بلاگ

ایک افسر کی خودکشی نہیں، ایک نظام کی موت

iftikhar hussain shangla

چند روز پہلے ایک قابل اور باصلاحیت سی ایس پی افسر کی مبینہ خودکشی کی خبر نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ واقعہ محض ایک ذاتی سانحہ نہیں بلکہ اس نظام کی گہرائیوں میں چھپے درد اور ناکامیوں کا مظہر ہے۔ ایک ایسا نوجوان، جس نے برسوں کی محنت، قربانی اور جدوجہد کے بعد مقابلے کے امتحان میں کامیابی حاصل کی، آخر کس مقام پر آ کر زندگی سے مایوس ہو گیا؟ یہ سوال صرف ایک فرد کے بارے میں نہیں، بلکہ اس پورے نظام کے بارے میں ہے جس کا وہ حصہ تھا۔

یہ خبر دل چیرنے والی تھی، ایک اور قابل افسر، ایک اور خواب، ایک اور جان، ختم۔

ایس پی عدیل، ایک ذہین اور دیانتدار افسر، جس نے سی ایس ایس جیسے کٹھن امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی، وہ شخص جس نے اپنی زندگی کے بہترین سال اس ملک کی خدمت کے لیے وقف کیے، آج ہم میں نہیں رہا۔ بتایا جاتا ہے کہ اُس نے دورانِ ڈیوٹی اپنی گاڑی میں خود کو گولی مار کر جان دے دی۔

لیکن سوال یہ ہے : کیا یہ واقعی خودکشی تھی؟ یا پھر ایک ایسے نظام کا نتیجہ، جو اپنے ہی بہترین افسران کو اندر سے توڑ دیتا ہے؟

یقیناً اب ایک رسمی انکوائری ہوگی، چند صفحات پر مبنی رپورٹ تیار ہوگی، اور نتیجہ وہی نکلے گا جو ہمیشہ نکلتا ہے ”افسر نے خود اپنی جان لے لی۔“

مگر حقیقت یہ ہے کہ عدیل نے خود کو نہیں مارا، اُسے مارا گیا۔
اس نظام نے، اس ماحول نے، اور ہم سب نے۔

بتایا جاتا ہے کہ وہ اپنے پروموشن کے حوالے سے پریشان تھے۔ یہ حیرت کی بات نہیں، کیونکہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ترقی کے لیے قابلیت سے زیادہ تعلقات ضروری ہیں، جہاں انصاف فائلوں میں دفن ہو جاتا ہے، اور جہاں ایماندار افسر سیاست کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔

یہاں پروموشن کے لیے کارکردگی نہیں، چاپلوسی چاہیے، یا پھر مرنا پڑتا ہے۔
اور اگر آپ دیانتدار ہیں، تو یقیناً آپ اس نظام کے لیے خطرہ ہیں۔

پولیس ڈیپارٹمنٹ میں دباؤ کوئی نیا نہیں، مگر یہ دباؤ اب ایک اجتماعی بیماری بن چکا ہے۔ اگر ایک ایس پی رینک کا افسر ذہنی دباؤ کے بوجھ تلے ٹوٹ سکتا ہے، تو سوچئے اُس سپاہی کا کیا حال ہو گا جو ساٹھ یا ستر ہزار کی تنخواہ میں اپنے گھر کا خرچ چلاتا ہے، دہشت گردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑتا ہے، سینئرز کی سختیاں برداشت کرتا ہے، اور ہر وقت سیاسی یا انتقامی تبادلوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔

اُس کی ذہنی حالت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔

بدقسمتی سے ہم نے آج تک پولیس فورس میں ذہنی صحت کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ نہ کوئی کونسلنگ سسٹم ہے، نہ نفسیاتی مدد۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہر ضلع میں افسروں کے لیے ذہنی سکون اور رہنمائی کے مراکز ہوں، جہاں ایک ماتحت اپنے مسائل کھل کر بیان کر سکے۔

لیکن یہاں تو مسائل پر بات کرنا کمزوری اور ڈسپلن کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔
اور ہاں، وہ ”ڈسپلن“ جس پر ہمیں فخر ہے، وہی دراصل غلامی کی زنجیر بن چکا ہے۔

انگریز کے چھوڑے ہوئے باقیات میں سے ایک سخت ڈسپلن کا نظام بھی ہے جس نے پولیس محکمے کے اندر رینک ٹو رینک ایسی خلیج پیدا کر دی ہے جو شاید کبھی پُر نہ ہو سکے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ نظام افسر نہیں، غلام پیدا کرتا ہے، جہاں ہر نچلا رینک اگلے رینک کے حکم کا پابند ہے۔ اور جب غلامی میں عزت نہ ملے، تو انسان کی روح آہستہ آہستہ مرنے لگتی ہے۔

اب یقیناً ہمارا ڈیپارٹمنٹ اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے عدیل کے کیس کو ”خودکشی“ قرار دے گا۔

فائل بند ہوگی، خبر پرانی ہوگی، اور ہم سب آگے بڑھ جائیں گے، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ مگر نہیں، یہ خون صرف ایک شخص کا نہیں۔ یہ ہمارے اجتماعی جرم کی گواہی ہے۔ ایس پی عدیل کے خون سے یہ نظام، یہ معاشرہ، اور ہم سب رنگے ہوئے ہیں۔ ہم سب اس کے قاتل ہیں، کیونکہ ہم نے چپ رہنے کا انتخاب کیا۔

اور اگر ہم نے اب بھی نہ سوچا، تو کل کسی اور عدیل کی موت بریکنگ نیوز بنے گی۔ اور ہم پھر وہی کہیں گے : ”افسوس۔“

ایک افسر کی خودکشی دراصل ایک پورے نظام کی موت ہے۔ ایک ایسے نظام کی جو اپنے لوگوں کو سننے، سمجھنے اور سہارا دینے میں ناکام ہو گیا۔

اب وقت ہے کہ ہم اس خاموشی کو توڑیں، انسان کو فائلوں سے زیادہ اہمیت دیں، احساس کو اصولوں سے اوپر رکھیں۔

اللہ ایس پی عدیل کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے، اُس کے درجات بلند کرے،
اور ہمارے نظام کو یہ شعور دے کہ وہ ایسے قیمتی لوگوں کو کھونے سے پہلے ان کے درد کو سن لے۔
آمین۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Atta
Atta
7 months ago

Perfect

Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW