کالم۔گوشہ ادب

وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصرؔ

muhammad hameed shahid

” بلی اپنے بچے کو سات گھر جھنکاتی ہے پھر اس کی آنکھیں کھلتی ہیں۔ ناصر نثر لکھنے کے معاملہ میں بالکل بلی تھا۔ لکھتا رو رو کر۔ بولنا فراٹے کے ساتھ۔“ (انتظار حسین)

یہ بات ’چراغوں کا دھواں‘ میں ایک مقام پر ناصر کاظمی کو یاد کرتے ہوئے لکھی گئی ہے۔ مجھے پنجاب یونیورسٹی کے ادارہ زبان و ادبیات اردو کے ایک بین الاقوامی ویبنار میں شریک ہونا تھا جو ’ناصر کاظمی صدی‘ کے عنوان سے ہو رہا تھا اور کہا گیا تھا کہ ان کی نثر پر بات کروں تو انتظار حسین کے یہ جملے یاد آ گئے۔ کوئی بات کہنی ہو تو مجھے پہلے سے پڑھا ہوا پھر سے پڑھنے کی عادت ہو چلی ہے کہ اگر کچھ حافظے سے محو ہو چکا ہے تو تازہ ہو جائے، جو بات کروں اس میں ربط رہے، اِدھر اُدھر لڑھکنے کی بجائے موضوع پر ہی رہوں۔ تو یوں ہے کہ جب میں ’خشک چشمے کے کنارے‘ میں جمع ہونے والی ناصر کاظمی کی وہ نثری تحریریں پڑھ رہا تھا جنہیں انتظار حسین نے ’رو رو کر‘ لکھی ہوئی بتایا تھا تو سچ یہ ہے کہ مجھے ناصر کا رونا بھی سُر سلیقے کا لگا تھا اور کئی ایسے مقامات آئے کہ سَر دُھنتا رہا۔ مثلاً اس کتاب کی پہلی تحریر وہ خطبہ صدارت ہے جو حلقہ ارباب ذوق، لاہور کے تیسویں سالانہ اجلاس کے لیے لکھا گیا اور بقول انتظار حسین یوں لکھا گیا، جیسے ناصر کاظمی کے سر پر مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا۔ اجلاس کو جب دو دن رہ گئے اور حلقے کے منتظمین پریشان تھے کہ خطبہ کب ملے گا اور چھپے گا کب؟ تو ناصر غائب تھے۔ بڑی مشکل سے وہ ڈھونڈ نکالے گئے اور خطبے کا مطالبہ ہوا تو بھاگم بھاگ انتظار حسین کے پاس پہنچے، پوچھا؛ ’کیسے لکھوں؟‘ جو ذہن میں ہے کاغذ پر نہیں اترتا ’۔ وہ فرفر بتاتے جا رہے تھے کہ یہ اور یہ لکھنا ہے۔ انتظارحسین نے کہا :‘ مضمون بنا بنایا ہے۔ لکھ لیں۔ ’مضمون بنا بنایا تھا۔ شعر کہنے اور اپنے سننے والوں پر جادو پھونکنے والے کا معاملہ نثر سے پڑا تو ہک دک الگ پڑے تھے۔ انتظار حسین نے کاغذ قلم تھام لیا اور ناصر کو بولتے چلے جانے کا کہا اور خود کاغذ پر اتارتے گئے۔ چند جملوں تک ایسا چلا تو ناصر کا اعتماد بڑھا۔ اب وہ خود لکھ رہے تھے۔ کچھ دیر بعد کہا؛‘ اچھا خاصا لکھ لیا ہے، چائے خانے چلتے ہیں۔ دونوں قریب کے چائے خانے میں جا بیٹھے۔ ناصر نے وہاں کچھ اور لکھا اور اکتا کر کہا ؛ ’اب ٹی ہاؤس چلتے ہیں۔ ‘ مزید کچھ سطور کا وہاں اضافہ ہوا تو گویا مطمئن ہو گئے، کہا؛ ’اب میں چل پڑا ہوں۔ گھر جا کر مکمل کروں گا۔‘ یہ خطبہ ناصر کاظمی کی نثر کی کتاب کی پہلی تحریر ہے اور اسی کتاب کے سارے مضامین سے گزر جائیں تو آخری سطر پر لکھا ملے گا۔ :

” جس طرح خدا اپنے بندے سے اطاعت چاہتا ہے، اسی طرح غزل بھی اپنے شاعر سے اطاعت چاہتی ہے۔“

ناصر کاظمی کا یہ جملہ مجھے یوں یاد آیا کہ ایک تو ویبنار قدرے تاخیر سے شروع ہوا تھا ؛ کچھ وقت میزبان مشتاق احمد نے لے لیا اور ان کی شادی کا دلچسپ قصہ سناتے اور انبالے میں کہیں پیچھے رہ جانے والے اصطبل کا بتاتے رہے جو شاید کہیں نہیں تھا۔ یاد رہے قیام پاکستان کے بعد ناصر درختوں کی اوٹ لیے اپنے شہر انبالہ سے پاکستان آئے تو جہاں ساون، پون، پتوں کی پازیب، شبنم، مہکتی سانسوں، موسموں اور منظروں کا قرب یعنی مظاہر فطرت میں بے پناہ دلچسپی کو اپنے مزاج میں گوندھ کر لائے تھے۔ اپنی نظموں کے مجموعے ’نشاط خواب‘ میں وہ مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتے ہوئے یہ کہتے بھی ملے ہیں۔ :

ہر کوچہ اِک طلسم تھا ہر شکل موہنی
قصہ ہے اس کے شہر کا یارو شنیدنی
انبالہ ایک شہر تھا، سنتے ہیں اب بھی ہے
میں ہوں اسی لٹے ہوئے قریے کی روشنی

انبالہ سے آتے ہوئے وہ کچھ قصے بھی اٹھا لائے تھے جن میں ایک تو یہی اصطبل اور گھڑ سواری والا ہے۔

اِستادہ اصطبل میں سبک سیر گھوڑیاں
ٹاپوں میں جن کی گرد ہو گردوں گردنی

ناصر کاظمی کی ڈائری سے محققین نے ان کے اپنے قلم سے لکھی ہوئی جو تاریخ پیدائش ڈھونڈھ نکالی ہے وہ 8 دسمبر، 1925 بروز جمعہ ہے ؛ یہ الگ بات کہ تب کا اب حساب لگائیں تو وہ دن منگل کا نکلتا ہے۔ خیر، کہنا یہ ہے کہ جب ناصر کاظمی پاکستان آئے تو اس حساب سے وہ بائیس برس کے جوان تھے۔ انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں مڑ کر پیچھے دیکھتے ہوئے کہا تھا کہ انبالہ میں ان کا گھر اور ایک چھوٹا سا معاشرہ تھا۔ پرندوں، یادوں، بچوں، پھولوں، درختوں، اور ننھی ننھی پیچ در پیچ گلیوں کا معاشرہ۔ ’دل کھینچتی ہے منزلِ آبائے رفتنی‘ ۔ ناصر نے اپنی ڈائری میں یہ بھی لکھا تھا کہ ان کے والد سید محمد سلطان کو گھڑ سواری کا بہت شوق تھا۔ اور یہ بھی کہ وہ خود بھی گھڑ سوار رہے اور ضلع ابنالہ اور پٹیالہ کے علاوہ گوجرانوالہ، لاہور، پتوکی، شیخوپورہ کے بہت سارے گاؤں گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہو کر دیکھے تھے۔ ’ناصر کو بات بنانا آتی تھی‘ ؛ یہ ہمارے میزبان نے دوران گفتگو کہا تھا اور لگتا ہے اصطبل کا قصہ بھی اسی پَر سے کاگ ہوا تھا۔ ڈاکٹر محمد افتخار شفیع کو بلایا گیا تو اگرچہ انہوں نے ’پہلی بارش‘ کو گفتگو کے لیے چنا تھا مگر کچھ یوں رواں ہوئے، اور بہت سلیقے سے ہوئے کہ لگ بھگ ساری شاعری کا احاطہ کر لیا۔ یاد رہے کہ ناصر کاظمی نے ’پہلی بارش‘ میں غزل اور نظم کے درمیان خلیج کو کم کیا۔ بقول غالب احمد، یہاں جدت اور تجدید ہم آغوش ہوئے تھے اور من و تو کا وصال ہوا تھا۔ اس مجموعے کی سب غزلیں ایک ہی زمین میں ہیں۔ ’میں نے جب لکھنا سیکھا تھا / پہلے تیرا نام لکھا تھا‘ سے آغاز لیں، ’بھولی نہیں اس رات کی دہشت / چرخ پہ جب تارا ٹوٹا تھا‘ اور ’بھولی نہیں وہ شام جدائی / میں اس روز بہت رویا تھا‘ سے ہوتے آپ اس کتاب کی آخری غزل کے مقطع تک چلے آئیں ایک کیفیت اور ایک زمین ملے گی: ’کس کس بات کو رووں ناصر / اپنا لہنا ہی اتنا تھا‘ ۔

پہلے مقرر کی گفتگو ابھی چل رہی تھی اور میرا خیال ادھر ادھر بھٹک رہا تھا۔ میں نے گھڑی پر نگاہ ڈالی، جس تقریب میں مجھے اس ویبنار کے بعد جانا تھا اس میں بہت کم وقت رہ گیا تھا۔ تنگ وقت میں کچھ کہنا پڑے تو میں ادبدا کر کہیں کا کہیں نکل جاتا ہوں۔ اپنی باری پر میں طے شدہ موضوع کو چھوڑ کر ناصر کی غزل کی طرف متوجہ رہا کہ مجھ سے پہلے ڈاکٹر جمیل جالبی کی ’تاریخ ادب اردو‘ کی تیسری جلد سے سند کے ساتھ یہ تاثر پہنچایا گیا تھا کہ ہمارا یہ شاعر مصحفی کے مضامین اور لہجہ و طرز لے اڑا۔ معذرت اگر الفاظ یہ نا ہوں تو، تاہم مجھ تک خیال کچھ ایسا ہی پہنچا تھا۔ یوں مجھے گماں گزرا کہ ہو نہ ہو وہ زمانہ نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے جس میں ناصر کاظمی غزل پر ایک نئے لحن کا دریچہ کھول رہے تھے۔ اقبال کے بعد کے شعری منظر نامے پر نگاہ کیجئے ؛ ترقی پسند اور غیر ترقی پسند شعراء کو یاد کیجئے ؛ ایک سے بڑھ کر ایک موجود؛ سردار جعفری، کیفی اعظمی، ساحر لدھیانوی، احسان دانش، جوش وغیرہ وغیرہ، مگر جو غزل کہی جا رہی تھی، اسے آنکیں گے تو کھلے گا کہ غزل کا اپنا داخلی آہنگ اور اس کا مدہم مزاج پسپا ہو گیا تھا۔ اول تو غزل ترقی پسندوں کے نشانے پر رہی اور جو مزاج بنا تھا اس میں فرد سے کہیں زیادہ اجتماعی آواز سنائی دے رہی تھی۔ خدائے سخن میر کے زمانے سے غزل کا جو مزاج چلا آ رہا تھا ؛ وہی داخلیت، ارتکاز اور شخصی میلان والا، جو غالب تک پہنچتے پہنچتے باقاعدہ اردو غزل کے وسیلے سے ادبی قدر کا درجہ پا گیا تھا؛ یہ ادبی قدر کچھ زیادہ لائق اعتنا نہ رہی تھی۔ راشد، میرا جی اور مجید امجد نے ایک خاص نوع کی دھیرج اور خود کلامی کو رواج ضرور دیا مگر ان کا اختصاص نظم تھی؛ جدید نظم اور اس نظم کا آہنگ غزل سے مختلف تھا۔ ایسے میں ناصر کاظمی کے مجموعی سفر کو دیکھیں گے تو شمیم حنفی کے کہے پر صاد کرنا پڑے گا کہ نئی غزل کا نقش اول ناصر کاظمی کی غزلیں ہیں۔

جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے
تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا

یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے
تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل

نہ ملا کر اداس لوگوں سے
حسن تیرا بکھر نہ جائے کہیں

ناصر نے اپنی زندہ روایت کے ساتھ تعلق رکھا ؛ ضرور رکھا مگر اس روایت میں اپنے لحن کو ایزاد بھی کیا اور یہیں سے غزل کا باسی پن جھڑ کر الگ ہوا اور نئے پن کی کونپل پھوٹی تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ ڈاکٹر جمیل جالبی کے کہنے کا مطلب بھی یہی تھا۔ ان کا ایک جملہ عین مین مقتبس کر دیتا ہوں، جو انہوں نے مصحفی اور ناصر کے اشعار کا موازنہ کرنے کے بعد لکھا تھا:

”ناصر کاظمی نے اس امکان اور طرز و لہجہ کو مصحفی سے لیا اور اسے اس طرح اپنایا کہ یہ لہجہ و طرز ناصر کاظمی سے مخصوص ہو گیا۔“

اگرچہ بعد میں وہ مصحفی کے طرف دار ہو گئے تھے تاہم ماقبل سطور میں اس نوع کے اثرات کو خود مصحفی کے ہاں دکھا چکے تھے ؛ یہی کہ اس شاعر کا رنگ سخن میر و سودا کی آوازوں اور رنگوں کے امتزاج سے پیدا ہوا تھا۔

یہ بات ناصر نے اپنے ایک انٹرویو میں کہہ رکھی ہے کہ انہوں نے شاعری میں یہ جادو دیکھا تھا کہ اساتذہ کا کلام پڑھتے ہوئے گزر چکے زمانے اور صدیاں ان سے کلام کرنے لگتی تھیں، مردہ لمحے زندہ ہو جاتے تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مرا ہوا وقت جسے کوئی زندہ نہیں کر سکتا، شاعری اُسے زندہ کر دیتی ہے۔ تو یوں ہے کہ ناصر کاظمی کا اسی زندہ وقت سے معاملہ تھا جو ماضی، حال اور مستقبل میں ٹکڑے ٹکڑے ہو کر سامنے نہیں آتا ایک تنا ہوا پھیلاؤ رکھتا ہے۔ غزل کی مستحکم روایت سے اس تعلق کے باوصف ان کا لہجہ اپنا رہا ہے اور طرز ادا کی ندرت اور برجستگی کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ”برگ نے“ کے بعد ’دیوان‘ میں وہ جست لگا کر آگے بڑھے ہیں اور وہ شخصیت کا تصور گہرا ہوتا ہے جو کلام کرتے ہوئے اپنا لہجہ نرم اور شائستہ رکھتا ہے، جس کے الفاظ چنیدہ اور کومل ہیں اور داخلی جذبوں میں رمزیت اور بھید رکھ لینے پر قادر ہے۔ ناصر کے لیے روایت سے جڑنا روایت زدگی نہیں تھی۔ غزل ان کے مزاج میں اور وہ غزل کے مزاج میں رچے بسے تھے۔ یہی ان کا بہترین وسیلہ اظہار ہوئی۔ ان کے نزدیک تخلیقی عمل ایک زندہ عمل تھا جو لوگوں کی روح میں متحرک ہوتا تھا۔

سلیم احمد نے ناصر کاظمی کو ’نئی دنیا کا مسافر‘ کہا ہے۔ بجا کہ انہیں ماضی کی زندگی عزیز تھی اور ایسا اس کے باوجود تھا کہ جلتے ہوئے گھر اور سلگتی ہوئی بستیاں ان کی یادوں میں رہیں اور یہاں آ کر بھی نارسائیاں ان کی منتظر تھیں ؛ ایسے میں فطرت کی وسیع گود ہی ان کی پناہ گاہ بنی۔ یہ ایسی دنیا تھی کہ جس میں پرانی آوازوں پر ناصر کاظمی کا اپنا لحن نمایاں تر ہوتا چلا گیا۔ جس نئی دنیا کی بات سلیم احمد نے کی ہے اس میں ناصر تنہا تھے۔ وہ ایک خرابے میں آ بسے تھے ؛ ایک خرابہ جس کی ساری خرابیاں مل کر اس شاعر کی شاعری میں خوبی کی صورت ظاہر ہونے لگی تھیں۔ جس خرابے اور جن خرابیوں کی میں بات کر رہا ہوں ان کی جانب انتظار حسین نے ’چراغوں کا دھواں‘ کے ایک باب ’بے خانماں کی خانہ آبادی‘ میں اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ناصر کے بیٹھنے سونے کا ٹھکانا تک نہ تھا۔ گھروں میں ہنڈیا، ڈوئی، توے، چولہے کا کھٹراگ پھیلا رہتا ہے مگر ناصر اس سارے کاروبار سے بے نیاز تھے۔ یوں تو پرانی انارکلی میں ان کا گھر تھا مگر وہ سوتیلے بڑے بھائی کے تصرف میں تھا۔ ایک تنگ و تاریک کمرہ ناصر کو دے دیا گیا تھا۔ اس کمرے میں پڑے رہنے میں کوئی کشش نہ تھی، راتیں باہر گزرتیں۔ باقی سونے کا کیا تھا۔ وہ تو کہیں بھی سویا جا سکتا تھا۔ یوں رات ان کی شاعری میں در آئی تھی:

میں ہوں رات کا ایک بجا ہے
خالی رستہ بول رہا ہے

آج تو یوں خاموش ہے دنیا
جیسے کچھ ہونے والا ہے

کیسی اندھیری رات ہے دیکھو
اپنے آپ سے ڈر لگتا ہے

اس شہر بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں

اندھیری رات اور اس میں سے امنڈتے خوف کو غزل میں لے آنے والے ناصر کاظمی کے بارے میں شمس الرحمٰن فاروقی نے ایک ایسی بات کہی جو مجھے کھٹک رہی ہے ؛ لیجیے اس کا ذکر بھی کیے دیتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ ’ناصر کاظمی کا کٹر سے کٹر ترقی پسند دوست بھی ان کے کلام میں روح عصر تلاش نہیں کر سکتا۔‘ ناصر ترقی پسند نہ سہی مگر یہ کہنا کہ ان کے ہاں روح عصر بھی عنقا رہی ؛یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔ ناصر تو وہ شاعر تھے جن کا اپنے عصر کی اجتماعی زندگی سے رشتہ تھا مگر ان کا عصر ان کے وجود کے اندر سے ہو کر اور ان کی ذات کی آواز ہو کر تخلیق میں ڈھلتا تھا: اس باب کی چند مثالیں دیکھ لیجیے :۔

شور برپا ہے خانۂ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی

وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں

کہیں کہیں تو وہ براہ راست اجتماعی آواز کو گرفت میں لیتے ہوئے بھی دیکھے جا سکتے ہیں :

بازار بند، راستے سنسان، بے چراغ
وہ رات ہے کہ گھر سے نکلتا نہیں کوئی

اتنی خلقت کے ہوتے
شہروں میں ہے سناٹا

فصیلیں جل کر راکھ ہوئیں
نگری نگری کال پڑا

میں جب ’انتخاب غزلیات میر‘ پر کام کر رہا تھا تو میرا دھیان ناصر کاظمی کے ’انتخاب میر‘ کی طرف گیا تھا اور مظفر علی سید کے اس جملے کی گونج بھی سماعتوں میں تازہ ہو گئی تھی کہ ’میر کو اردو ادب کی تاریخ میں ناصر کاظمی سے زیادہ شاید ہی کسی نے پڑھا ہو۔ میر کا یہ انتخاب بعد ازاں ان کے فرزند اور عمدہ شاعر باصر سلطان کاظمی نے اپنے والد کی کتب، ڈائریوں اور کاغذات میں سے ڈھونڈ نکالا تھا۔ بقول ان کے، ‘ اردو کے کلاسیکی شعرا کا کلام ناصر کاظمی کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ مطالعے کے دوران اپنے پسندیدہ شاعر یا کسی اور اعتبار سے قابل توجہ اشعار پر نشانات لگانا اور بعض اوقات حواشی لکھنا بھی ان کی عادت تھی۔ ’اور یہ کہ‘ میر اور نظیر کا انتخاب انہوں نے الگ الگ کاپیوں میں اپنے ہاتھ سے خوش خط نقل کر رکھے تھے۔ ’اسی انتخاب کے ابتدائی صفحات میں شامل کیے گئے ناصر کے مضمون‘ میر ہمارے عہد میں ’میں انہوں نے یہ بھی بتا رکھا ہے کہ ‘وہ میر کے رسیا تھے میر پرست نہیں’ تاہم اس میر کے رسیا کے مطابق :رات آرام کے لیے ہوتی ہے مگر میر کے زمانے میں یہ رات گزار لینا بھی بڑا کام تھا۔ میر نے اس رات کو محض رو پیٹ کر نہیں گزارا بلکہ اس ویران کے سناٹے میں کچھ شب چراغ روشن کیے۔‘ انہوں نے میر کے زمانے کی رات پر بات کرتے ہوئے اضافہ کیا تھا کہ یہ ہمارے زمانے سے آ ملی ہے قافلے کے قافلے اس رات میں گم ہوتے رہے ہیں ’۔ خود ناصر کاظمی کو بھی اسی رات میں سنسان گلیوں سے گزرنا پڑ رہا تھا۔ یہ ایسا تخلیقی تجربہ تھا جس میں نہ صرف ماضی، حال اور مستقبل گڈ مڈ ہو گئے تھے ناصر کی غزل نے زبان کے وسیلے سے اپنی روایت کے زرخیز سوتوں تک رسائی بھی پائی تھی اور بہت کچھ اخذ و اضافے سے نئی دنیا تشکیل دی تھی۔

میر صاحب پر لکھا گیا یہ مضمون ہو یا کچھ اور مضامین، ان کی بابت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہاں بھی انتظار حسین کے کہے کو سچ مان لیا جائے گا کہ ناصر نے انہیں بلی کی جون میں سات گھر پھر پھرا کر لکھا ہو گا۔ کچھ مضامین مفصل بھی ہیں اور مربوط بھی اور ناصر کے تخلیقی سروکار بیان کرتے ہیں۔ ’میں کیوں لکھتا ہوں‘ کے عنوان سے لکھتے ہوئے انہوں نے اپنے بچپن میں زمین کے گول ہونے کا سن کر اچھلنے اور گیند کی گولائی کا ذکر کیا اور عجیب جملہ لکھا تھا کہ خدا بھی زمینی گیند سے کھیلتا ہے۔ جن دوستوں کے ساتھ ناصر کھیلا کرتے تھے ان سے بچھڑنے کا ذکر ہوا اور اپنے تنہا ہونے کا بھی۔ ایک تخلیق کار کی تنہائی یا اس کے عہد کو سمجھنے کے لیے ’میرا ہم عصر‘ کا عنوان پاتا مضمون بہت اہم ہے جس میں وہ بتا رہے ہیں کہ کلاک ٹائم کے مطابق شہرت بخاری ان کے ہم عصر ہوں گے مگر شعر کہہ کر وہ میر کو اور احمد مشتاق کو سنایا کرتے تھے کہ جس زمانے میں احساس کی سطح پر وہ تھے، وہیں کہیں میر بھی تھے اور احمد مشتاق بھی۔ ’روایت اور ارتقا‘ کی ذیل میں انہوں نے لکھا کہ ’روایت وہ روح ہے جو عصر رواں میں دھڑکتی ہے۔ اور اس کا بھید اس نظر پر کھلتا ہے جو جدید زمانے میں کھلتی ہے۔ ‘ جس زمانے میں ناصر تھے یہاں وہاں ادب پر جمود طاری ہونے یا ادب کی موت کی باتیں بھی سنائی دینے لگی تھیں مگر وہ ایسے لوگوں سے متفق نہ تھے۔ ’ادب میں جمود‘ میں انہوں نے لکھا ’ادب کی سست رفتار کو جمود کہنا ہمارے بیمار اور تھکے ہوئے ذہنوں کا عجز ہے۔‘ یہ مضامین پڑھ کر ناصر کاظمی کے تخلیقی وجود کی مہک بھی آتی رہتی ہے۔ ناصر کاظمی نے غزلیں، نظمیں لکھیں، نظیر اکبرآبادی، غالب، داغ، حسرت موہانی، اقبال، راشد، میرا جی، فیض پر ریڈیائی فیچر لکھے مگر اطاعت کے معاملے میں انہوں نے غزل ہی کو دیکھا ؛ اس باب میں ان کا ایقان پختہ تھا ؛ انہی کا جملہ دہراتا ہوں ؛ جس طرح خدا اپنے بندے سے اطاعت چاہتا ہے، اسی طرح غزل بھی اپنے شاعر سے اطاعت چاہتی ہے۔

جب ہمارے شعور کی آنکھ کھل رہی تھی، اس زمانے میں ناصر کاظمی کا طوطی ہر کہیں بولتا تھا۔ پہلے ریڈیو اور اخبارات میں، اور پھر ٹی وی آیا تو اس کے وسیلے سے بھی۔ وہ تب کی نوجوان نسل کے دلوں پر دستک دیتے تھے۔ شاید ہی اتنی مقبولیت کسی اور کے حصے میں آئی ہو گی۔ اب لگتا ہے کہ ان کا ذکر کم کم ہونے لگا ہے ؛ ایسا کیوں ہے؟ یہ سوال میں نے ویبنار میں اٹھایا تھا مگر اس کا جواب کیا آیا یہ سننے سے پہلے مجھے رخصت ہونا پڑا تھا۔ لیجیے آخر میں اسی غزل سے دو اشعار درج کیے دیتا ہوں جس کا ٹکڑا عنوان میں ٹانک لیا تھا:

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ
وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصرؔ
تری گلی تک تو ہم نے دیکھا تھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW