میرے مطابق

از سرِ نو

Aliza Ahmed

جب وہ میری زندگی میں آیا تھا تو یوں لگا جیسے درد اپنی لغت بھول گئے ہوں۔ نہ کوئی شکوہ باقی رہا، نہ کوئی سوال۔ نہ خدا سے، نہ خود سے، اور نہ اُن لوگوں سے جنہوں نے مجھے ادھورا چھوڑ کر میرے وجود کو خاموشی کے حوالے کر دیا تھا۔ میں نے نبھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، اپنے حصے کی ہر سانس، ہر صبر، ہر دعا میں نے اس کے نام کر دی تھی، مگر کچھ رشتے وجہ نہیں مانگتے، وہ بس ایک دن بغیر اطلاع کے ختم ہو جاتے ہیں۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ اس کے جانے کے بعد بھی میرے دل نے اس کے لیے بددعا کا ایک لفظ نہیں تراشا، شاید اس لیے کہ میں نے محبت کو سودا نہیں سمجھا تھا، وہ تو میری عبادت تھی۔ اور عبادت میں حساب نہیں رکھا جاتا۔

ہر انسان کی زندگی میں ایک مقصد ہوتا ہے، اور میرا مقصد عشق تھا، جو میں نے پورا کا پورا اس کے حوالے کر دیا۔ وہ آیا بھی ایسے تھا جیسے مرہم کی صورت۔ میرے بکھرے ہوئے وجود کو نرمی سے سمیٹا، بھروسے کے دھاگوں سے مجھے سی دیا، اور یقین کی سانس پھونک کر مجھے دوبارہ جینے کے قابل بنایا۔ مگر پھر اسی نے ایک لمحے میں وہ سب کھینچ لیا، جیسے کسی نے دعا کے بیچ سے قبولیت کا لفظ مٹا دیا ہو۔ میں دوبارہ بکھر گئی تھی، پہلے سے بھی زیادہ۔ اس بار ٹوٹنا صرف درد نہیں تھا بلکہ ایک ادراک تھا کہ کچھ زخم شفا کے بہانے آتے ہیں مگر اپنے اندر ایک اور قیامت چھپائے ہوتے ہیں۔

مجھے لگا تھا یہ آخری وار ہے، اب میں نہیں اٹھ سکوں گی، مگر شاید انسان کی فطرت میں گر کر دوبارہ اٹھنا لکھا ہے۔ تین برس لگے مجھے اپنے ہی وجود کی کرچیاں چننے میں، اپنی روح کے بکھرے ہوئے حصوں کو پہچاننے میں، اور پھر انہیں نئے سرے سے جوڑنے میں۔ میں نے خود کو مٹایا نہیں، میں نے خود کو ری سیٹ کیا۔ اپنے اندر کے ہر زخم، ہر خلل، ہر اندھیرے کو ایک ایک کر کے خارج کیا، جیسے روح نے اپنے ہی اندر سے پرانے موسم نکال دیے ہوں، اور پھر ایک نئی توانائی کے ساتھ میں نے خود کو دوبارہ تخلیق کیا۔

اب میں وہ نہیں ہوں جو کبھی تھی، میرے اندر سب کچھ بدل چکا ہے۔ سوچ، احساس، ترجیحات سب۔ مگر ایک چیز اب بھی ویسی ہی ہے عشق۔ ہاں، عشق اب بھی وہی ہے، بس اب اس کا مرکز بدل گیا ہے۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ اعتبار کوئی فرض نہیں، اور یقین کوئی لازم عبادت نہیں، ہر دل اس قابل نہیں ہوتا کہ اس پر بھروسا رکھا جائے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ زندگی توازن مانگتی ہے، اور میں نے یہ توازن سیکھ لیا ہے۔ محبت کرنا مگر خود کو کھوئے بغیر، جڑنا مگر اپنی بنیاد سلامت رکھتے ہوئے اور سب سے بڑھ کر خود کو چاہنا، اس شدت سے جس شدت سے کبھی میں نے کسی اور کو چاہا تھا۔

میں بکھری تھی۔ ہاں، مگر اب میں خود اپنی تخلیق ہوں۔ نہ کوئی ادھورا پن باقی ہے، نہ کوئی شکایت، بس ایک خاموش یقین کہ جو لڑکی اپنے ٹوٹنے کے بعد خود کو دوبارہ بنا لے وہ پھر کبھی پہلے جیسی نہیں رہتی۔

خود کو ترتیب دیا آخر از سر نو
تیرا انکار زندگی میں بہت کام آیا

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW