بلاگ

کہاں لکھا ہے کہ خطا صرف عورت کی ہو

جو حق ادا نہ کرے، وہ بھی مجرم ہے

salman nasim shad

کہاں لکھا ہے کہ خطا صرف عورت کی ہو
جو حق ادا نہ کرے، وہ بھی مجرم ہے

ہمارے معاشرے میں شادی کو ایک مقدس بندھن کہا جاتا ہے، مگر اس بندھن کے تقدس کی حفاظت کا سارا بوجھ عموماً عورت کے کندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ مرد اگر اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لے، اگر وہ شوہر ہونے کے تقاضے پورے نہ کرے، تو معاشرہ یا تو خاموش رہتا ہے یا پھر معاملے کو ”قسمت“ کہہ کر ٹال دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا شادی واقعی صرف عورت کے کردار کا امتحان ہے؟

فرض کریں ایک مرد جانتا ہے کہ وہ جسمانی، نفسیاتی یا جذباتی طور پر ازدواجی تعلقات کے قابل نہیں۔ اس کے باوجود وہ شادی کرتا ہے۔ نکاح کے بعد برسوں تک بیوی کو جسمانی قربت سے محروم رکھتا ہے، جذباتی طور پر نظرانداز کرتا ہے، اور اسے محض ایک رسمی رشتے میں قید رکھتا ہے۔ ایسی شادی کو ہم کیا کہیں گے؟ قربانی؟ صبر؟ یا ایک مسلسل ظلم؟

شادی صرف ایک قانونی معاہدہ نہیں، بلکہ ایک مکمل انسانی رشتہ ہے، جس میں محبت، قربت، توجہ اور باہمی حقوق شامل ہوتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی بنیادی حق کو جان بوجھ کر سلب کر لیا جائے، تو وہ رشتہ کاغذی تو رہتا ہے، حقیقی نہیں۔ اور جب رشتہ حقیقی نہ رہے، تو اس کے نتائج بھی غیر معمولی ہوتے ہیں۔

ہمارا سماج اس مقام پر چونک کر جاگتا ہے جب عورت کسی اور مرد سے جذباتی یا جسمانی تعلق قائم کر لیتی ہے۔ تب سوال اٹھتا ہے : ”اس نے ایسا کیوں کیا؟“ مگر اس سوال سے پہلے یہ پوچھنا ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ وہ عورت اس نہج تک پہنچی کیوں؟ برسوں کی تنہائی، محرومی اور جذباتی بھوک کا کوئی حساب نہیں لیا جاتا۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ انسان صرف جسم نہیں، احساسات کا مجموعہ بھی ہے۔ عورت اگر خوبصورت ہو، پڑھی لکھی ہو، باشعور ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خواہشات، محبت اور توجہ سے بے نیاز ہو جائے گی۔ خوبصورتی کوئی جرم نہیں، اور خواہش کوئی فحاشی نہیں۔ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہیں، جنہیں مسلسل دبایا جائے تو وہ کسی نہ کسی صورت میں اظہار پاتے ہیں۔

یہاں اصل سوال مرد کے کردار پر بنتا ہے۔ اگر ایک مرد جانتا تھا کہ وہ شوہر بننے کے قابل نہیں، تو اس نے شادی کیوں کی؟ اگر وہ علاج کروا سکتا تھا مگر اس نے کوشش نہیں کی، تو قصور کس کا ہے؟ اگر وہ برسوں تک بیوی کو نظرانداز کرتا رہا، تو کیا وہ خود اس رشتے کو توڑنے کا ذمہ دار نہیں؟

ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی نا انصافی یہ ہے کہ مرد کی نا اہلی کو ”خاموش مسئلہ“ سمجھا جاتا ہے، جبکہ عورت کی لغزش کو ”کردار کا دھبہ“ بنا دیا جاتا ہے۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے جو انصاف کے تمام دعوؤں کو بے معنی کر دیتا ہے۔

قانونی نقطۂ نظر سے بھی حقیقت اتنی سادہ نہیں جتنی عام طور پر بیان کی جاتی ہے۔ پاکستان کے قانون میں غیر ازدواجی تعلق کو اخلاقی گناہ تو سمجھا جاتا ہے، مگر ہر صورت میں قابلِ تعزیر جرم نہیں۔ تاہم سماجی عدالت کہیں زیادہ بے رحم ہے، جہاں فیصلے شواہد پر نہیں بلکہ قیاس اور غیرت کے نام پر صادر ہوتے ہیں۔

غیرت کے نام پر قتل جیسے جرائم دراصل غیرت نہیں بلکہ اجتماعی ناکامی کی علامت ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم مسئلے کی جڑ پر بات کرنے کے بجائے کمزور فریق کو ختم کر دینا آسان سمجھتے ہیں۔ عورت کو مار دینا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ سوال سے فرار ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ کسی غیر ازدواجی تعلق کی توجیہ پیش کرنا مقصد نہیں۔ غلط کو غلط کہنا ضروری ہے، مگر انصاف یہ تقاضا کرتا ہے کہ پورا پس منظر دیکھا جائے۔ اگر ایک عورت برسوں تک شوہر کے ہوتے ہوئے بھی بیوہ کی زندگی گزارے، تو معاشرہ کم از کم یہ سوال تو اٹھائے کہ اس کا شوہر کہاں تھا؟

ایک ذمہ دار معاشرہ وہ ہوتا ہے جو صرف سزا نہیں دیتا، بلکہ احتساب بھی کرتا ہے۔ اور احتساب صرف عورت کا نہیں، مرد کا بھی ہونا چاہیے۔ ایسے مرد جو جانتے بوجھتے شادی کرتے ہیں، مگر شوہر بننے کی ذمہ داری قبول نہیں کرتے، دراصل دو زندگیاں برباد کرتے ہیں : اپنی بھی اور عورت کی بھی۔

اگر ہمیں واقعی خاندان بچانے ہیں، اگر ہمیں اخلاقیات کی حفاظت کرنی ہے، تو ہمیں بیانیہ بدلنا ہو گا۔ عورت سے پہلے مرد سے سوال کرنا ہو گا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ شوہر بننا صرف نام کا رشتہ نہیں، بلکہ ایک عملی ذمہ داری ہے۔

آخر میں سوال یہی ہے :

کیا ہم عورت کو اس جرم کی سزا دیتے رہیں گے جس کی بنیاد مرد کی نا اہلی نے رکھی؟ یا کبھی یہ ہمت بھی کریں گے کہ اصل ذمہ دار کو کٹہرے میں کھڑا کریں؟

جب تک یہ سوال نہیں اٹھے گا، تب تک انصاف صرف ایک لفظ رہے گا، حقیقت نہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW