فیچرزمیرے مطابق

بینک فراڈ کا سچا واقعہ

shahid lateef

راوی: سلیم حیدر کاظمی
تحریر: شاہد لطیف

بینک فراڈ خواہ ملک میں ہوں یا بیرونِ ملک، اِن کو کرنے اور پکڑنے والے، دونوں ہی بہت خاص لوگ ہوتے ہیں۔ پچھلے دِنوں خاکسار کو ایک سابقہ بینکر کے پاس بینک فراڈ کے موضوع پر بات کرنے کا موقع ملا۔ اِس گفتگو میں ہوشربا واقعات سننے کو مِلے۔ ایسا ہی ایک واقعہ پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں :

1980 کی دہائی کا ذکر ہے میں کراچی کے ایک معروف بینک میں ایک ذمہ دار عہدے پر کام کرتا تھا۔ میری ڈیوٹی غیر ملکی کرنسی کے لین دین سے متعلق تھی۔ ہمارے بینک کے ایک پرانے کھاتے دار تھے جو حاجی صاحب کہلاتے تھے۔ مذکورہ بینک کے ساتھ اُن کا اُس زمانے میں کروڑوں کا کاروبار تھا۔ شاید وہ سال کے 365 دِن روزے سے ہی ہوتے تھے۔ جب کبھی چائے پانی کا پوچھا تو یہی سننے کو ملا کہ ”میں تو روزے سے ہوں“ ۔ ہاتھ میں لمبی سی تسبیح، لمبی داڑھی، وضع قطع میں وہ کسی مسجد کے امام لگتے تھے۔ ’زنجیر انٹرپرائز‘ ( اصل نام نہیں ) کے نام سے حضرت کے کئی ایک کولڈ اسٹوریج تھے۔ یہ مچھلی برامد بھی کرتے تھے۔ ایک دِن میرے پاس آئے اور رازداری سے کہا :

” میرے پاس دس ملین امریکی ڈالر ہیں۔ میں اِن کے عوض کچھ قرضہ لینا چاہتا ہوں“ ۔
” پھر! اِس میں تو کوئی مشکل نہیں۔ ٹھیک ہے۔ لے لیں“ میں نے کہا۔
” لیکن ایک مسئلہ ہے“ اُنہوں نے اُسی طرح آہستہ سے کہا۔
میں نے سوالیہ نظروں سے اُن کی طرف دیکھا تو وہ بولے۔

” یہ میری بیٹی کی امانت ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اِس میں سے ایک ڈالر بھی اِس برانچ سے باہر نہ جائے۔ کیوں کہ میں اس کو امانت میں خیانت سمجھتا ہوں۔ وہ تو میری مجبوری آ گئی اور مجھے ایک قرضے کی ضرورت پڑ گئی“ ۔

یہ ایک بہت بڑی رقم تھی۔ اسٹیٹ بینک کے حکم کے مطابق ہم اپنی برانچ میں چالیس ہزار امریکی ڈالر سے زیادہ کی رقم نہیں رکھ سکتے تھے۔ اس سے زیادہ مقدار ہر صورت ہمیں سنگاپور بھیجنا پڑتی تھی۔ بیشک حاجی صاحب ہمارے بینک کے ساتھ کروڑوں کا کاروبار کرتے تھے لیکن کبھی قواعد کی خلاف ورزی نہیں کی۔ اب جو انہوں نے یہ بات کہی تو میں ٹھٹکا۔ میں نے ہلکے سے ماتھے پر بَل ڈال کر اُن سے کہا:

” آپ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے“ ۔
” برائے مہربانی کچھ کرو! کوئی راستہ نکالو کہ یہ ڈالر یہیں رہیں۔ یہ امانت ہے“ ۔ حاجی صاحب نے کہا۔

میں اِن صاحب کو بٹھا کر برانچ کے سربراہ کے پاس یہ مسئلہ لے کر گیا۔ کہنے لگے کہ بہت سے قواعد مخصوص حالات میں لاگو نہیں رہتے لہٰذا اُنہوں نے ایک بیچ کا راستہ نکالا اور حاجی صاحب کے دس ملین ڈالر میں سے پچاس ہزار ڈالر لکھت پڑھت کے ساتھ اور باقی کے ایک بیچ کا راستہ نکال کر برانچ میں رکھ لیے۔ قاعدے قانون کو بائی پاس کر کے اُن صاحب کو مطلوبہ قرض بھی دے دیا گیا۔ یہ سب ضابطے کے تحت نہیں ہوا، ہو بھی نہیں سکتا تھا۔

ہونی ہو کر رہتی ہے۔ برانچ میں جو ساتھی روزانہ کی بنیاد پر امریکی ڈالر سنگاپور بھیجا کرتا تھا، کسی مجبوری کی بنا پر باقی آدھے دِن کی چھٹی کر گیا۔ اُس کی جگہ جس ساتھی نے اُس کے حصے کا کام کیا اُسے کچھ بتایا نہیں گیا کہ ’حاجی صاحب‘ والے ڈالر سنگاپور نہیں بھیجنے لہٰذا اُس نے معمول کے مطابق زائد ڈالر سنگاپور بھیج دیے۔

چند روز بعد سنگاپور سے یہ ڈالر ایک خط کے ساتھ واپس آ گئے کہ تمام نوٹ جعلی ہیں۔ یہ نا خوشگوار وصولی میں نے ہی کی۔ جب میں نے یہ دھماکہ خیز خبر برانچ کے سربراہ کو سنائی تو اُن کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ جلد یا بدیر بات اوپر تک جانا ہی تھی۔ اب جو کچھ کرنا تھا فوراً کرنا تھا۔ لیکن کیا کرنا تھا؟ ابھی کوئی پتا نہیں تھا۔

گڑے مُردے اُکھاڑنا فضول تھا۔ جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ اب آگے کی منصوبہ بندی برانچ کی ساکھ کو داؤ پر لگائے بغیر کرنا تھی۔ سنگاپور سے واپس آنے والے ڈالر گویا دیگ کے چند دانے تھے لہٰذا ”دیگ“ کیسی ہو گی روزِ روشن کی طرح سے عیاں تھا! حاجی صاحب نے ہوشیاری سے ردی کاغذوں کے بدلے بینک سے قرضہ لے لیا۔ طے شدہ منصوبے کے تحت وہ چند ماہ بعد اطمینان سے اپنی ”ردی“ بینک سے اُٹھاتے اور بینک کا قرضہ واپس کر دیتے۔ حاجی صاحب نے باقاعدہ سوچ سمجھ کر ہماری برانچ میں یہ کھیل کھیلا تھا۔ بہت ممکن تھا کہ وہ اِس میں کامیاب بھی ہو جاتے اگر اُس روز اتفاقاً اُن کے ڈالر سنگاپور نہ بھیجے جاتے۔

حاجی صاحب سے رابطہ کرنے اور ایف آئی اے /پولیس میں کیس لے جانے سے پہلے مجھ سمیت برانچ کے تین افراد کو ہیڈ آفس بلوایا گیا، جہاں بینک کے صدر اور بینک میں فراڈ پکڑنے کے شعبہ کے افراد نے سارا ماجرا شروع سے آخر تک سُنا۔ بینک سے حاجی صاحب مفت میں جو پیسے قرضے کی مد میں لے گئے تھے اُن کی وصولی تھانہ کچہری کے بغیر بھی ہو سکتی تھی۔ اصل مسئلہ جعلی ڈالروں کا تھا جو ہماری برانچ سے سنگاپور بھیجے گئے تھے اور وہاں سے مسترد ہو کر آنے کا ریکارڈ تحریر میں آ چکا تھا۔ ایک آدھ یا چند ڈالر جعلی ہوتے مسئلہ تب بھی ہوتا لیکن یہاں تو حاجی صاحب کے تمام ڈالر ہی جعلی نکلے! جو ہرگز اتفاق نہیں ہو سکتا۔ چونکہ سنگاپور والوں نے سرکاری طور پر ہمارے بینک کو اس معاملے کا بتایا تھا اس لئے اس معاملے کی تفتیش لازمی تھی۔ یہ طے ہوا کہ فی الوقت حاجی صاحب کو اس معاملے کی بھنک بھی نہیں پڑنی چاہیے۔

بینک کے شعبہ فراڈ نے پولیس اور ایف آئی اے سے مدد کی درخواست کی۔ اس معاملے میں چھان بین کرنے کے لئے حاجی صاحب اور اُن کے کاروبار سے متعلق معلومات چاہئیں۔ ایک ہفتہ میں یہ معلومات مل گئیں۔ پاکبازی کے بھیس میں کیا کیا کھیل کھیلے جا رہے تھے۔ معلوم ہوا کہ مچھلی کے کاروبار کی آڑ میں منشیات برآمد کی جا رہی تھیں۔

بینک، ایف آئی اے اور پولیس نے حاجی صاحب کو پکڑنے کا حتمی منصوبہ بنا لیا۔ اِس دوران حاجی صاحب معمول کے مطابق بینک آتے جاتے رہے اور بینک والے بھی اُن سے معمول کے مطابق معاملہ کرتے رہے۔ منصوبہ بنانے کے بعد ایک مقررہ دن ایف آئی اے اور پولیس افسران بینک آ گئے، حاجی صاحب کو فون کر کے بینک بلوایا گیا کہ قرض کی ادائیگی کے سلسلے میں کوئی کارروائی کرنا ہے۔ جب حاجی صاحب بینک پہنچے تو انہیں عزت کے ساتھ بینک منیجر کے کمرے میں پہنچایا گیا۔ میں بھی کمرے میں تھا۔ میں نے غور سے حاجی صاحب کا جائزہ لیا۔ مجال ہے جو ان کے چہرے پر ذرا بھی تبدیلی آئی ہو! ایجنسی کے لوگ دیوار کے ساتھ صوفوں پر بیٹھے تھے۔ منیجر کی کرسی پر ہمارے بینک کے صدر بیٹھے ہوئے تھے۔ سامنے کی تین کرسیوں میں دو پر بینک منیجر اور شعبہ فراڈ کے سربراہ بیٹھے تھے۔ حاجی صاحب کمرے پرایک سرسری نظر ڈال کر خالی کرسی پر بیٹھ گئے۔ صدر صاحب رسمی گفتگو کے بعد براہِ راست اصل موضوع پر آ گئے۔

” حاجی صاحب! آپ کا خاندان تین نسلوں سے ہمارے ساتھ کاروبار کر رہا ہے۔ آپ کے والد کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔ مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آپ نے اپنے خاندان کا نام ڈبو دیا۔ آپ ان افسران کو دیکھ رہے ہیں؟ انہوں نے آپ پر الزام لگایا ہے کہ آپ مچھلی کے کاروبار کے ساتھ منشیات بھی برآمد کر رہے ہیں“ ۔

حاجی صاحب کے چہرے پر حیرانی کے تاثرات ابھرے، بلند آواز سے استغفار پڑھا اور کہنے لگے : ”توبہ توبہ! جناب یہ کیسی بات کر دی؟ میں اور منشیات؟ توبہ توبہ! ویسے بھی مچھلی کے سارے دھندے کو میرا منیجر دیکھتا ہے۔ اگر ایسی بات ہے تو میں ضرور اس کی چھان بین کروں گا۔ حد ہو گئی۔ میری ناک تلے ایسا کام“ ۔

صدر صاحب مسکرائے اور بولے : ”اچھا تو وہ جو ڈالر آپ نے رکھوائے تھے اُن کا کیا معاملہ ہے؟“

حاجی صاحب نے مسکین صورت بنائی اور عاجزی سے کہنے لگے : ”جناب! آپ کا اور ہمارا تو پرانا حساب کتاب ہے۔ یہ تو آپ کا بڑا پن ہے کہ بینک نے میری درخواست قبول کی اور میری امانت کو محفوظ رکھا“ ۔

صدر صاحب تھوڑا سا آگے جھکے اور اپنے سامنے رکھے ہوئے رجسٹر کو ان کے آگے کھسکایا۔ اُس پر نہ صرف جعلی ڈالروں کے نمبر لکھے ہوئے تھے بلکہ ساتھ ہی مُہر لگے مسترد شدہ نوٹ بھی رکھے ہوئے تھے۔ حاجی صاحب نے سوالیہ نظروں سے صدر صاحب کو دیکھا۔

” انہیں پہچانتے ہیں؟“ ۔ صدر نے کہا۔
” میرا اس سے کیا تعلق؟“ انہوں نے بے نیازی سے کہا۔

” اس کو غور سے پڑھیں، اس رجسٹر میں آپ کے نام کے تحت ان ڈالروں کے نمبروں کا اندراج ہوا ہے۔ یہ تو ہماری خوش قسمتی تھی کہ غلطی سے یہ سنگاپور چلے گئے۔ اور اس غلطی نے ہمیں ایک اور غلطی سے بچا لیا۔ اس پر تو یہ تک لکھا ہے کہ یہ جعلی نوٹ ہانگ کانگ میں چھپے تھے“ ۔

صدر صاحب نے ایک ایک چیز وضاحت کے ساتھ ان کے سامنے رکھ دی مگر مجال ہے کہ اُن ماتھے پر کوئی شکن آئی ہو یا گھبراہٹ کا کوئی عنصر پیدا ہوا ہو، وہ مستقل انکار پر اڑے ہوئے تھے۔

” ان جعلی ڈالروں کے عوض جو قرضہ آپ نے لیا تھا وہ تو ہم وصول کریں گے ہی لیکن مچھلی کے کاروبار کے معاملے کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ اسی لئے ہم نے ان افسران کو یہاں بلوایا ہے۔ یہ جانیں اور ان کا کام! برائے مہربانی ابھی اور اسی وقت ہمارا پیسہ واپس کریں۔ آپ کے والد کی وجہ سے بینک آپ پر کوئی کیس نہیں بنا رہا۔ لیکن اگر ابھی ادائیگی نہ ہوئی تو ہمیں مجبوراً کیس درج کرانا پڑے گا“ ۔

اس تمام گفتگو کے بعد بھی حاجی صاحب ذرا نہیں گھبرائے۔ انتہائی طنطنے کے ساتھ کہنے لگے :
” ٹھیک ہے! میں ابھی رقم منگواتا ہوں“ ۔
پھر حاجی صاحب نے بے اعتنائی سے صوفوں پر بیٹھے ہوئے افراد کی طرف دیکھا اور کہنے لگے :

” بھئی! ٹھیک ہے! گودام اور کولڈ اسٹوریج میرے ہی ہیں لیکن انتظام تو منیجر کرتا ہے۔ اب اگر ایسی کوئی اطلاع ہے جیسا کہ صدر صاحب کہہ رہے ہیں تو اس کا معاملہ بھی طے کر لیں گے“ ۔

بینک کے پیسے ادا ہو گئے۔ حاجی صاحب اور ایجنسی والے چلے گئے۔ حاجی صاحب کا بینک کے ساتھ حساب کتاب جاری رہا۔

نہ کسی نے اُن سے کچھ پوچھا نہ انہوں نے ہی کچھ بتایا۔ کچھ عرصہ بعد میں نے خود بینک کی ملازمت چھوڑ دی۔

میں یہ قصہ سن کر حیران رہ گیا۔ میں تو سمجھتا تھا کہ این آر او مشرف دور کی اختراع ہے لیکن اب پتا چلا کہ یہ تو ہر دور میں موجود رہا ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
Anis Kamal
Anis Kamal
7 months ago

Nice

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW