک وقت میں ریاستِ پاکستان نے ڈاکٹر عمران فاروق کو مطلوب قرار دیا اور ان کے سر کی قیمت مقرر کی گئی۔ مگر سیاسی حالات بدلے تو بیانیہ بھی بدل گیا، اور تمام تر ذمہ داری یک طرفہ طور پر الطاف حسین پر ڈال دی گئی۔

22 اگست کا واقعہ ایک الگ اور سنگین باب ہے۔ پاکستان مخالف نعرہ ناقابلِ دفاع تھا، ریاست نے اس پر سخت ردِعمل دیا اور پابندیاں عائد کیں، جو آج تک برقرار ہیں۔ مگر یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ الطاف حسین نے بارہا ریاستِ پاکستان سے معافی مانگی، اپنے الفاظ کو غلط اور نقصان دہ قرار دیا، اور ندامت کا اظہار کیا۔

ریاست کی طاقت صرف پابندی لگانے میں نہیں بلکہ اصلاح، مکالمے اور قومی مفاد کے لیے راستے نکالنے میں بھی ہوتی ہے۔ الطاف حسین بھی پاکستانی ہیں۔ آج بھی لاکھوں افراد خود کو ان سے سیاسی طور پر وابستہ سمجھتے ہیں، ان کی آواز سننے کے منتظر ہیں، اور ان کی واپسی چاہتے ہیں۔

ریاست کو چاہیے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرے، الطاف حسین کی معافی کو سیاسی کمزوری نہیں بلکہ قومی مفاہمت کا موقع سمجھے، ان کی بات سنے، اور آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے انہیں سیاسی عمل میں واپس آنے کا موقع دے۔

قومیں شور سے نہیں، انصاف، تدبر اور مفاہمت سے آگے بڑھتی ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW