بلاگ

پاکستان کی سیاست میں نفرت: میثاقِ جمہوریت کی ضرورت

Faheem Ahmad Khan

پاکستان کی سیاست میں نفرت اور انتشار کا ایک نیا باب اس وقت کھلا جب سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان پر راولپنڈی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران انڈا پھینکا گیا۔ یہ واقعہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ اس نفرت انگیز سیاست کی عکاسی کرتا ہے جو ملک کو تقسیم در تقسیم کی طرف دھکیل رہی ہے۔ یہ انڈا علیمہ خان کے چہرے پر نہیں، بلکہ اس گندی اور نفرت بھری سیاست پر پڑا ہے جس کی بنیاد عمران خان اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے ڈی چوک دھرنے میں رکھی۔

اس دھرنے میں مخالفین کی نقل اتاری جاتی، ان کی توہین کی جاتی، اور جنہیں رات کو برا بھلا کہا جاتا، صبح ان کے ساتھ ناشتہ کر کے کلین چٹ دی جاتی۔ یہ سیاست نفرت کی اس آگ کو بھڑکاتی رہی جو آج سانحہ 9 مئی جیسے واقعات تک پہنچ گئی، اور اب یہ آگ اپنے گھر تک پہنچ چکی ہے۔ جب پی ٹی آئی خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والی اک خاتون ورکر نے علیمہ خان پر دوران پریس کانفرنس انڈا دے مارا۔

یہ سب دیکھ کر یاد آتا ہے کہ پاکستان کی جمہوریت کو استحکام دینے کے لیے 2006 میں نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے ”میثاقِ جمہوریت“ پر دستخط کیے، جو ملک کی سیاسی تاریخ کا ایک سنگِ میل ہے۔ یہ میثاق جمہوری اقدار کو مضبوط کرنے، اداروں کی خودمختاری کو یقینی بنانے اور سیاسی انتقام کو ختم کرنے کا عزم تھا۔ نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے اس دستاویز کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ مخالفین بھی مل کر ملک کی بہتری کے لیے کام کر سکتے ہیں، اور یہ میثاق پاکستان کو آمریت سے نجات دلانے اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کا ذریعہ بنا۔ اس میثاق نے ملک میں سیاسی استحکام کی بنیاد رکھی اور اٹھارہویں ترمیم جیسی اصلاحات کو ممکن بنایا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میثاق کی تیاری میں عمران خان بھی شامل تھے۔ 2006 میں لندن میں اتحاد برائے بحالیِ جمہوریت (اے آر ڈی) کے رہنما کے طور پر انہوں نے دستاویز کو پرنٹ کرنے میں مدد کی۔ تاہم، بعد میں عمران خان نے اسی میثاق سے یوٹرن لے لیا اور اسے ”لندن پلان“ قرار دے کر تنقید کی۔ 2014 میں انہوں نے اسے حقیقی سازش کہا، جبکہ 2018 میں اقتدار میں آنے کے بعد بھی اس کی روح کو نظر انداز کیا۔

یہ یوٹرن عمران خان کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ بن گیا، جہاں وہ جمہوری اصولوں سے انحراف کرتے رہے۔ عمران خان کی نفرت انگیز تقاریر نے ملک میں سیاسی ماحول کو مزید زہریلا بنا دیا۔ ان کی تقریروں میں مخالفین کو ”ڈاکو“ اور ”چور“ کہنا معمول بن گیا، جو اداروں اور مخالف رہنماؤں کے خلاف نفرت پھیلانے کا سبب بنا۔ میڈیا ریگولیٹر نے ان کی تقریروں پر پابندی لگائی کیونکہ ان میں ریاست اور اداروں کے خلاف ”نفرت انگیز“ بیانات تھے۔ یہ تقریریں نہ صرف سیاسی مخالفین کو نشانہ بناتی تھیں بلکہ ملک میں تقسیم کو گہرا کرتی رہیں۔

اس نفرت کا نتیجہ مخالف رہنماؤں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات میں نظر آیا۔ نواز شریف پر جوتا پھینکا گیا، خواجہ آصف پر سیاہی پھینکی گئی، اور احسن اقبال پر بھی حملے ہوئے۔ یہ واقعات پی ٹی آئی کے حامیوں سے منسوب کیے جاتے ہیں، کیونکہ پی ٹی آئی کی قیادت عمران خان سمیت کسی نے ایسے واقعات کی مذمت نہ کی جو نفرت کی اس سیاست کا شاخسانہ ہیں۔ ‏بلکہ جب احسن اقبال کو گولی لگی تو وسیم بادامی کے پروگرام میں ابرار الحق نے کہا ”یہ عوامی جذبات ہیں اس کی مذمت کیسے کریں۔ سانحہ 9 مئی میں تو عمارتوں پر حملے اور توڑ پھوڑ نے ملک کو نقصان پہنچایا، جو اس نفرت کی انتہا تھی

اب بھی وقت ہے، سب اپنی غلطیوں کو تسلیم کر کے نواز شریف کے ”میثاق جمہوریت“ کی تجدید کر لیں، ورنہ نہ سیاست صاف ہوگی، نہ اسٹیبلشمنٹ کی گود سے نجات ملے گی، اور نہ ہی عوام کے ہاتھوں سے گندے انڈوں کا سلسلہ ختم ہو گا۔ یہ میثاق ہی ہے جو پاکستان کو حقیقی جمہوریت کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW