بلاگ

دنیا، ایران مشرق وسطیٰ اور پاکستان؛ ایک دیوانے کا خواب یا تعبیر سحر

جب میں قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں دفاعی و تزویراتی علوم کا طالب علم تھا تو نیوکلیئر پرولیفریشن میرے لیے صرف ایک نصابی موضوع نہ تھا، بلکہ ایک ایسا سوال تھا جس کو سلجھانے کے لئے جو قابلیت چاہیے تھی وہ مجھ میں نہ تھی۔ البتہ ہمارے استاد محترم نے بہرحال یہ کوشش کی کہ بورڈ کالا کر کے سائنسی اور سیاسی گتھیاں سلجھائیں جس نے میری فکری ساخت کو نئی جہت بخشی۔ ان دنوں میرے سامنے جوہری ہتھیاروں کی تاریخ، ان کی ٹیکنالوجی، اور ان کے گرد گھومتی عالمی سیاست ایک حیرت انگیز توازن اور عدم توازن کی تمثیل بنی ہوئی تھی۔ مجھے اس علمی دنیا میں ہر لفظ، ہر اصول، ہر معاہدہ، خاص طور پر نان پرولیفریشن ٹریٹی (NPT) ایک ایسی کہانی محسوس ہوتا جو طاقتور کے منہ میں مٹھاس اور کمزور کے حلق میں کڑوا زہر بن چکا تھا۔

آج جب میں ایران اور پاکستان کے نیوکلیئر معاملات، سفارتی اقدام اور عالمی بیانیے کے جھول میں لپٹی حقیقتوں کو دیکھتا ہوں، تو وہی ابتدائی طالب علمی کا اشتیاق پھر جاگ اُٹھتا ہے۔ مگر اس بار جذبات کا رنگ خاموش نہیں، سنجیدہ ہے، کیونکہ سوال اب صرف نیوکلیئر سائنس کا نہیں، قوموں کی سلامتی کا ہے۔

ایران، ایک ملک جس نے این پی ٹی پر دستخط کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کو پُرامن مقاصد کے لیے رکھنا چاہتا ہے، ایک طویل عرصے سے پابندیوں، حملوں، دھمکیوں، اور سفارتی فریب کا شکار ہے۔ اس کی ہر پیش قدمی کو مشکوک نگاہ سے دیکھا گیا، ہر وضاحت کو جھٹلایا گیا، اور ہر معاہدے کو توڑ دیا گیا۔ جب ایران اپنی پالیسی میں نرمی دکھا کر مذاکرات کی میز پر آیا، تو اسرائیل نے عین انہی ایام میں فوجی حملہ کر کے اس عمل کو روند ڈالا۔ امریکہ، جو بظاہر ان مذاکرات کی سرپرستی کر رہا تھا، خود سفارتی فراڈ کا مرتکب ہوا اور ایران پر خفیہ اور علانیہ حملے کرنے لگا۔ اور یورپ، جو ثالث کا روپ دھارے ایران کو مذاکرات کی میز تک لایا تھا، اسرائیلی جارحیت پر خاموش رہا، بلکہ کئی جگہوں پر اس کا بھرپور حامی بن کر سامنے آیا۔

ایسے سفارتی ماحول میں ایران مغرب یا امریکہ پر کیوں کر اعتماد کرے؟ اعتماد ایک بیج ہوتا ہے، جو دھوکہ، حملے اور تحقیر کی زمین میں نہیں اگتا۔ ایران کی قیادت اور عوام کے لیے یہ سوال صرف جوہری اسلحے کا نہیں رہا، بلکہ ایک قومی غیرت، آزادی اور خودمختاری کا سوال بن چکا ہے۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ جب پرامن مقاصد کے لیے دیے گئے وعدے بار بار توڑے جاتے ہیں، تو پھر دفاعی خود انحصاری کو پختہ کیوں نہ بنایا جائے؟

پاکستان کی صورتحال قدرے مختلف، مگر مفہوم میں یکساں ہے۔ پاکستان نے این پی ٹی کو ہمیشہ ایک غیر منصفانہ معاہدہ قرار دیا، جو پانچ نیوکلیئر طاقتوں کو قانونی تحفظ دیتا ہے اور باقی دنیا کو ”غیرت“ کے ساتھ ”نہتی“ رکھنے کا درس دیتا ہے۔ پاکستان نے کبھی اس معاہدے پر دستخط نہیں کیے، اور 1998 کے ایٹمی تجربات کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اگر ریاست کی بقا داؤ پر ہو، تو وہ دنیا کی دھونس کے سامنے نہیں جھکے گی۔

اس سارے منظرنامے میں جو بات سب سے زیادہ اہم ہے، وہ ہے مسلمان ممالک کی اجتماعی طاقت اور باہمی انحصار۔ ایران، پاکستان، ترکی، سعودی عرب، اور خلیجی ریاستیں اگر محض سفارتی بیانات سے آگے بڑھ کر ایک معاشی و سیکیورٹی اتحاد تشکیل دیں تو وہ مغرب کے نیوکلیئر، اقتصادی اور سفارتی دباؤ کا ایک موثر متبادل بن سکتے ہیں۔ اس وقت مسلم دنیا کی سب سے بڑی کمزوری ان کی تقسیم ہے، اور سب سے بڑی طاقت ان کا ممکنہ اتحاد۔ اب آپ اسے دیوانے کا خواب کہیں یا روشن تعبیر کا استعارہ۔

یہی وہ لمحہ ہے جب روس اور چین کی پوزیشن اور کردار نمایاں ہو جاتا ہے۔ چین، جو ایک طرف پاکستان کا دیرینہ شراکت دار ہے، اور دوسری جانب ایران کے ساتھ کئی اسٹریٹجک معاہدے کر چکا ہے، اس وقت مغرب کے بنائے گئے عالمی نظام کے متوازی ایک نیا اقتصادی و سیاسی نیٹ ورک تیار کر رہا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) ، جس کا پاکستان میں مظہر سی پیک ہے، محض ایک اقتصادی منصوبہ نہیں بلکہ ایک جغرافیائی اور تزویراتی انقلاب کی تمہید ہے۔ چین نہ صرف مسلم دنیا کی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کر رہا ہے، بلکہ دفاعی معاملات میں بھی اپنا دائرہ کار بڑھا رہا ہے۔

روس کا کردار بھی کم اہم نہیں۔ شام، ایران، اور اب خلیجی سفارت کاری میں روس ایک ایسا توازن بن چکا ہے جو امریکہ کی یک طرفہ بالادستی کو چیلنج کرتا ہے۔ روس، جس نے ایران کے جوہری توانائی پروگرام میں تعاون کیا، اب اس خطے میں توانائی، اسلحہ اور سفارت کے ایک نئے محور کا مرکزی کھلاڑی بن رہا ہے۔

جب ہم مغرب کی طرف دیکھتے ہیں تو وہاں ایک بحران ہے : اعتماد کا بحران، قیادت کا بحران، اور طاقت کے زوال کا بحران۔ امریکہ نے اپنی سفارتی طاقت کو دھونس تک محدود کر دیا ہے، اور یورپ اپنے داخلی بحرانوں میں الجھا ہوا ہے۔ ایسے میں مسلم ممالک کا ایک دوسرے کی جانب بڑھنا، اور روس و چین کے ساتھ ہم آہنگ ہونا، صرف ایک سیاسی انتخاب نہیں بلکہ وقت کا تقاضا ہے۔

اگر پاکستان، ایران، ترکی، سعودی عرب اور خلیجی ریاستیں مشترکہ توانائی پالیسی، دفاعی تعاون، ٹیکنالوجی میں اشتراک، اور داخلی مارکیٹوں کو ایک دوسرے کے لیے کھول دیں، تو نہ صرف عالمی سفارت میں ان کا وزن بڑھے گا، بلکہ ان کے اپنے عوام کو غربت، بے روزگاری اور بیرونی انحصار سے نجات ملے گی۔ روس اور چین کے ساتھ ایسے معاہدات جو ٹیکنالوجی ٹرانسفر، دفاعی تعاون اور سرمایہ کاری پر مبنی ہوں، یہ مسلم بلاک کو خود کفالت کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ مغرب کبھی ایسے اتحاد کو پنپنے نہیں دے گا۔ وہ حملے کرے گا، پابندیاں لگائے گا، نظریاتی پروپیگنڈا کرے گا، داخلی اختلافات کو ہوا دے گا، اور بغاوتوں کو فروغ دے گا۔ لیکن اگر یہ ممالک اپنی تاریخ، اپنی تہذیب، اور اپنی اجتماعی قوت کا ادراک کر لیں تو یہ سب سازشیں ناکام ہو سکتی ہیں۔

ایران آج تنہا ہے، مگر اسے تنہا رہنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان اس کے ساتھ ہے، ترکی اس کی ہم خیال قیادت کا عَلم بردار ہے، سعودی عرب کے ساتھ حالیہ سفارتی برفباری پگھل رہی ہے، اور چین و روس اس کے مضبوط سٹریٹیجک شراکت دار بننے کو تیار ہیں۔ بس ضرورت اس امر کی ہے کہ جذباتی اتحاد سے آگے بڑھ کر ایک پائیدار، منظم، اور تدریجی منصوبہ بندی پر مبنی اتحاد کی بنیاد رکھی جائے۔

جب عالمی سفارت دھوکہ دہی، منافقت اور جبر کی بنیاد پر ہو، تو ایسے میں عزت، وقار اور خودمختاری کی ضمانت صرف اپنی صفوں میں اتحاد سے ممکن ہے۔ آج مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے مسلمان ممالک کے سامنے تاریخ نے ایک نیا در کھولا ہے۔ اگر وہ اس دروازے سے اتحاد، ترقی اور خودداری کے ساتھ گزریں تو آنے والی نسلیں انہیں نئی دنیا کا معمار مانیں گی۔

اور مجھے، ایک طالب علم کی حیثیت سے، اس دنیا کے خواب میں وہی سنجیدہ اشتیاق دکھائی دیتا ہے جو 25 سال پہلے قائداعظم یونیورسٹی کی راہداریوں میں نیوکلیئر توازن کے سوال سے شروع ہوا تھا۔ آج جب میں ان خطوط پر لکھتا ہوں، تو مجھے لگتا ہے یہ محض الفاظ نہیں، بلکہ ایک خواب کی دستاویزی تعبیر ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW