میرے مطابق

میٹنگز بھرپور، نتائج کمزور: اداروں کا خاموش قاتل

Sajid mehmood Chohan

اکثر کمپنیوں، اداروں اور سرکاری دفاتر میں آپ دیکھیں گے کہ میٹنگز کا شور سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ کانفرنس رومز ہر روز بھرے رہتے ہیں، پریزنٹیشنز بنتی ہیں، چارٹس لگائے جاتے ہیں، نوٹس لکھے جاتے ہیں، لیکن آخر میں جب عملی نتائج دیکھنے کا وقت آتا ہے تو خاموشی چھا جاتی ہے۔ یہ وہ خاموش قاتل ہے جو آہستہ آہستہ ادارے کی کارکردگی، ٹیم کی توانائی اور قیادت کی ساکھ کو ختم کر دیتا ہے۔ بظاہر یہ سب کچھ بہت منظم اور پروفیشنل دکھائی دیتا ہے۔ کرسیوں پر بیٹھے لوگ، سامنے لیپ ٹاپ، نوٹ پیڈ اور ایک دوسرے کو سُننے کے مصنوعی تاثر کے ساتھ ”جی بالکل سر“ کی گردان لیکن حقیقت میں یہ زیادہ تر میٹنگز کام کی بجائے وقت کے ضیاع، ذمہ داری کے بوجھ سے بچنے یا فیصلے کو ٹالنے کا ایک نفسیاتی طریقہ بن چکی ہیں۔

میٹنگز کا مقصد ہوتا ہے سمت طے کرنا، مسائل حل کرنا اور فیصلے لینا۔ مگر ہمارے ہاں یہ مقصد اکثر ”باتوں کے گرد چکر کاٹنے“ تک محدود ہو جاتا ہے۔ میٹنگ ختم ہوتی ہے تو ہر شخص یہی سمجھتا ہے کہ ذمہ داری کسی دوسرے پر ہے۔ کوئی واضح ایکشن پلان نہیں بنتا، نہ ڈیڈ لائن طے ہوتی ہے، نہ فالو اپ ہوتا ہے۔ اگلی میٹنگ پھر پچھلی والی کی ”ریویو میٹنگ“ کے نام پر بلائی جاتی ہے اور سب کچھ دوبارہ وہیں سے شروع ہو جاتا ہے جہاں ختم ہوا تھا۔

اس طرح ادارے کے دن گزرتے ہیں، ہفتے گزرتے ہیں اور بالآخر سال گزر جاتا ہے مگر ترقی کا گراف وہیں کا وہیں رہتا ہے۔ ایک میٹنگ میں میرے کولیگ ایک شخص کو لے کر بحث کر رہے تھے کیونکہ اس کو ایک نئی ذمہ داری دینی تھی۔ جب آدھا گھنٹہ اس فرد کا 360 ڈگری ریویو کر لیا تو میں نے اپنے کولیگز سے پوچھا کہ آخری بار آپ لوگ اس شخص سے کب ملے تو پتا چلا کوئی بھی شخص ایک سال سے اُس سے ملا ہی نہیں اور جس شخص کو سب سے زیادہ اعتراض تھا وہ تین سال پہلے ان سے ملا تھا اور جو اس کے سب سے زیادہ حق میں بول رہا تھا وہ پانچ سال سے اس سے نہیں ملا اور ان سب میں کوئی بھی ایسا نہیں جس نے ڈائریکٹ اس کے ساتھ کام کیا ہو، کوئی بھی ایسا نہیں جو اس کے گھر گیا ہو۔ لیکن ایک چیز جس پر سب کا یقین پختہ تھا کہ سب اس کو جانتے ہیں۔ جب ایسے لوگ ٹیموں کا انتخاب کریں گے تو نتائج کیسے بھرپور ہو سکتے ہیں۔

اس خاموش بیماری کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ میٹنگز کا غلط استعمال قیادت کی کمزوری کو چھپانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ایک مضبوط لیڈر کم بولتا ہے اور زیادہ سنتا ہے، وہ باتوں سے زیادہ فیصلوں پر یقین رکھتا ہے۔ مگر کمزور قیادت میٹنگز کو ایک ڈھال بناتی ہے تاکہ وہ ہر بات میں ”شامل نظر آئے“ اور ذمہ داری بانٹ دے۔ ایسے ماحول میں کام کرنے والے لوگ جلد ہی سمجھ جاتے ہیں کہ اصل کام کرنے کی بجائے اپنی موجودگی ظاہر کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔

یوں ادارے میں کارکردگی کی جگہ دکھاوے، کام کی جگہ بیانات اور پیش رفت کی جگہ منصوبہ بندی کے وعدے لے لیتے ہیں۔ یہ محفل نہیں، انجمنِ باہمی ستائش ہے۔ جہاں اختلاف نہیں، صرف واہ واہ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ جہاں ہر شخص دوسرے کی تعریف میں مصروف رہتا ہے، اختلاف رائے گناہ سمجھا جاتا ہے، اور سچ بولنا بدتمیزی تصور ہوتا ہے۔

میٹنگ کلچر کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ عملیت پسندی (action orientation) کو ختم کر دیتا ہے۔ لوگ بولنے کے عادی ہو جاتے ہیں، کرنے کے نہیں۔ روزانہ کی میٹنگز انہیں یہ اطمینان دیتی ہیں کہ ”ہم کچھ کر رہے ہیں“ ، حالانکہ حقیقت میں کچھ بھی نہیں ہو رہا ہوتا۔ ایک کامیاب ادارے میں میٹنگز کم مگر معنی خیز ہوتی ہیں۔ وہاں ہر میٹنگ کا مقصد واضح ہوتا ہے، ہر شرکاء کا کردار متعین ہوتا ہے اور ہر فیصلہ قابلِ پیمائش نتائج کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ جب کہ غیر ضروری میٹنگز ادارے کے خون میں وہ زہر بن جاتی ہیں جو آہستہ آہستہ تخلیقی سوچ، ذمہ داری اور رفتار کو مار دیتا ہے۔

کامیاب ادارے میٹنگز کو کم کرتے ہیں مگر عمل کو بڑھاتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ ٹیم کے وقت کا بہترین استعمال باتوں میں نہیں، بلکہ نتائج میں ہے۔ وہ ہر میٹنگ کے اختتام پر تین بنیادی سوال پوچھتے ہیں : کیا طے ہوا؟ کون کرے گا؟ اور کب تک؟ اگر یہ تین سوالوں کے جوابات صاف نہ ہوں تو وہ میٹنگ دراصل ادارے کے وقت اور توانائی کا ضیاع ہے۔

اس لیے کسی بھی کمپنی یا ادارے میں اگر میٹنگز زیادہ اور نتائج کم ہیں تو سمجھ لیں کہ بیماری اندر تک پھیل چکی ہے۔ اس کا علاج مزید میٹنگز نہیں بلکہ واضح فیصلے، مختصر گفتگو، ذمہ داری کی تقسیم اور عمل کی نگرانی ہے۔ قیادت کو چاہیے کہ وہ ہر میٹنگ کے بجائے ہر ایکشن کی رپورٹ مانگے۔ کیونکہ بالآخر ترقی ان کے نصیب میں نہیں آتی جو بولنے کے ماہر ہوں، بلکہ ان کے حصے میں آتی ہے جو عمل کے عادی ہوں۔ میٹنگز ادارے کی ترقی کا ذریعہ ضرور ہیں، مگر جب وہ فیصلہ سازی کا متبادل بن جائیں تو یہی میٹنگز ادارے کا سب سے خاموش اور خطرناک قاتل ثابت ہوتی ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Muhammad Ikram
Muhammad Ikram
7 months ago

Great Sir … bilkol dorost tajzia kiya ap ny … or ye bohat bari haqiqat hy kamyabi ki or nakami ki… Mashallah Sir…again you are Great.. salot Sir

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW