پاکستان کو درپیش اندرونی اور بیرونی خطرات

ریاست پاکستان ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں اندرونی انتشار و خلفشار اور بیرونی دباؤ کے طوفان اس کی سلامتی اور استحکام کو مقابلے کی دعوت دے رہے ہیں۔ اندرونی طور پر سیاسی عدم استحکام، معاشی بدحالی، دہشت گردی، لسانی منافرت، فرقہ واریت اور سماجی نا انصافی جیسے مسائل نے ملک کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جبکہ بیرونی سطح پر علاقائی تنازعات، ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور عالمی طاقتوں کے مفادات نے پاکستان کو ایک پیچیدہ جغرافیائی سیاسی کھیل کا حصہ بنا دیا ہے۔ مشرقی سرحد تو ابتداء ہی سے دشمنوں کی سرگرمیوں کا مرکز رہی ہے کافی سالوں سے مغربی سرحدوں سے در اندازی، پڑوسیوں کی بد عہدی اور ریاست کے دشمنوں کو محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی نے قومی سطح پر چیلنجز میں از حد اضافہ کیا ہے۔
یہ وہ خطرات ہیں جو نہ صرف پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ اس کے وجود کو بھی خطرے سے دوچار کر رہے ہیں۔
ریاست کی سلامتی کو خطرات ہوں تو وہاں کے باشندے اس سے ضرور متاثر ہوتے بعینہ ریاست کی خوش حالی وہاں کی عوام کو فائدہ پہنچاتی ہے۔
پاکستان کو درپیش اندرونی خطرات میں سب سے بڑا چیلنج معاشی عدم استحکام ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، بڑھتا ہوا بیرونی اور اندرونی قرضہ، مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔ معیشت کی یہ کمزوری نہ صرف عوامی عدم اطمینان کا باعث بن رہی ہے بلکہ ملک کی سالمیت کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاسی تقسیم اور اداروں کے درمیان کشمکش نے قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ایک طرف جمہوریت کے تسلسل پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو دوسری طرف حکومت اور اداروں کے درمیان اختیارات کی کشمکش ملک کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔ پاکستان ایک بار پھر اندرونی کشمکش کی اس دلدل میں پھنستا دکھائی دے رہا ہے۔
دہشت گردی اور فرقہ واریت کا عفریت بھی پاکستان کے لیے ایک بڑا اندرونی خطرہ ہے۔ حالیہ برسوں میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر مغربی سرحدی علاقوں میں، جہاں پراکسی وار اور بیرونی ایجنڈے کے تحت ہندوستان کے اشارے پر عدم استحکام پیدا کیا جا رہا ہے۔ فرقہ ورانہ تشدد نے بھی ملک کے امن کو تہہ و بالا کر دیا ہے، جس نے اقلیتوں کو عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے۔ کیا ہم ایک بار پھر 1990 کی دہائی کی خونریز لڑائی کی طرف لوٹ رہے ہیں؟ کیا ہم نے اپنی تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا؟
بیرونی خطرات میں سب سے بڑا چیلنج ہمسایہ ممالک، خاص طور پر بھارت اور افغانستان کے ساتھ تعلقات ہیں۔ بھارت کے ساتھ کشمیر تنازعہ اب بھی حل طلب ہے اس کے علاوہ سیاچین اور سرکریک پر بھی کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے باوجود عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے افسوس تو یہ ہے کہ مسلم دنیا بھی کوئی اہم۔ کردار ادا نہیں کر سکی۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے بعد کی صورتحال نے بھی پاکستان کے لیے نئے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں، جہاں سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ پاکستان ایک بار پھر افغانستان کی وجہ سے بین الاقوامی دباؤ کا شکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔
عالمی طاقتوں کے مفادات بھی پاکستان کے لیے ایک بڑا بیرونی خطرہ ہیں۔ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی اور فوجی کشمکش نے پاکستان کو ایک مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔ چین پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC) جیسے منصوبوں نے اگرچہ ترقی کے نئے دروازے کھولے ہیں، لیکن انہوں نے پاکستان کو ایک پیچیدہ بین الاقوامی کھیل کا حصہ بنا دیا ہے۔ کیا پاکستان ان طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھتے ہوئے اپنے قومی مفادات کا تحفظ کر پائے گا؟
ان تمام خطرات کے باوجود، پاکستان کے پاس اپنی بقا اور ترقی کے مواقع موجود ہیں۔ معیشت کسی حد تک درست سمت میں بڑھ رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قومی یکجہتی کو مضبوط کیا جائے، جمہوریت کو مستحکم بنایا جائے، معیشت کو درست سمت میں تیزی سے لے جایا جائے، اور خارجہ پالیسی کو متوازن بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ پاکستان ایک مضبوط قوم ہے جس نے ماضی میں بھی کئی بحرانوں کا مقابلہ کیا ہے۔ اگر آج ہم اپنے اندرونی اختلافات بھلا کر ایک متحد قوم بن جائیں، تو کوئی بیرونی طاقت ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ آخر میں، یہ ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کریں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال پاکستان چھوڑ کر جائیں۔
