کالم۔

ایس سی او اور وزیر اعظم

muhammad mehdi

چینی صدر شی نے ایس سی او سے خطاب کرتے ہوئے یہ بالکل درست نشان دہی کی ہے کہ دنیا اس وقت ایک تبدیلی کے مرحلے اور انتشار سے گزر رہی ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ نبرد آزما ہے۔ اس وقت دنیا کے سامنے یہ ہی چیلنج درپیش ہے کہ اس نئی صورت حال میں کس نوعیت کے اقدامات انسانوں کی فلاح و بہبود کا باعث بن سکتے ہیں۔ کیا ماضی کی مانند جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا رویہ امن و سلامتی کا ذریعہ بن سکتا ہے یا اجتماعی سلامتی جو مساوات کے اصولوں پر مبنی ہو سے دنیا کے مستقبل کو سنوارا جا سکتا ہے۔

اس ایس سی او کانفرنس کی خاص بات یہ تھی کہ انڈیا کے وزیر اعظم بھی سات سال بعد اس میں شریک ہو رہے تھے اور اس شرکت کو صرف امریکی صدر ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی سے نہیں جوڑنا چاہیے بلکہ چینی صدر اور انڈین وزیر اعظم گزشتہ برس اکتوبر میں برکس کے اجلاس کے موقع پر بھی ملاقات کر چکے تھے۔ اس لئے انڈیا کی یہ پالیسی نظر آ رہی تھی کہ وہ اپنی اہمیت کا احساس واشنگٹن کو کرانا چاہتا ہے اور یہ بھی بھاؤ تاؤ کرتے ہوئے بتانا چاہتا ہے کہ انڈیا کے پاس دوسرے راستے بھی موجود ہیں۔

امریکہ انڈیا کے اقدامات یا یوں کہہ لیجیے کہ انڈیا کے کاروباری سرخیلوں کی مال بناؤ پالیسی کو، روسی تیل خریدنے کو بالکل اور انداز میں دیکھ رہا ہے اس وجہ سے امریکی پالیسی انڈیا کے حوالے سے بالکل دو ٹوک انداز میں سامنے آئی ہے۔ اس اجلاس کی اہمیت اس لئے دو چند ہو گئی ہے کہ اس میں حالیہ پاک انڈیا تصادم کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے ایک ہی چھت کے نیچے ہونا تھا اور اس دوران کی گئی گفتگو سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کی موجودہ حیثیت اور مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہونے ہیں۔

پاکستان ایک عرصے سے خود زبردست دہشت گردی کا شکار ہے اور اس میں کوئی دو رائے سرے سے ہی موجود نہیں ہو سکتی ہے کہ اس میں انڈیا کا کلیدی کردار ہے مگر اس سب کے باوجود انڈیا دنیا بھر میں پاکستان کے خلاف ہر وقت دہشت گردی کا پروپیگنڈا کرتا پھرتا ہے۔ اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے بہت زیادہ ضروری تھا کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف ان تمام امور کو زیر بحث لائیں جو کہ علاقائی تعاون اور باہمی سلامتی کے کسی میکانزم کو پروان نہیں چڑھنے دے رہی ہے بر سبیل تذکرہ ذکر کرتا چلوں کہ جن وجوہات کی بنا پر سارک گمنام ہوئی پڑی ہے وہ ہی رویہ ایس سی او جیسی بڑی تنظیم کے لئے بھی بہت بڑا چیلنج ہے۔

اس صورت حال میں وزیر اعظم شہباز شریف نے اس فورم کا زبر دست فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کو اور در حقیقت ایس سی او کی فعالیت کو در پیش چیلنجز کا بہت موثر انداز میں ذکر کیا۔ انڈیا کا ایک طویل عرصے سے بین الاقوامی برادری کے سامنے بیانیہ یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس کو مستقل طور پر ”دہشت گردی“ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس بیانیہ سے اس نے بہت حد تک اپنے مفادات کو حاصل بھی کیا اور کشمیر میں جاری بد امنی کی اصل وجہ سے دنیا کی توجہ دور کرنے میں مصروف رہا۔

اس نکتہ نظر پر اپنے خطاب میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بجا طور پر ایس سی او ممالک کے سامنے ان قربانیوں مسائل کو رکھا جو کہ انڈیا کی وجہ سے پاکستان کو بر داشت کرنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کی معیشت کو جو 152 ارب ڈالر کی صورت میں نقصان اٹھانا پڑا ہے کا ذکر کیا اور معاشی نقصان تو اپنی جگہ پر رہا لیکن 90000 ہزار پاکستانی جو اپنی جانوں سے گئے اس کا تذکرہ کیا اور اس بات کا برملا اظہار کیا کہ انڈیا کا صرف سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کی غرض سے اختیار کیا گیا دہشت گردی کا بیانیہ دنیا کے لئے اب قابل تسلیم نہیں رہا ہے بلکہ پاکستان کے پاس اس کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں کہ جعفر ایکسپریس، خضدار واقعہ، بلوچستان اور خیبر پختون خواہ میں جو دہشت گردی کے واقعات وقوع پذیر ہو رہے ہیں ان میں غیر ملکی ہاتھ ہونے کے پاکستان کے پاس ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں اور اس میں اہم ترین نکتہ یہ بیان کیا کہ جو پاکستان کی جانب سے بہت سخت پالیسی کا اظہار کرتا ہے کہ اس سب کے مددگاروں کو جواب دہ ہونا پڑے گا۔

پاکستان میں اس وقت پانی ہی پانی موجود ہے مگر جیسے ہی سردی کا آغاز ہو گا تو اس میں کمی آنا شروع ہو جائے گی اور اس وجہ سے ہی انڈیا اور دنیا کی موجودگی میں وزیر اعظم کو یہ کہنا پڑا کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرنا چاہیے اور پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی روش کو اختیار کرنے کی حماقت سے بچنا چاہیے کیوں کہ اگر انڈیا نے سندھ طاس معاہدہ کا پاس نہ کیا اور کوئی پانی کے حوالے سے حرکت کر گزرا تو پاکستان کے لئے پانی کی بلا تعطل فراہمی شہ رگ حیات ہے اور اگر انڈیا نے اس پر ہاتھ ڈالا تو پاکستان کے پاس جواب دینے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچے گا حالاں کہ انڈیا کی ان تمام حماقتوں کے باوجود وزیر اعظم نے سفارت کاری اور جامع گفتگو کی افادیت سے پاکستان کے غیر مبہم تعلق کی بات کی۔ ویسے کتنا اچھا ہو کہ انڈیا اب بھی امن اور ہمسائیگی کی اہمیت کا ادراک کرتے ہوئے پاکستان سے گفتگو کا آغاز کردے کیوں کہ صرف گفتگو ہی اس خطے میں پائیدار امن کو قائم کر سکتی ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW