خود غریب ہو جانے سے غربت کا خاتمہ ممکن نہیں
شادی سے پہلے مساوات میں ملازمت کے ابتدائی زمانے میں میرے اندر ایک انقلابی جوش و جذبہ موجزن تھا۔ دفتر جانے کے لئے امی نے ایک رکشہ لگوا دیا تھا۔ جو مجھے گھر سے دفتر لے کر جاتا تھا۔ ایک دن رکشہ ڈرائیور نے مجھے اپنے گھر چلنے کی دعوت دی، وہ محنت کشوں کی آبادی میں رہتا تھا۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ میں نے سوچا یہ تو ایک انقلابی تجربہ ہو گا۔ ”عوامی زندگی“ سے متعارف ہونے کا نادر موقع۔ میں نے فوراً اس کی دعوت قبول کر لی۔ اور اس کے ساتھ اس کے گھر چلی گئی۔ اس کی ماں مجھے دیکھ کر قدرے پریشان سی ہوئی لیکن میں اپنے ایڈونچر سے اتنی خوش تھی کہ میں نے اس کے تاثرات پر دھیان نہیں دیا۔ اور دفتر پہنچ کر فخریہ انداز میں اپنے کولیگز کو بتایا کہ میں ایک رکشہ والے کا گھر دیکھ کر آ رہی ہوں۔ احفاظ اور دیگر ساتھی میری بات سن کر چپ ہو گئے۔ کوئی کچھ نہیں بولا۔
شادی کے بعد مجھے پتا چلا کہ احفاظ کے بڑے بہنوئی بھی رکشہ چلاتے تھے۔ ہماری شادی کے کئی سالوں بعد تک یہی ان کا ذریعۂ روزگار رہا۔ میں جو ایک رکشہ والے کا گھر دیکھنے کو ایک انقلابی قدم سمجھتی تھی، میرے لئے یہ اپنے خوابوں سے بیدار ہو کر ایک کڑوی حقیقت کا سامنا کرنے کے مترادف تھا۔ یہ بات میرے والدین کے لئے جو پروفیشنل مینجیریل کلاس کے نمائندہ تھے، سراسر شرمندگی کا باعث تھی کہ ان کا کوئی رشتہ دار رکشہ چلاتا تھا۔ کچھ سالوں بعد میں نے بھی یہ اصرار کرنا شروع کر دیا تھا کہ انہیں کوئی اور کام کرنا چاہیے۔ کاش میں ایسا نہ کہتی، یہ میرے ڈی کلاس ہونے کے فلسفے کی نفی تھی۔ اس وقت میں نے یہ بھی نہ سوچا کہ احفاظ کو میری تجویز سے کتنی تکلیف ہوئی ہو گی۔
قارئین، ذرا مندرجہ بالا رکشہ والے کے گھر جانے والا پیراگراف دوبارہ پڑھیے۔ جب میں انقلابی ہونے کی cosplaying اور ایک رکشہ والے کے گھر جانے جیسی بیوقوفانہ رومینٹک حرکتیں کر رہی تھی۔ تو احفاظ تو سچ مچ ان ہی کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔ میں غربت کو رومانوی رنگ دے رہی تھی لیکن احفاظ تو واقعی اس کا شکار رہے تھے۔ میں نے غربت نہیں دیکھی تھی۔ میرے لئے یہ ایک رومانوی چیز تھی۔ مثال کے طور پر یونیورسٹی کے زمانے میں نظریاتی اور انقلابی دھن میں ایک مرتبہ میں نے اپنے ایک دوست سے کہا تھا، ”میں تو اپنے بچوں کو ٹاٹ والے اسکول میں پڑھاؤں گی۔“ اور وہ پریشان سا ہو کے خاموش ہو گیا تھا۔ اس وقت میں نہیں جانتی تھی کہ جب میں سچ مچ ماں بنوں گی تو میری خواہش ہو گی کہ میں اپنے بچوں کو کراچی کے بہترین اسکول میں داخل کرواؤں۔ ماں بننے کے ساتھ ہی مجھے اپنے والدین کی ساری مادیت پسند خواہشیں اور باتیں سمجھ آ گئی تھیں۔
مجھے اندازہ ہے کہ میری نسل کے بہت سے لیفٹسٹس اسی رومانویت کا شکار رہے اور پھر آگے چل کر اسی طرح ان پر حقیقت آشکار ہوئی۔ احفاظ کے ایک دوست تو لندن میں اپنی میڈیکل کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر پاکستان میں انقلاب لانے کے لئے اپنی انگریز بیوی کے ساتھ آ گئے تھے اور لیاری میں جھونپڑی ڈال کر رہنے لگے تھے۔ کچھ عرصہ بعد میم صاحبہ جنہیں یہاں بالٹیوں میں پانی بھر کے لانا پڑتا تھا، واپس چلی گئیں۔ کچھ عرصہ بعد وہ دوست بھی واپس چلے گئے اور نظریاتی طور پر بھی کسی اور طرف نکل گئے۔
میں نے اور احفاظ نے نظریاتی بنیادوں پر ایک دوسرے کے عشق میں ڈوب کر شادی کی تھی۔ جب کہ کچھ کی شادی کے فیصلے کمیونسٹ پارٹی نے کیے تھے۔ مگر اکثر لیفٹسٹ مردوں نے گھر والوں کے کہنے پر یعنی ارینجڈ شادیاں کیں۔ مجھے اس وقت بہت حیرت ہوئی تھی جب ایک سکہ بند لیفٹسٹ دوست نے ایک روز بڑے اطمینان سے ہمیں بتایا تھا کہ گھر والوں نے اس کی شادی اس لڑکی کے ساتھ طے کر دی ہے جو یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ تھی۔ میں ان کی شکل دیکھتی رہ گئی تھی یعنی انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ ان کی زندگی کی ساتھی بننے والی لڑکی نظریاتی طور پر مخالف کیمپ سے تعلق رکھتی ہے۔ کیا میں ایسا کر سکتی تھی؟ ہرگز نہیں۔
میری عمر اس وقت چوبیس سال تھی اور تب میں یہ بات سمجھ نہیں پائی تھی کہ میرے غریب بن جانے سے انقلاب نہیں آ جائے گا۔ ستم ظریفی تو یہ ہوئی کہ غربت یا معاشی تنگدستی کی بدولت میں نے انقلاب کے لئے کام کرنے، مزدوروں کو کارخانوں میں حصہ دار بنانے اور جاگیرداروں سے زمینیں لے کسانوں میں بانٹنے جیسے آدرشوں اور اس طرح کے بہت سے خوابوں کے لئے کام کرنے کے مواقع کھو دیے۔ خواب جو نا ممکن سے لگتے ہیں مگر یہی ہماری دنیا کو بچانے کی آخری امید ہیں۔
جنہیں طعنہ زنی کی عادت ہے، وہ تو یہ سطور پڑھ کر یہی کہیں گے کہ وہ سب کچھ جسے کرنے کا ہم نے خواب دیکھا، غلط تھا اور ہم احمق تھے، ہمارا شعور ناپختہ تھا۔ یہ صحیح ہے کہ ہمارا ذہن ناپختہ تھا لیکن کیا ہمارے آدرش اور مقاصد بھی غلط تھے؟ میرا جواب ایک زوردار ”نہیں“ ہو گا۔ ہم نے انقلاب کے صحیح خواب دیکھے تھے۔ اس وقت دنیا کو جن اقتصادی اور سیاسی بحرانوں کا سامنا ہے، ان سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ ہم صحیح تھے۔ ہمارا طریقہ غلط تھا، ہماری حکمت عملی غلط تھی اور ہم نے حقیقی زندگی کی حدود و قیود سے آنکھیں بند کر رکھی تھیں۔ (دیکھئے باب ششم) ۔ ہمارے خواب سچے تھے، صحیح تھے۔

