
مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہیولیٰ برق خرمن کا، ہے خون گرم دہقاں کا
تشریح:
میرے جسم کے اندر خود بخود ایک ایسا مادّہ/ خوبی/ رُجحان موجود ہے جو مجھے فنا کر رہا ہے گویا میرے خرمن (جسم ) پر گرنے والی بجلی میری ہی سر گرمی ہے۔ جو بجلی دہقاں کی خرمن پر گرتی ہے اس کا ہیولیٰ ( مادہ/ چنگاری) دہقاں کے خون گرمانے سے بنتا ہے۔ یعنی جب مجھے پیدا کیا گیا تو مجھ میں ایک ایسا گیجٹ نصب کیا گیا جو مجھے کرید کرید کر ختم کر رہا ہے۔
From the day of his birth man begins to die
موت زندگی سے زیادہ یقینی چیز ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ انسان کا دنیا کو سمجھنا زبان کے ثنویتی تفاعل (بائنری فنکشن) پر ہے یا یہ کہ ہر شَے اپنی ضِد سے پہچانی جاتی ہے۔ لہٰذا ہر شے کا ”وجود“ اس کے ”فنا“ ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ موت ہی ایک زندہ شے کے لیے ایک بہت بڑی دلیل ہے۔
سب سے پہلے شعر کے مرکزی تضادی جوڑے ”تعمیر، خرابی“ کو دیکھتے ہیں۔ لفظ ”خراب“ کا مطلب کسی مکان گھر/ جگہ کی تباہی، ویرانی ہے (جو کہ یہاں مطالب و مقصود ہے ) ۔ جب غالب کہتے ہیں کہ ”میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی“ تو دراصل وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میری تعمیر (میرا ہونا) ایک خرابی (غیر آباد یا تباہی) پر بنیاد رکھتی ہے۔ یعنی بنانے کا عمل ویرانی ہی آغاز ہوتا ہے، اور تعمیر، آبادی کی صورت میں اپنے اندر خرابی (ویرانے / تباہی) کو سنبھالے رکھتی ہے۔
ہیگل کے جدلیات کے مطابق ”ہر شے اپنی ضد سے جنم لیتی ہے اور اپنے ضد ہی میں ختم ہو جاتی ہے“ ۔ اس کلیہ کے مطابق، جس طرح زندگی ( ہستی) نیستی سے جنم لیتی ہے اور نیستی میں جاکر ختم ہو جاتی ہے۔ غالب بھی اس بات کی طرف توجہ دلا رہا ہے کہ میری (مجازاً ہماری) تعمیر میں تخریب کا پہلو مضمر ہے۔ یہ کائنات فنا اور بقا کے امتزاج ہی کا دوسرا نام ہے۔ یہاں زندگی سے موت اور موت سے زندگی جنم لیتی ہے۔ تخریبی عناصر کسی چیز میں باہر سے کہیں نہیں آتے بلکہ خود اس شے میں موجود ہوتے ہیں اور جب کسی چیز کی تعمیر شروع ہوتی ہے تو اس میں تخریب بھی ساتھ شروع ہوجاتا ہے۔ انسان جس طرح تعمیر کا زینہ چڑھنا جاتا ہے، بالکل اسی طرح وہ اسی زینے پر نیچے واپس آتا ہے۔ سورج بھی جب طلوع ہے تو اسے غروب بھی ہونا ہوتا ہے۔ جدلیات کی زاویے سے دیکھیں تو اس کا یہ مطلب بھی ہوتا ہے کہ ہم پہلے ”کچھ اور“ ہوتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ اپنی ”ابتدائی کچھ“ کو توڑ آ کر ”کچھ اور“ نکل آتے ہیں، کچھ وقت کے بعد دوبارہ یہی عمل دہراتے ہیں اور آخر توڑ پھوڑ کے اس عمل کا انجام موت پر ہو جاتا ہے
شیکسپیئر کے کام ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وقت جو چیز آپ کو ایک ہاتھ سے دیتا ہے تو کچھ وقت (جلد یا بدیر) کے بعد واپس لے لیتا ہے۔ فطرت کوئی چیز دیتی نہیں بلکہ ادھار دیتی ہے۔ جیسا کہ ایک جگہ شیکسپیئر لکھتا ہے :
”Nature bequest nothing but doth lend things.“
اس طرح اپنے ایک اور مشہور سونیٹ 18 میں شیکسپیئر کہتا ہے :
”Every fair from fair decline sometimes.“
یعنی کامل سے کامل چیز بھی آخر کار خرابی کا شکار ہو جاتی ہے۔
دنیا کے بڑے فن کاروں اور شاعروں کے کام میں تخریب کا تصور بہت جامع اور اٹل ہے۔ وہ کسی چیز کی تعمیر میں بھی اس کی خرابی کو ساتھ ساتھ پھلتے پھولتے دیکھتے ہیں۔ ایک پشتو کہاوت اسے خوبصورتی سے بیان کرتا ہے :
ھر کمال سرہ زوال تړلی دی
(ہر کمال کے ساتھ زوال پیوست ہے )
زندگی کا راز حرکت میں پوشیدہ ہے مگر اسی حرکت کی وجہ سے ہماری توانائی زائل ہوتی جاتی ہے، اور ہم دھیرے دھیرے موت کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ موم بتی کی خوبی اس کے جلنے میں ہے مگر یہی جلنا اس کے موم کو ختم کرنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ زندگی کا دوسرا نام حرکت ہے۔ حرکت میں برکت ہے مگر یہی حرکت ہماری خرابی کا سبب بھی بنتا ہے۔ اگر ہم محنت نہ کرتے، تب بھی ہم مردے تسلیم کیے جاتے ہیں اور جب حرکت کرتے بھی ہیں، تب بھی ہم موت کے منہ میں جا رہے ہوتے ہیں۔ پشتو کے مشہور شاعر غنی خان نے اس خیال کو ایک نظم میں خوبصورتی سے بیان کیا ہے :
پرون تخم وم، نن ګل یم، سبا بیا بہ خاوری کیږم
خو زۂ ځم پہ مخھ ځمھ، کہ ودریږم، خاوری کیږم
ترجمہ: کل میں ایک بیج تھا، آج میں ایک پھول کی شکل میں موجود ہو اور کل کو میں دوبارہ مٹی بن جاؤں گا۔ میں آگے ہی آگے چلتا جا رہا ہوں کیوں کہ اگر کہیں رکنا چاہوں تو پھر فنا ہو جاؤں گا۔
اس خیال کو سگمنڈ فرائڈ کے سائیکو انالیسز کے ایک تصور Thanatos کی مدد سے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔
فرائڈ نے کہیں پر لکھا تھا:
”The aim of all life is death“
یعنی زندگی کا مقصد موت ہے۔
ان کے خیال میں قدرتی طور پر ہر چیز اپنی ابتدائی غیر جاندار حالت کی طرف واپس جانا چاہتی ہے۔ اسی لیے انھوں نے اس جبلّی قوت کو تھیناٹوس یا مَوت کی قوت کا نام دیا ہے۔ فرائڈ نے نشان دِہی کی کہ خودکشی کے رجحانات، انسانوں میں جارحانہ رویہ اور جنگ میں وحشت وغیرہ موت کی جِبلّی قوت کی عملی شکلیں ہیں۔
یوں غالب کے شعر کو دوبارہ دیکھا جائے تو غالب گویا کہتے ہیں کہ موت ہماری زندگی کے ساتھ شروع ہوتی ہے اور زندگی کی حفاظت کرتی ہے اور آخر میں اسی موت کے ہاتھوں شکار ہو جاتی ہے۔ یعنی ابتدا بھی موت کے ساتھ ہوئی اور اختتام بھی موت ہی پر ہو گا۔ تخلیق اور تخریب ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ”غالب نے صدیوں پہلے وہی کہا جو آج ہیگل، فرائڈ، یا جدید سائنس بیان کرتی ہے۔ موت زندگی کا لازمی حصہ ہے۔“
