چین امریکہ توازن اور پاکستان
سرزمین فورم کے سربراہ صفدر خان کو یہ کمال حاصل ہے کہ وہ گاہے بگاہے پاکستان کو درپیش قومی مسائل کے حوالے سے فکری نشستوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں ابھی حالیہ نشست میں راقم الحروف کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی کے ڈاکٹر امجد مگسی، ڈاکٹر افتخار، ثروت کاظمی، رٹائرڈ ڈی آئی جی نوید الہی، عرفان اطہر قاضی، نور الامین میجر نیر شریک گفتگو تھے۔ خیر ویسے تو یہ موضوع ایک طویل عرصے سے زیر بحث ہے کہ پاکستان کے امریکہ اور چین سے تعلقات میں توازن کیسے قائم کیا جاسکتا ہے مگر مودی کی بے وقوفی کے بعد یہ مسئلہ اور زیادہ اہمیت اختیار کر گیا۔ سرزمین فورم پر اپنی گزارشات پیش کرتے ہوئے میں نے عرض کی کہ پاکستان کو مد نظر رکھتے ہوئے جب ان دونوں بڑے ممالک کے ساتھ تعلقات کا خاکہ مرتب کیا جاتا ہے تو اس میں کوئی دوسری رائے سرے سے قائم ہی نہیں کی جا سکتی ہے کہ دونوں سے پاکستان کے تعلقات کی نوعیت ہی مختلف ہے اور جب تعلقات کی نوعیت ہی مختلف ہے تو پھر ان دونوں سے تعلقات کو توازن دینا ممکن ہو جاتا ہے۔
ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم ان دونوں کو ان مختلف نوعیت کے امور کا ادراک کروانے میں کامیاب ہو جائیں۔ جب ہم ایک خالص طور پر دو طرفہ معاشی سرگرمی سی پیک کو گیم چینجر اور ایک مقابلہ جاتی شے کے طور پر پیش کرتے ہیں تو اس کا منطقی نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ ہم اس کا ایک مخالف فریق خود ہی تراش لیتے ہیں اور یہ خود تراشہ ہوا فریق بہر حال اس پر نظریں ضرور گاڑ لیتا ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور پھر وہ اپنے مفادات کا تعین کرتے ہوئے اقدامات بھی کر گزرتا ہے۔
اس بات کو اچھی طرح سے ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ چین کی بھی یہ قطعی طور پر خواہش نہیں ہے کہ وہ پاکستان سے اپنے تعلقات کو امریکہ کے مد مقابل اقدام کے طور پر پیش کرے۔ ویسے بھی ابھی تک چین کی یہ حکمت عملی رہی ہے کہ وہ کسی سے بھی تصادم سے حتی المقدور حد تک اجتناب کرتا ہے۔ ما سوائے ”ایک چین“ پالیسی کے وہ کسی بھی معاملہ کو ٹھنڈا ہو کر ہی طے کرنا چاہتا ہے۔ ابھی جب پاک انڈیا تصادم ہوا تو شکست کے بعد انڈیا کی جانب سے جان بوجھ کر چین کو اس چار روزہ جنگ میں ایک متحرک فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی مگر چین نے اس سب شرارت کے باوجود رد عمل انتہائی محتاط ہو کر دیا۔
اور اب جب پانچ سالوں بعد انڈیا کے وزیر خارجہ، گلوان کی جھڑپوں اور پاک انڈیا تصادم کے بعد انڈیا کے وزیر خارجہ بیجنگ پہنچے تو اس پر انڈیا کے معروف پروفیسر پشپ ادھیکاری کا کہنا تھا کہ ”روس سے خبر آئی ہے کہ وہ روس، چین، انڈیا کے سہ فریقی اتحاد کو فعال کرنا چاہتا ہے۔ اب انڈیا کو کچھ جواب دینا ہی پڑے گا کیوں کہ دلی اس معاملے پر امریکہ کے قریب ہو رہا تھا۔ اب انڈیا کو اپنا پارٹنر منتخب کرنے کا چیلنج درپیش ہو گا۔“
ہمیں اس کا خیال رکھنا چاہیے کہ لاجسٹکس ایکسچینج میمورنڈم آف ایگریمنٹ (لیمیو) ، کمیونیکیشنز کمپیٹیبلٹی اینڈ سیکیورٹی ایگریمنٹ (کوم کاسا) اور بیسک ایکسچینج اینڈ کوآپریشن ایگریمنٹ (بیکا) جیسے معاہدوں کے ذریعے بھارت کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری اس کی امریکہ کی قربت حاصل کرنے کی خواہش کو واضح کرتی ہے مگر پھر بھی انڈیا میں جان بوجھ کر بھی چین کے حوالے سے گفتگو ہو رہی ہے تا کہ امریکہ کو یہ باور کرایا جا سکے کہ اگر امریکہ انڈیا کو وہ حیثیت نہیں دیتا ہے جس کا انڈیا تقاضا کرتا ہے تو وہ اس نوعیت کے بھی کسی اتحاد میں جا سکتا ہے حالاں کہ دلائی لامہ کو استعمال کرنے جیسے اقدامات واضح کرتے ہیں کہ انڈیا خطے میں بھی ہر کسی سے پنگا لینے میں مشغول ہی رہتا ہے۔
اور بیجنگ کے شہ دماغ اس سب کو اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔ اسی لئے یہ طے شدہ امر ہے کہ چین کسی بھی ملک سے جتنی مرضی قربت اختیار کر لے مگر اس سے اس کے پاکستان سے تعلقات کی حیثیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ امریکہ کے حوالے سے یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ آرمی چیف سے ملاقات کے بعد دنیا بھر میں یہ تصور قائم ہو رہا ہے کہ امریکہ کی پاکستان پالیسی میں ایک شفٹ آ رہا ہے حالاں کہ یہ ذہن میں رہنا چاہیے کہ گزشتہ چند ماہ سے امریکہ کا سفیر تک موجود نہیں ہے۔ قائم قام سفیر اور پولیٹیکل قونصلر پاکستان کو بہت بہتر طرح سمجھتے ہیں مگر بہر صورت باقاعدہ سفیر کا ہونا از حد ضروری ہے۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اگر پاکستان معاشی میدان میں بھی کوئی کامیابی حاصل کر لے تو امریکہ سے تعلقات کی حیثیت مزید بڑھتی چلی جائے گی۔ دونوں بڑے ممالک میں یہ تصور بہت تیزی سے قائم ہو رہا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر سٹرکچرل ریفارمز تو کرلی ہیں مگر سرمایہ کاری لانے یا اندرون ملک اشیا کی قیمتوں پر کنٹرول کرنے میں ابھی تک کامیابی موجودہ سیٹ اپ کو حاصل نہیں ہو سکی ہے اور یہ بہت تشویش ناک بات ہے۔ اس وجہ سے ہی ان اطراف سے سیٹ اپ سے وابستگی میں کمی کی بھی خبریں تواتر سے آ رہی ہے جو کہ پاکستان کے آئینی نظام کے لئے نیک خبریں نہیں ہے۔
اس بات کا تو برملا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان انڈیا سے جیتنے کے باوجود ابھی تک اس کو سندھ طاس معاہدے پر واپس نہیں لا سکا ہے اور اگر اکتوبر تک انڈیا کی موجودہ پوزیشن برقرار رہی تو ایسی صورتحال پانی کے حوالے سے خطرناک رخ اختیار کر جائے گی۔ اور اس کے اثرات پاکستان کی سیاسی زندگی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ چین پاکستان کی سماجی زندگی میں بھی بھرپور کردار ادا کرنے کے حوالے سے اقدامات کر رہا ہے ابھی تعلیم کے شعبے میں ہی پاکستان مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن کمپنی نے انجنیئرنگ یونیورسٹی لاہور کے طلبا کو اسکالر شپس دیے ہیں۔
اس نوعیت کے اور بھی امکانات مختلف یونیورسٹیوں کے لئے سامنے آ رہے ہیں مگر یہ بہت ہی افسوس ناک صورت حال ہے کہ مختلف یونیورسٹیوں کے حکام ان امکانات کو حقیقت میں تبدیل کرنے میں کوئی دل چسپی ظاہر نہیں کرتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ ہوا کہ۔ انجینئرنگ یونیورسٹی میں ہی ایک ملک پورا ڈیپارٹمنٹ بنا کر دینا چاہتا ہے۔ ایک دوست نے تو مجھ سے درخواست کی کہ میں وزیر اعلی پنجاب مریم نواز کے نوٹس میں لے کر آؤں کے اس قسم کی پیشکشیں موجود ہیں مگر ان پیشکشوں کے حوالے سے کوئی جواب موصول نہیں ہو رہا ہے۔

