سرحدوں سے ماورا رپورٹرز: دنیا بھر میں آزادی صحافت کے فروغ اور صحافیوں کے دفاع کے لئے سرگرم عمل

سرحدوں سے ماورا رپورٹرز (RSF) ایک بین الاقوامی غیر منافع بخش اور غیر سرکاری صحافتی تنظیم ہے جس کا صدر دفتر پیرس میں واقع ہے اور یہ معلومات تک رسائی کے حق کے تحفظ پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ یہ صحافتی تنظیم اپنی وکالت کو اس یقین پر مبنی قرار دیتی ہے کہ ہر شخص کو خبروں اور معلومات تک رسائی حاصل ہونی چاہیے، جو انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کے آرٹیکل 19 کے مطابق ہے، جس میں دنیا میں سرحدوں سے ماورا معلومات حاصل کرنے اور شیئر کرنے کے حق کو تسلیم کیا گیا ہے، نیز دیگر بین الاقوامی حقوق کے چارٹرز میں بھی اس امر کی توثیق کی گئی ہے۔ اس صحافتی تنظیم کو اقوام متحدہ، یونیسکو، کونسل آف یورپ، اور فرانسیسی زبان و ثقافت سے منسلک 93 ممالک کی تنظیم انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف لا فرانکوفونی میں مشاورتی حیثیت حاصل ہے۔
آر ایس ایف میدانِ عمل میں خطرات سے دوچار انفرادی صحافیوں کے دفاع کے لئے بھرپور کام کرتی ہے اور ہمہ وقت حکومتی و بین الاقوامی فورمز کی اعلیٰ سطح پر آزادی اظہار اور معلومات کے حق کے تحفظ کے لئے سرگرم رہتی ہے۔ یہ تنظیم فرانسیسی، انگریزی، ہسپانوی، پرتگالی، عربی، فارسی اور چینی زبانوں میں میڈیا کی آزادی کو درپیش خطرات کے بارے میں یومیہ بریفنگز اور پریس ریلیز جاری کرتی ہے اور میڈیا کی آزادی کی صورتحال کو جانچنے کے لئے دنیا کے 180 ممالک پر مشتمل سالانہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس بھی شائع کرتی ہے۔
آر ایس ایف دنیا بھر میں خطرات سے دوچار صحافیوں کو مدد فراہم کرتی ہے، انہیں ڈیجیٹل اور جسمانی تحفظ کی تربیت دیتی ہے، صحافیوں کے خلاف ہونے والی زیادتیوں کے بارے میں عوامی آگاہی پیدا کرنے کے لئے مہمات چلاتی ہے اور ان کی زندگی کی حفاظت اور پیشہ ورانہ آزادی یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ آر ایس ایف میڈیا کی آزادی کے حق میں معیارات اور قوانین اپنانے کے لئے حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتی ہے اور خطرات سے دوچار صحافیوں کے دفاع میں قانونی کارروائیاں بھی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ صحافتی تنظیم ہر سال اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران جاں بحق ہونے والے صحافیوں کا ریکارڈ بھی مرتب کرتی ہے۔
سرحدوں سے ماورا رپورٹرز، (RSF) 1985 میں فرانس کے شہر مونپلیے میں ایک فرانسیسی سیاستداں اور صحافی رابرٹ مینارڈ، ریمی لوری، جیک مولینا اور ایمیلیاں ژوبینو نے مشترکہ طور پر قائم کی تھی۔ یہ تنظیم 1995 میں ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر باقاعدہ رجسٹر کی گئی۔ رابرٹ مینارڈ اس کے پہلے سیکریٹری جنرل تھے، جن کے بعد ژاں فرانسوا ژولیار اس عہدے پر فائز ہوئے۔ 2012 میں کرسٹوف ڈیلوار کو تنظیم کا سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا اور وہ جون 2024 میں اپنی وفات تک اس منصب پر رہے۔ نومبر 2024 میں تیبو بروٹین کو موجودہ سیکریٹری جنرل مقرر کیا گیا۔
سرحدوں سے ماورا رپورٹرز (آر ایس ایف) کا مرکزی دفتر پیرس میں واقع ہے۔ 2018 تک دنیا بھر میں اس تنظیم کے 13 علاقائی اور قومی دفاتر تھے، جن میں برسلز، لندن، واشنگٹن، برلن، ریوڈی جنیرو، تائی پے اور ڈاکار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تنظیم کے پاس 146 نامہ نگاروں کا ایک عالمی نیٹ ورک بھی موجود ہے، جبکہ پیرس اور دیگر مقامات پر اس تنظیم کا 57 افراد پر مشتمل تنخواہ دار عملہ خدمات انجام دے رہا ہے۔
تنظیم کے ارکان کے ذریعہ منتخب کردہ بورڈ آف گورنرز اس صحافتی تنظیم کی پالیسیوں کی منظوری دیتا ہے، جبکہ ایک بین الاقوامی کونسل اس کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے اور بجٹ کی منظوری دیتی ہے۔ اگست 2025 میں روسی فیڈریشن کے آفس آف دی پراسکیوٹر جنرل نے آر ایس ایف کو روس میں ایک ناپسندیدہ تنظیم قرار دے دیا تھا، جس کے نتیجے میں روس کے اندر اس کی سرگرمیاں موثر طور پر ممنوع ہو گئیں۔ سرحدوں سے ماورا رپورٹرز تنظیم دنیا بھر کے صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدامات اور سرگرمیاں انجام دیتی ہے۔ آر ایس ایف ہر سال اپنا ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس شائع کرتی ہے، جس میں دنیا کے ممالک میں میڈیا کی آزادی کی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ 2026 کے انڈیکس میں ان ممالک کو مختلف درجات میں تقسیم کیا گیا ہے، جیسے، اچھا، تسلی بخش، مسئلہ زدہ، مشکل اور نہایت سنگین۔ یہ انڈیکس عالمی سطح پر صحافتی آزادی کی پیمائش کے لئے ایک اہم حوالہ سمجھا جاتا ہے۔
سرحدوں سے ماورا رپورٹرز کے تحت قائم کردہ جرنلزم ٹرسٹ انیشیٹو (JTI) کا مقصد قارئین کو یہ یقین دلانا ہے کہ اس فہرست میں شامل میڈیا ادارے معتبر اور قابلِ اعتماد ہیں۔ آر ایس ایف نے یہ منصوبہ 2018 میں اپنے شراکت داروں یورپی براڈکاسٹنگ یونین، ایجنسی فرانس پریس اور گلوبل ایڈیٹرز نیٹ ورک کے ساتھ مل کر شروع کیا تھا۔ جرنلزم ٹرسٹ انیشیٹو کے معیارات شعبہ صحافت میں شفافیت، اچھے طرز حکمرانی اور جوابدہی پر مبنی ہیں۔ یہ منصوبہ صحافتی مواد کے بجائے اس عمل پر توجہ دیتا ہے کہ خبر کس طرح تیار کی گئی ہے۔ اس کے تعین کردہ معیارات کینیڈا اور یورپی یونین میں میڈیا پالیسیوں کے لئے بھی رہنمائی فراہم کر چکے ہیں۔ نومبر 2025 تک دنیا بھر کے دو ہزار میڈیا ادارے آر ایس ایف کے جرنلزم ٹرسٹ انیشیٹو میں رجسٹر ہو چکے ہیں، جن میں ایسوسی ایٹڈ پریس اور بی بی سی ورلڈ نیوز جیسے موقر صحافتی ادارے شامل ہیں۔ سنٹر آف انٹرنیشنل میڈیا اسسٹنس کے 2023 کے ایک تجزیہ کے مطابق جرنلزم ٹرسٹ انیشیٹو جیسے اقدامات درست خبر رسانی کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، لیکن یہ جانچنا ابھی مشکل ہے کہ نسبتاً یہ نئے پروگرام کس حد تک کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔
آر ایس ایف اپنی عملی سرگرمیوں کے تحت دنیا بھر میں صحافتی آزادی کے دفاع کے لئے بین الاقوامی مشنز، ملکی رپورٹس، صحافیوں کی تربیت اور عوامی احتجاج جیسے اقدامات کرتی ہے۔ آر ایس ایف نے میونخ چارٹر بھی شائع کیا ہے، جو صحافیوں کے حقوق اور فرائض کی وضاحت کرنے والی ایک اہم دستاویز ہے۔ یہ چارٹر پہلی بار 1971 میں میونخ میں شائع ہوا اور بعد میں یورپ کی بیشتر صحافتی یونینوں نے اسے ایک مستند دستاویز کے طور پر قبول کیا۔ آر ایس ایف نے 2017 میں صحافیوں کی بھلائی کے لئے مختلف عالمی اقدامات بھی کیے، جن میں افغانستان میں خواتین صحافیوں کے لئے ایک بحالی مرکز قائم کرنا، فرانس کے شہر اسٹراسبرگ میں ترک صحافیوں کی قید کے خلاف احتجاجی آرٹ مہم چلانا، معروف سعودی صحافی جمال خشوگی کے ترکی کے امریکی سفارت خانہ میں پراسرار طور پر بہیمانہ قتل پر پیرس کے ایفل ٹاور کی روشنیاں بند کر کے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنا اور شام میں صحافیوں اور بلاگرز کو تربیت فراہم کرنا شامل ہیں۔ جبکہ آر ایس ایف نے جولائی 2018 میں سعودی عرب میں قید 30 صحافیوں کی رہائی کے مطالبے کے لئے ایک مشن بھی بھیجا تھا۔
آر ایس ایف تنظیم ہر سال دنیا میں ”آزادی صحافت کے شکاریوں“ (Predators of Press Freedom) کے نام سے ایسے عالمی رہنماؤں اور طاقتور عناصر کی فہرست بھی جاری کرتی ہے جو دنیا میں صحافتی آزادی کے بڑے دشمن سمجھے جاتے ہیں۔ یہ اصطلاح ایسے میڈیا دشمن رہنماؤں، حکمرانوں یا طاقتور گروہوں کے خلاف استعمال کی جاتی ہے اور بنیادی طور پر صحافیوں کو ڈرانے، دھمکانے، انہیں سچ بولنے سے روکنے اور خبروں کو کنٹرول کرنے والی اہم شخصیات کی نشاندہی کرتی ہے یہ طاقتور عناصر اپنے پس پردہ مقاصد کے تحت اپنے ممالک میں آزاد میڈیا اور صحافیوں کے خلاف براہ راست کریک ڈاؤن کرتے ہیں، انہیں سنسر شپ کا نشانہ بناتے ہیں یا ان پر تشدد کا حکم دیتے ہیں۔ آر ایس ایف کا آزادی صحافت کا باد پیما (Press Freedom Barometer) دنیا بھر میں صحافیوں، میڈیا کارکنوں اور شہری صحافیوں کی ہلاکتوں اور قید و بند کی نگرانی کرتا ہے۔
آر ایس ایف 2014 سے اپنے آپریشن کو لٹیرل فریڈم کے ذریعہ مختلف ممالک میں سنسر شدہ ویب سائٹس کی ہو بہو نقل (mirror sites) بنا کر ان تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ اس پروگرام کے تحت ایران، چین، سعودی عرب اور ویتنام سمیت 12 ممالک میں 22 سنسر شدہ ویب سائٹس کو دوبارہ قابلِ رسائی بنایا گیا۔ علاوہ ازیں آر ایس ایف خطرات سے دوچار صحافیوں کو مالی امداد فراہم کرتی ہے اور ضرورت مند میڈیا کارکنوں کو پناہ اور تحفظ بھی فراہم کرتی ہے۔ آر ایس ایف نے اپنی ڈیجیٹل سنسر شپ کے خلاف مہم کے دوران 12 مارچ 2020 کو سائبر سنسرشپ کے خلاف عالمی دن کے موقع پر دنیا بھر کے 20 ”آزادی صحافت کے ڈیجیٹل شکاریوں“ کی ایک فہرست بھی جاری کی اور اعلان کیا کہ اس نے اپنے آپریشن کو لٹیرل فریڈم کے تحت 21 سنسر شدہ ویب سائٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
آر ایس ایف نے کووڈ۔ 19 کی عالمی وبا کے دوران 21 اپریل 2020 کو اعلان کیا کہ کورونا کی وبا نے آزادی صحافت کے بحران کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے جوزپ بوریل نے بھی تنظیم کے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اس وبا کو جمہوری اور شہری آزادیوں کو محدود کرنے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے اور اظہارِ رائے اور معلومات تک رسائی کے حق کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔ آر ایس ایف کی جانب سے دنیا بھر کے صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے بین الاقوامی قانونی کارروائیوں اور مہمات کا دائرہ کار بے حد وسیع ہے۔ آر ایس ایف نے 22 دسمبر 2023 کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں سات فلسطینی صحافیوں جن میں سامر ابودقہ بھی شامل تھے، کی ہلاکت کے خلاف شکایت درج کرائی اور مارچ 2025 میں ایک حراستی مراکز میں قید چار صحافیوں کی رہائی کو اپنی سالانہ ترجیحی مہمات میں شامل کیا۔ ان صحافیوں میں فرینچی مے کمپیو (فلپائن) ، سینڈرا موہوزا (برونڈی) ، سیونج واقف گیزی (آذربائیجان) اور فام دوان ترانگ (ویتنام) شامل تھے۔
1992 میں آر ایس ایف کا سالانہ آزادی صحافت انعام (Press Freedom Prize) تشکیل دیا گیا۔ یہ انعام دنیا کے ان صحافیوں اور میڈیا اداروں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے جرات، آزادی اور خود مختاری کے جذبہ کے ساتھ صحافت کی، دھمکیوں یا قید و بند کا سامنا کیا اور طاقتور اداروں کے اختیارات کے ناجائز استعمال کو بے نقاب کیا۔ ماضی میں فرانسیسی پبلک ٹیلی ویژن نیٹ ورک TV 5 Monde اور موقر فرانسیسی روزنامے Le Monde اس انعام کے شراکت دار رہے ہیں۔
آر ایس ایف نے 2018 میں اس اہم انعام کی نئی اقسام بھی متعارف کروائیں، جن کے درجہ بندی عنوانات میں جرات، آزادی/ خود مختاری، اثر اندازی شامل ہیں۔ آر ایس ایف نے 2023 میں، 2011 میں تیونس میں حکومت کے خلاف رونماء ہونے والے عوامی احتجاجی مہم کے دوران اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے ہوئے اور ایک عوامی احتجاج کی تصاویر بناتے ہوئے تیونسی پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں مارے جانے والے فرانسیسی/جرمن فوٹو گرافر لوکس نے Mohamed Maïga Prize for African Investigative Journalism متعارف کرایا، جو مغربی افریقی ملک جمہوریہ مالی کے ایک معروف تحقیقاتی صحافی محمد مائیگا کی یاد میں قائم کیا گیا۔ یہ انعام افریقہ میں سماجی انصاف کے لئے تحقیقاتی صحافت کرنے والوں کو دیا جاتا ہے۔
یہ انعام پانے والے صحافیوں میں 1992 میں زلاتکو ڈیزداریویچ (بوسنیا ہرزیگووینا) ، 1993 میں و انگ جو نتاؤ (عوامی جمہوریہ چین) ، 1994 میں آندرے سیبومانا (روانڈا) ، 1995 میں کرسٹینا انیان وو (نائجیریا) ، 1996 میں اشک یورتچو (ترکی) ، میں 1997 راؤل ریویرو (کیوبا) ، 1998 میں نزار نیوف (شام) ، 1999 میں سان سان نوے (میانمار) ، 2000 میں کارمین گوروچاگا (اسپین) ، 2001 میں رضا علیجانی (ایران) ، 2002 میں گریگوری پاسکو (روس) ، شامل ہیں۔ جبکہ اس انعام کے چند نمایاں فاتحین میں 2022 میں نرگس محمدی (ایران) ۔ شعبہ جرات، مستیسلاف چرنوف اور ییوہن مالولیٹکا (یوکرین) ۔ شعبہ اثر اندازی، عمر راضی (مراکش) ۔ شعبہ آزادی، 2023 میں خوان پابلو باریئنتوس (کولمبیا) ۔ شعبہ اثر اندازی، محمد آکسیجن (محمد ابراہیم رضوان) (مصر) ۔ شعبہ جرات، خوسے روبین زامورا (گوئٹے مالا) ۔ شعبہ آزادی اور کا رین پیئر (فرانس) ۔ شعبہ فوٹوگرافی شامل ہیں۔
جبکہ 2024 میں ناتالیا گومینیوک (یوکرین) ۔ درجہ اثر اندازی، وائل الدحدوح (فلسطین) ۔ درجہ جرات، رویش کمار (بھارت) ۔ درجہ آزادی، گیل تو رین (بیلجیم) ۔ درجہ فوٹو انعام اور مریم ویدراوگو (برکینافاسو) ۔ ، محمد مائیگا انعام۔ 2025 میں سیونج واقف گیزی (آذربائیجان) ۔ درجہ جرات، بسان عودہ (فلسطین) ۔ درجہ اثر اندازی، شن ڈیوے (میانمار) ۔ درجہ آزادی، اٹیانا سرج اولون (برکینافاسو) ۔ محمد مائیگا تحقیقاتی صحافت انعام اور رابن توتنجز (فرانس) ۔ Lucas Dolega۔ SAIF Photo Award حاصل کرچکے ہیں۔ آر ایس ایف کی جانب سے جاری کردہ یہ اہم انعامات دنیا بھر میں ان صحافیوں اور میڈیا اداروں کی خدمات اور کارکردگی کو سراہتے ہیں جو آزادی صحافت، حقِ معلومات اور حکمرانوں اور طاقتور عناصر کی جانب سے طاقت کے غلط استعمال کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں۔
آر ایس ایف نے 2010 میں گوگل (Google) کے اشتراک سے نیٹیزن انعام (Netizen Prize) بھی متعارف کرایا۔ یہ انعام دنیا میں اختلاف رائے رکھنے والے ان بلاگرز، سائبر کارکنوں (cyber۔ dissidents) اور آن لائن آزادی معلومات کے حامی افراد کو دیا جاتا ہے، جنہوں نے تحقیقاتی رپورٹنگ یا دیگر اقدامات کے ذریعے انٹرنیٹ پر معلومات کی آزادی کو فروغ دیا ہو۔
آر ایس ایف نے دنیا بھر میں آزادی صحافت کے بدترین دشمنوں کی نشاندہی کے لئے Press Freedom Predators کی فہرست بھی جاری کی ہے۔ یہ فہرست 2001، 2009، 2011، 2013، 2016 اور 2021 کے برسوں کے دوران شائع ہوئی۔ اس فہرست میں دنیا کے ایسے مطلق العنان حکمرانوں، ریاستی اداروں یا دیگر طاقتور عناصر کو شامل کیا جاتا ہے جو صحافیوں کے خلاف سنسرشپ، تشدد یا جبر میں ملوث رہے ہوں۔ آر ایس ایف اپنے ملکی، علاقائی اور موضوعاتی رپورٹس پر مشتمل مطبوعات کے علاوہ ایک فوٹوگرافی کتاب 100 Photos for Press Freedom بھی شائع کرتی ہے، جو ایک جانب آزادی صحافت کی وکالت کا ایک موثر ذریعہ ہے اور دوسری طرف تنظیم کے لیے فنڈ ریزنگ کا اہم ذریعہ بھی ہے۔ تنظیم کے مطابق 2018 میں اس کتاب کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی اس کے کل فنڈز کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ تھی۔
آر ایس ایف کی سالانہ رپورٹس ہر سال دنیا بھر پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کے دوران صحافیوں کی ہلاکت، قید و بند اور اغوا کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ بھی جاری کرتی ہے۔ جس کے مطابق 2015 میں دنیا بھر میں 110 صحافی اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیتے ہوئے ہلاک ہوئے تھے۔ 2016 میں تنظیم نے بتایا کہ دنیا کے متعدد ممالک میں 348 صحافی قید تھے اور 52 یرغمال بنائے گئے تھے۔ ان میں سے تقریباً دو تہائی قید صحافی ترکی، چین، شام، مصر اور ایران میں تھے۔ 2018 کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف خطوں میں 80 سے زائد صحافی ہلاک ہوئے، 348 قید ہوئے اور 60 مزید یرغمال بنائے گئے تھے۔
سرحدوں سے ماورا رپورٹرز (آر ایس ایف) کے مطابق پاکستان اپنے قیام کے بعد سے ایک ایسی بحرانی صورتحال سے دوچار رہا ہے جہاں ایک طرف سول سوسائٹی مسلسل آزادی صحافت کی خواہاں رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ایسا غیر صحتمند سیاسی ماحول موجود رہا ہے جس میں اشرافیہ میڈیا پر وسیع کنٹرول برقرار رکھتی چلی آئی ہے۔ آر ایس ایف کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق پاکستان دنیا کے اُن خطرناک ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں صحافیوں کے لئے کام کرنا انتہائی پرخطر اور جان لیوا ہے۔ یہاں ہر سال متعدد صحافی اپنی سچی اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کے نتیجہ میں قتل کر دیے جاتے ہیں اور ان میں سے بہت سے واقعات کا تعلق سرکاری اہلکاروں اور طاقت ور عناصر کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال، بدعنوانیوں یا غیر قانونی اسمگلنگ کے معاملات کی رپورٹنگ سے جوڑا جاتا ہے، جبکہ اکثر اوقات ان جرائم کے مرتکب بارسوخ افراد کو سزا نہیں ملتی۔
سرحدوں سے ماورا رپورٹرز نے اپنی ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کو دنیا کے 180 ممالک میں سے 158 ویں نمبر پر رکھا ہے۔ یہ تنظیم پاکستان میں صحافیوں کے لئے پیشہ ورانہ خدمات کے دوران خطرناک ماحول اور درپیش سنگین خطرات پر بارہا اظہار تشویش اور من مانی گرفتاریوں، آن لائن سنسرشپ، قانونی ہراسانی اور صحافیوں کو جسمانی طور پر ڈرانے دھمکانے جیسے مسائل کو نمایاں کرتی رہی ہے۔
عالمی صحافتی تنظیم سرحدوں سے ماورا رپورٹرز کے مطابق حکومت آزادی صحافت پر پابندیاں عائد کرنے کے لئے انسداد الیکٹرانک جرائم قانون (PECA) اور اس میں کی گئی ترامیم، نیز پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) کے اختیارات کو استعمال کرتی ہے۔ ڈیجیٹل سنسرشپ کی پالیسی کے نتیجے میں متعدد یوٹیوب چینلز کو بلاک کیا جا چکا ہے۔ جبکہ پاکستان کو پہلے ہی تاریخی طور پر صحافیوں کے لئے دنیا کے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں شمار کیا جاتا رہا ہے، خاص طور پر صوبہ بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخوا جیسے علاقوں میں، جہاں صحافیوں کو جسمانی سلامتی کے سنگین خطرات درپیش رہے ہیں۔
سرحدوں سے ماورا رپورٹرز (آر ایس ایف) کو دنیا بھر میں حق معلومات، آزادی صحافت کے فروغ، انسانی حقوق کی پاسداری اور جمہوریت کے دفاع کے لئے اعلیٰ ترین خدمات کے اعتراف میں کئی بین الاقوامی اعزازات عطا کیے گئے ہیں۔ آر ایس ایف کی ویب سائٹ پر موجود تازہ اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری 2026 سے تا دم تحریر دنیا کے مختلف خطوں میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران 14 صحافی اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ 435 صحافی اور 34 میڈیا ورکرز زیرحراست ہیں۔
(نوٹ: یہ معلومات سرحدوں سے ماورا رپورٹرز (RSF) کی مختلف رپورٹس اور موقف کی عکاسی کرتی ہیں۔ مختلف سرکاری ادارے یا دیگر مبصرین ان معاملات پر مختلف آراء یا تشریحات پیش کر سکتے ہیں۔ )





