میرے مطابق

استقامت کے پیکر کو خراجِ عقیدت

Murshid Kamal

آسمان بھی سوگوار ہے اور زمین بھی خاموش۔ فضا میں ایک ایسا سناٹا ہے جس میں دلوں کی سسکیاں صاف سنائی دیتی ہیں۔ ایک عظیم رہنما ہم سے رخصت ہو گیا۔ مگر وہ شکست کھا کر نہیں، سر جھکا کر نہیں، بلکہ سر بلند کر کے گیا۔ اس نے زندگی بھی وقار کے ساتھ گزاری اور موت بھی عزت کے ساتھ قبول کی۔

وہ صرف ایک انسان نہیں تھا، وہ عزم و ہمت کی چلتی پھرتی تصویر تھا۔ جب باطل کی طاقتیں غرور سے سر اٹھائے کھڑی تھیں، جب دباؤ، دھمکیاں اور لالچ ہر سمت سے اس کے قدم ڈگمگانے کے لیے بڑھائے گئے، تب اس نے ثابت قدمی کی وہ مثال قائم کی جو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ اس نے جھکنے کے بجائے ٹوٹ جانا قبول کیا، مگر اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

اس کی آنکھوں میں غیرت کی چمک تھی، اس کے لہجے میں یقین کی گونج تھی، اور اس کے دل میں امتِ مسلمہ کا درد تھا۔ اس نے عربوں کی غیرت کو جھنجھوڑا، انہیں یاد دلایا کہ عزت غلامی میں نہیں، بلکہ حق پر ڈٹ جانے میں ہے۔ اس نے نوجوانوں کو بتایا کہ طاقت محض ہتھیاروں سے نہیں، ایمان اور کردار سے پیدا ہوتی ہے۔ اس نے دنیا کو دکھایا کہ قیادت صرف اقتدار کا نام نہیں، بلکہ قربانی کا دوسرا نام ہے۔

شہادت اس کے لیے انجام نہیں، اعزاز تھی۔ اس نے جان کی حفاظت پر ضمیر کی حفاظت کو ترجیح دی۔ اس نے زندگی کی مہلت کے بدلے اصولوں کی قیمت ادا کرنے سے انکار کیا۔ وہ جانتا تھا کہ ایک لمحے کی کمزوری پوری تاریخ کو شرمندہ کر سکتی ہے، اس لیے وہ آخر تک سیسہ پلائی دیوار بنا رہا۔

آج اس کی شہادت ہمیں رُلا ضرور رہی ہے، مگر ساتھ ہی ہمیں جگا بھی رہی ہے۔ اس کا خون ہمیں پکار رہا ہے کہ ہم بزدلی کو ترک کریں، اختلافات سے اوپر اٹھیں اور حق کے لیے کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کریں۔ اس نے ہمیں سکھایا کہ ظلم کے سامنے خاموشی بھی جرم ہے اور حق کے لیے آواز اٹھانا عبادت ہے۔

ایسے عظیم قائد کو لاکھوں سلام۔ جس نے ہمیں حوصلے کا مفہوم سمجھایا، استقامت کی حقیقت دکھائی اور شجاعت کا راستہ روشن کیا۔ وہ دنیا سے رخصت ہو گیا، مگر اس کا کردار، اس کی جرات اور اس کا پیغام ہمیشہ زندہ رہے گا۔

قومیں ایسے لوگوں کی موت پر صرف آنسو نہیں بہاتیں، بلکہ عہد تازہ کرتی ہیں۔ آج ہمیں بھی عہد کرنا ہو گا کہ ہم اس کی دی ہوئی روشنی کو بجھنے نہیں دیں گے۔ کیونکہ وہ رہنما مرا نہیں۔ وہ تاریخ میں زندہ ہو گیا ہے۔

ایسے مردانِ حق صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی طاقت تخت و تاج سے نہیں، کردار اور یقین سے جنم لیتی ہے۔ شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے جن الفاظ میں مردِ مومن کی تصویر کھینچی، وہ گویا ایسے ہی رہنماؤں کے لیے تھے :

دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہٰی

اقبال کے اس شعر میں ”دارا و سکندر“ دنیاوی طاقت، سلطنت اور جاہ و جلال کی علامت ہیں، جبکہ ”مردِ فقر“ وہ ہے جو ظاہری اقتدار سے بے نیاز ہو کر بھی روحانی اور اخلاقی بلندی کا حامل ہو۔ اور جب وہ کہتے ہیں ”بوئے اسد اللہی“ تو اس سے مراد وہ شجاعت، وہ بے خوفی، وہ حق گوئی ہے جو حضرت علیؓ اسد اللہ (اللہ کے شیر) کی صفت تھی۔

یعنی وہ شخص جو بظاہر سادہ ہو، مگر اس کے کردار میں شیرِ خدا کی جرات، حق پرستی اور استقامت کی خوشبو ہو۔ وہ دارا و سکندر جیسے فاتحین سے بھی بلند ہے۔

ہمارا یہ عظیم رہنما بھی اسی مردِ فقر کی عملی تصویر تھا۔ اس کے پاس شاید دنیاوی طاقتوں جیسا اسلحہ نہ تھا، مگر اس کے پاس عزم تھا ؛ شاید اس کے پاس بے پناہ وسائل نہ تھے، مگر اس کے پاس یقین تھا ؛ شاید اس کے سامنے عالمی قوتیں تھیں، مگر اس کے اندر وہ استقلال تھا جو کسی دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔

وہ جھکا نہیں، وہ بکا نہیں، وہ ڈرا نہیں۔ اس نے شہادت کو گوارا کیا مگر اصولوں سے انحراف نہ کیا۔ یہی وہ روح ہے جسے اقبال نے ”مردِ فقر“ کہا۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت محض سیاست نہیں رہتی بلکہ تاریخ بن جاتی ہے۔

آج وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں، مگر اس کی جرات، اس کی غیرت اور اس کی استقامت ایک درس کی صورت ہمارے سامنے موجود ہے۔ اگر ہم نے اس پیغام کو سمجھ لیا تو اس کی شہادت محض ایک سانحہ نہیں رہے گی، بلکہ بیداری کی ایک نئی صبح ثابت ہو گی۔

ایسے عظیم قائد کو لاکھوں سلام۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW