عمران خان کے بھانجوں پر سیاست

وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ خان نے یکے بعد دیگرے علیمہ خان کے دو بیٹوں شیرشاہ اور شاہ زیب خان کی گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فوجداری معاملات میں سیاسی بحث کرنے کی بجائے، متعلقہ لوگوں کو عدالت میں اپنی بے گناہی کا ثبوت پیش کرنا چاہیے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں البتہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر تحریک انصاف حکومت کے ساتھ مذاکرات پر راضی ہوتی ہے تو ان گرفتاریوں پر بھی بات ہو سکتی ہے۔
اس دوران علیمہ خان، ان کے بیٹوں کے وکیلوں کے علاوہ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کی طرف سے ان گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دونوں بھائیوں کو ایک دن کے وقفے سے 9 مئی 2023 کو لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس حملہ کیس میں نامزد کیا گیا ہے۔ وکلا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اہم ترین سوال یہی اٹھایا جا رہا ہے کہ ان دونوں بھائیوں کو وقوعہ کے 27 ماہ بعد گرفتار کر کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
عدالت نے اس پہلو پر غور کرنے کی بجائے پولیس کو دونوں بھائیوں کا بالترتیب پانچ اور آٹھ دن کا ریمانڈ دے دیا ہے۔ حالانکہ اگر یہ قیاس کر بھی لیا جائے کہ یہ دونوں کسی حد تک دو سال سے زائد مدت پہلے سرزد ہونے والے کسی جرم میں ملوث تھے تو بھی انہیں پولیس ریمانڈ میں دینے کا کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ پولیس اب ان دونوں سے کوئی ایسا ثبوت جمع نہیں کر سکتی جو پہلے ہی اس کے پاس نہ ہو اور نہ ہی اس بات کا اندیشہ ہو سکتا ہے کہ یہ دونوں اپنے خلاف مقدمہ میں کسی ثبوت کو تلف کر سکتے ہیں۔ طویل مدت گزر جانے کے بعد ایسے سارے اندیشے دم توڑ چکے ہیں۔ اس کے باوجود جب عدالت پولیس کی درخواست پر ریمانڈ دیتے ہوئے اس کے جواز پر غور کرنے کی زحمت نہیں کرتی تو فطری طور سے سیاسی انتقام کے لیے عدالتوں کو استعمال کرنے کے خدشات سامنے آتے ہیں۔
عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے دونوں بیٹوں کو ایک ایسے موقع پر گرفتار کیا گیا ہے جب ملک میں مصالحت اور معافی کی باتیں زیر بحث ہیں۔ حکومت کی طرف سے تحریک انصاف کو میثاق استحکام پاکستان کے لیے مذاکرات کی دعوت دی گئی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے 14 اگست کے موقع پر یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پہلی بات میثاق استحکام کی بات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ قوم کو پاکستان کی یک جہتی اور قومی مفاد کے نام پر اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے۔ تاہم ملک میں موجودہ سیاسی انتشار کی صورت حال میں سیاسی مسائل حل کرنے کے لیے قومی استحکام و اتحاد کی اصطلاح استعمال کرنے کی یہ پہلی کوشش نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی حکومت کی طرف سے ایسی کوششیں سننے میں آتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے قریبی خاندان سے دو نوجوانوں کی گرفتاری کو مجرمانہ سرگرمیوں سے زیادہ سیاسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور نے آج لاہور میں سینیٹ انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے ایک بار پر تحریک انصاف کو مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ مسائل اسی وقت حل ہوسکتے ہیں جب مل بیٹھ کر بات چیت ہو سکے۔ انہوں نے میڈیا سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم شہباز شریف نے مذاکرات کو میثاق استحکام پاکستان کا عنوان دیا ہے۔ اسی میں سیاسی و معاشی استحکام ہے، جو ٹیبل پر بیٹھ کر ہو گا‘ ۔ البتہ اب پنجاب پولیس نے علیمہ خان کے دو بیٹوں کو گرفتار کر کے ریمانڈ میں لیا ہے، اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اپوزیشن کو بات چیت کی پیش کش تو ضرور کرتی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ دباؤ کے ہتھکنڈے بھی استعمال کر رہی ہے تاکہ تحریک انصاف گھبرا کر ان شرائط پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو جائے جو حکومت اس کے سامنے پیش کرتی ہے۔
یہ قیاس کرنا بھی دشوار نہیں ہونا چاہیے کہ حکومت کے پاس اس وقت عمران خان یا تحریک انصاف کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ اگر تحریک انصاف بات چیت پر آمادہ ہو بھی جائے تو حکومت یہی مطالبہ کرے گی کہ وہ اسمبلیوں میں خاموش اپوزیشن کے کردار پر راضی ہو جائے، سڑکوں پر احتجاج بند کر دیا جائے، ملک میں جمہوریت کے نام پر مظاہروں و احتجاج کی کوششیں نہ کی جائیں اور آئندہ انتخابات تک اپنی باری کا انتظار کیا جائے۔ عام طور سے دباؤ کے ماحول میں پارلیمانی جمہوری نظام کے تحت کام کرنے والی حکومتیں نیا انتخاب منعقد کرنے کا اعلان کر کے بحران سے نکلتی ہیں۔ اس طرح سب سیاسی فریقوں کو عوام کے فیصلہ پر اتفاق کرنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے شہباز شریف کی حکومت کے پاس نئے انتخابات کی پیش کش کا آپشن بھی موجود نہیں ہے۔
یہ آپشن اس وزیر اعظم یا حکومت کے پاس تو ہو سکتا ہے جو اپنے فیصلے خود کرنے پر قادر ہو۔ یا جسے معلوم ہو کہ اس نے اپنے دور حکومت میں عوامی بہبود کے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، اس لیے اسے عوام کے سامنے جانے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ البتہ ایسا حوصلہ کرنے والی حکومتیں عام طور سے محض اقتدار پر قابض رہنے کی سیاست نہیں کرتیں بلکہ ان کا اختلاف کسی نہ کسی اصولی معاملہ پر ہوتا ہے۔ کسی اصول سے انحراف کی بجائے یہ طے کیا جاتا ہے کہ عوام سے فیصلہ لے لیا جائے اور عوام کی اکثریت اگر مخالف سیاسی متبادل کو زیادہ وزن دیتی ہے تو نئی حکومت ملک کا انتظام سنبھال سکتی ہے۔ ایسے ہی انتظام میں کسی حکومت کو مخالفین کے خلاف مختلف بہانوں سے مقدمے بنانے اور ان کا حوصلہ پست کرنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ البتہ ایسا نظام صرف اسی وقت کام کرتا ہے جب اصولوں اور کسی خاص ایجنڈے کے لیے سیاست کی جائے۔ البتہ اگر سیاست کا واحد مقصد اقتدار حاصل کرنا یا کسی بھی طرح اس پر قابض رہنا ہو تو ایسے انتظام میں کوئی بھی حکومت اقتدار سے علیحدہ ہونے کا خطرہ مول نہیں لے گی۔ شہباز شریف بھی ایسی غلطی نہیں کریں گے۔
یہی وجہ ہے کہ حکومت اگرچہ دعویٰ کرتی ہے کہ اپوزیشن کو مذاکرات کرنے چاہئیں لیکن ان مذاکرات کے لیے جس ماحول یا بنیاد کی ضرورت ہوتی ہے، وہ دکھائی نہیں دیتی۔ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے والی حکومتیں سیاسی مخالفین کے حق نمائندگی سے انکار نہیں کرتیں۔ موجودہ حکومت اور اس کی حامی جماعتوں نے مخصوص نشستوں کے معاملہ میں یہی طرز عمل اختیار کیا ہے اور تحریک انصاف کے حصے کی نشستوں پر قبضہ کر کے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت کے گمان میں مبتلا ہیں۔ آج ہی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے نا اہل ہونے والے ارکان کی خالی ہونے والی نشستوں پر مل کر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اگرچہ عمران خان کی طرف سے ان ضمنی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان سامنے آنے کے بعد یہ ضمنی انتخابات محض ڈھونگ کی حیثیت اختیار کرچکے ہیں۔ تاہم اسمبلیوں کی سیٹوں پر قبضہ کرنے کی ہوس سے دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت کی طرف سے استحکام پاکستان کا نعرہ محض دکھاوا ہے۔ اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ تحریک انصاف کو مسلسل اس کے حق نمائندگی سے محروم رکھا جائے۔ ایسی صورت میں تحریک انصاف تو کیا کوئی بھی پارٹی مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوگی۔
ہوس اقتدار کی مجبوری کے علاوہ شہباز شریف کی تو یہ مجبوری بھی ہے کہ وہ نئے انتخابات کا فیصلہ نہ تو میرٹ پر کر سکتے ہیں اور نہ ہی بحران سے نمٹنے کے لیے یہ اقدام کیا جا سکتا ہے۔ وہ ہر فیصلہ کرنے کے لیے عسکری قیادت کی مرضی ماننے پر مجبور ہیں۔ موجودہ حالات میں تو دس سالہ معاشی و انتظامی منصوبوں کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ایسے میں انتخابات ثانوی ہو چکے ہیں۔ مقتدرہ کے بیانات کے بین السطور محسوس کیا جا سکتا ہے کہ ملک کو ایک طویل المدت مضبوط حکومت کی ضرورت ہے۔ بظاہر فوجی قیادت یہ ضرورت پوری کر کے ملک و قوم اسے اپنی وفاداری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اسی لیے شہباز شریف کے پاس مڈ ٹرم الیکشن کا آپشن موجود نہیں ہے۔ اس وقت عسکری قیادت کے خیال میں ’قومی مفاد‘ کی حفاظت کے لئے شہباز شریف ہی کا وزیر اعظم رہنا ضروری ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ملک میں حکومتی عہدیداروں کی تبدیلی کی افواہیں شدت سے پھیلائی جاتی ہیں یا آرمی چیف بیرون ملک آباد پاکستانیوں کا اعتماد حاصل کر کے واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس وقت انتخاب، ووٹ، عوام کی خواہش کا قضیہ کرنے کا وقت نہیں ہے بلکہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ معدنیات کے صرف ایک منصوبہ سے دو ارب سالانہ منافع ہو سکتا ہے۔ اسی لیے خواہ کسی تناظر میں بات کی جائے لیکن فیلڈ مارشل عاصم منیر کو برسلز میں یہ بتانا پڑا کہ ’اللہ کی بات ماننے والے فرشتے رہتے ہیں لیکن بات نہ ماننے والا شیطان بن جاتا ہے‘ ۔ ظاہر ہے شہباز شریف نہ صرف یہ کہ فرشتوں جیسا رہنا چاہتے ہیں بلکہ اس کے انعام میں اگر وزارت عظمی کے مزے بھی مل رہے ہوں تو اس سے انکار نہیں کر سکتے۔
حکومت خواہ کوئی وضاحت کرے لیکن سانحہ 9 مئی کے مقدمات میں عمران خان کے بھانجوں شیرشاہ اور شاہ زیب خان کی گرفتاری کو سیاسی انتقام اور دباؤ کا ہتھکنڈا ہی سمجھا جائے گا۔ یہ الگ معاملہ ہے کہ یہ ہتھکنڈے کامیاب ہونے کا امکان نہیں۔
