میرے مطابق

محبّت کے بہتّر چراغ“ پر ایک گفتگو”

dr RAFIQ SANDEELVI

”محبّت کے بہتّر چراغ“ ایک ایسا بلیغ عنوان ہے جو ادبی ذہن کو فوراً ایلف شفق کے ناول کی طرف لے جاتا ہے جس کا ترجمہ اردو میں ”چالیس چراغ عشق کے“ کے عنوان سے کیا گیا ہے۔ شمس تبریز کے چالیس چراغ ہوں یا خانوادۂ حُسین کے بہتّر چراغ، جذب و کیف اور عزم و ایثار کا اس طرح اثبات کرتے ہیں کہ ان کی جھلملاتی ہوئی روشنی تخلیق کی روشنی بن جاتی ہے۔ غور کیجئے تو اردو غزل کا عصری و مابعدالطبیعاتی روّیہ ہمیشہ سے جس قوّت کے ساتھ محبّت کی مرکزی رَو سے منسلک رہا ہے، اس میں زندگی اور تخلیق کا باہمی رشتہ چراغ کے استعارے میں نمو پذیر ہوتے ہوئے یہاں تک پہنچا ہے جس کا اظہار آج کی غزل کا ایک ایسا رُخ ہے جس کے خد و خال کو دیکھنے ہی کی نہیں، چُھونے کی ضرورت بھی ہے۔ پھر اس رشتے میں غزل کا شاعر اپنے تفاعل سے کام لے کر جس طرح جذبے کو ایک لَو کی طرح چمکا دیتا ہے، اس پر بھی توجہ لازم ہے۔ پھر چراغ کے علاوہ جو بیسیوں استعارے غزل میں اپنی چھب دکھا رہے ہیں، وہ کس طرح چراغ سے جُڑتے ہوئے خیال کی کروٹوں سے مضامین کا ایک جھرمٹ وضع کرتے ہیں، اس کی قرات بھی بہت دلچسپ ہے۔ اسی طرح چراغ سے ہَوا اور دھواں اور آئینے سے عکس اور زنگار منسلک ہو جاتے ہیں تو تجانس اور عدم تجانس میں کیسے کیسے زاویے ابھرتے ہیں اور تمثال و تلازمہ سے معنی کی تشکیل ہوتی ہے، غزل کی زبان کا یہ مطالعہ بھی ازحد ضروری ہے۔ ثروت حسین کی غزل میں تو ایک اژدہا نمودار ہوتا ہے اور چراغ کی لَو ہی کو نگل جاتا ہے۔ اژدہے کے پیٹ سے لَو کی ”رہائی“ یا ”بازیابی“ یقیناً اب نئے غزل گو شاعروں کے لئے ایک چیلنج ہے۔ میں نے چار دہائیاں قبل اپنے گِرد جس طلسمی لَو کو بھڑکتے ہوئے پایا تھا اور جس کی وساطت سے مجھے ”چراغِ نامعلوم“ اپنے ہی سرہانے رکھا ہوا دکھائی دیا تھا، وہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ غلام حسین ساجد اگر دُنیا کو چراغ اور آئینے کی رُو سے دیکھتے ہیں تو اس کا ایک طویل پس منظر ہے۔ بلاشُبہ آج کی غزل اپنے منظر نامے میں چراغ و آئینہ اور عکس و لَو کا ایک متحرک سلسلہ لئے ہوئے ہے۔ فرزند علی ہاشمی کتاب کی ابتدا ہی جب ایسی غزل سے کرتے ہیں جس میں چراغ ردیف کا جزو ہے تو اُن کا ناتا غزل کے اُن سارے چراغوں ( اور عاشقوں ) سے جُڑ جاتا ہے جو قلی قطب شاہ سے لے کر اب تک جل رہے ہیں البتہ ردیف میں بہتّر کی تخصیص ایک خاص طبع اور جہت کا احساس بھی دلاتی ہے جس کے سبب وہ اپنی غزل کو سیاہ شال میں ملبوس خیال کرتے ہیں۔ یہ حُزن و غم کا ایک نظری روّیہ ہے جس کی شروعات کے اشارے براہِ راست بھی اور بین السطور بھی اُن کی غزل میں نظر آتے ہیں۔ کیا عجب کہ یہ روّیہ آگے چل کر اُن کی غزل کا حاوی اور فعال روّیہ بن جائے۔ ”

خواتین و حضرات! یہ اس کتاب پر میرا تحریر کردہ فلیپ تھا لیکن آپ جانتے ہیں کہ فلیپ کا دامن بہت تنگ ہوتا ہے، بات ایمائی انداز میں کرنی پڑتی ہے۔ یہ انداز ادب کے قارئین کے لئے تو معنی خیز ہوتا ہے لیکن عام قاری اس کے مطالب تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتے۔ آج چونکہ اس کتاب کی رونمائی ہے اس لئے فلیپ کے حوالے سے دو ایک باتیں کھول کر بیان کرتا ہوں تاکہ میرا موقف زیادہ وضاحت کے ساتھ سامنے آ جائے۔

ایلف شفق کے ناول The Forty Rules of Love میں شمس تبریز کے جو ”Rules“ یا ”اصول“ پیش کیے گئے ہیں، اردو مترجم نے انہیں ”چالیس چراغ عشق کے“ کے نام سے منتقل کیا۔ یہ ترجمہ محض لفظی تبدیلی نہیں بلکہ ایک نہایت گہری صوفیانہ بصیرت رکھتا ہے۔ صوفیانہ متن میں ”چراغ“ محض روشنی کا ذریعہ نہیں ہوتا؛ یہ دل کی آگہی، روح کی بیداری اور سالک کے سفرِ عشق کی علامت ہوتا ہے۔ اس لیے ”اصول“ کہنے سے جو اخلاقی یا نظریاتی فضا پیدا ہوتی، ”چراغ“ کہنے سے وہ یکایک روحانی، نورانی اور تجرباتی ہو جاتی ہے۔ شمس تبریز کے اصول بنیادی طور پر دل سے دل تک منتقل ہونے والے تجربات ہیں اور ان کا مقصد انسان کے اندر وہ روشنی پیدا کرنا ہے جس سے ذات کے اندھیرے زائل ہوتے ہیں۔ صوفی روایت میں ایسی روشنی ہمیشہ ”چراغ“ کہلاتی ہے اسی لیے ”چالیس چراغ“ اصل متن کے روحانی مزاج سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں کیونکہ اصول یہاں جامد ضابطے نہیں، جلتی ہوئی روشنیاں ہیں جو قاری کے اندر باطنی تبدیلی پیدا کرتی ہیں۔ ترجمے میں ”چراغ“ کا انتخاب ایک اور سطح پر بھی درست ہے۔ وہ یہ کہ چراغ کے اندر حرکت ہوتی ہے۔ اس کی لَو لرزتی ہے، سانس لیتی ہے، روشنی بکھیرتی ہے اور کبھی خطرے میں بھی پڑتی ہے۔ یہ کیفیت شمس تبریز کے اصولوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہے جن میں عشق کو ایک زندہ، حرکی اور مسلسل بدلتی ہوئی حالت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ”چراغ“ اس حرکی مزاج کو اسی طرح محسوس کراتا ہے جیسے رومی اور شمس کے مکالمات میں جذب و کیف کی برقی لَو محسوس ہوتی ہے۔ یوں ”چالیس اصول“ کو ”چالیس چراغ“ کہنا صرف ترجمہ نہیں، ایک معنوی ترسیل ہے جو قاری کو ظاہری عبارت سے اٹھا کر اس باطنی روشنی تک لے جاتی ہے جہاں شمس تبریز کی حکمت آج بھی چراغوں کی طرح جل رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے ”محبت کے بہتّر چراغ“ کے فلیپ میں ناول کے عنوان سے ایک مماثلت قائم کی کیونکہ چراغ یہاں ایک ایسی کڑی ہے جس کے ذریعے عشق کی روحانیات، غزل کی تخلیقی روایات اور شاعر کی داخلی دنیا تینوں ایک دوسرے سے جڑتی ہیں۔ اسی تناظر میں ”چالیس چراغ“ سے ”بہتّر چراغ“ کی نسبت یوں پوری ہوتی ہے کہ فرزند علی ہاشمی کی کتاب میں بھی غزلوں کی تعداد بہتّر ہے۔ یوں یہ چراغ معرفت سے لے کر شہادت کی روشنی تک ایک معنوی دائرہ قائم کر لیتے ہیں۔

میں نے اس مجموعے کے فلیپ میں ثروت حسین اور غلام حسین ساجد کی طرف کچھ ایسے اشارے بھی کیے تھے تاکہ ان سے دھیان ازخود متعلقہ مصرعوں کی طرف چلا جائے۔ مقصود یہ تھا کہ چراغ کے استعارے کو غزل کی روایت کے اندر مختلف سطحوں میں دکھایا جا سکے جس سے یہ باور ہو سکے کہ چراغ صرف علامت نہیں، غزل کی تخلیقی و معنوی طاقت کا نہایت گہرا استعارہ ہے۔ پہلا اشارہ ثروت حسین کے دوسرے مصرعے کی طرف تھا:

میں سو رہا تھا اور مری خواب گاہ میں
اک اژدہا چراغ کی لَو کو نگل گیا

اس مصرعے کو میں نے تنقیدی عمل میں اس لیے برتا کہ یہاں لَو کو بجھایا نہیں گیا بلکہ اس کی معنوی حیثیت کو آزمائش میں ڈالا گیا۔ لَو کا نگلا جانا دراصل اس کی کمزوری نہیں، اس کی تخلیقی قوت کا اظہار ہے۔ چراغ یہاں ایک ایسا استعارہ بن جاتا ہے جو اندھیروں سے گزرتا ہے مگر اپنی روشنی کی سچائی کو نہیں چھوڑتا۔ یہاں چراغ کی وجودی آزمائش ظاہر ہوتی ہے۔ وہ مقام جہاں غزل کا استعارہ اپنی اصل طاقت دکھاتا ہے کہ روشنی بوجھ تلے دب کر بھی روشنی ہی رہتی ہے۔ دوسرا اشارہ غلام حسین ساجد کے مصرعۂ ثانی کی طرف تھا:

مسافتِ عمر میں زیاں کا حساب ہوتا ہے جستجو سے
مگر میں دنیا کو دیکھتا ہوں چراغ اور آئینے کی رو سے

یہ چراغ کی ایک اور معنوی سطح ہے۔ اب چراغ لَو نہیں، نظر یا نگاہ ہے، ادراک و شعور ہے یا دنیا کو دیکھنے کا ایک خاص زاویہ ہے۔ میں نے اس مصرعے کو تنقیدی طور پر اس لیے استعمال کیا کہ یہاں چراغ ایک آلۂ معرفت بن جاتا ہے۔ جس طرح آئینہ ظاہر کو دکھاتا ہے، چراغ باطن کو روشن کرتا ہے اور دونوں مل کر ایک مکمل نگاہ میں بدل جاتے ہیں۔ یوں چراغ کی معنویت ”آزمائش“ سے بڑھ کر ”ادراک“ تک آ جاتی ہے۔ یہ چراغ کی تخلیقی ارتقا کی منزل ہے۔ تیسرا اشارہ میں نے اپنی غزل کے ایک شعر کی طرف کیا تھا جو میرے غزلیہ مجموعے ”ایک رات کا ذکر“ مطبوعہ 1988 ء میں شامل ہے :

بھڑک رہی ہے مرے گِرد اک طلسمی لَو
رکھا ہوا ہے سرہانے چراغِ نا معلوم

یہ اشارہ میں نے اس لیے شامل کیا کہ چراغ کی معنویت کو باطنی سطح پر بھی دیکھا جائے جہاں لَو باہر سے نہیں آتی، خود شاعر کے اندر بھڑکتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں چراغ صرف تجربے یا ادراک کا استعارہ نہیں رہتا بلکہ تخلیق کے مرکز میں بدل جاتا ہے یعنی وہی لَو جو شعر کو جنم دیتی ہے، معنی کو روشن کرتی ہے اور شاعر کے وجود میں اپنے طلسم سے ایک دنیا آباد کرتی ہے۔ یوں تینوں اشارے مل کر چراغ کے اہم تنقیدی مفاہیم کھولتے ہیں یعنی ایک کے ہاں لو کی آزمائش ہے تو دوسرے کے ہاں لَو کی بصیرت اور تیسرے کے ہاں لَو کا تخلیقی سوز۔ میں نے انہی سطحوں سے مربوط کر کے فرزند علی ہاشمی کی کتاب پر فلیپ لکھا تھا۔ مقصد یہ بتانا تھا کہ چراغ کا سفر انہی معنوی منزلوں سے گزرتا ہوا غزل کی معاصر روایت میں داخل ہوتا ہے ؛ تاہم ان کے ہاں ”چراغ“ ایک استعاراتی لفظ کے طور پر بہت کم مگر معنوی حاصل کے طور پر زیادہ بروئے کار آیا ہے۔ حوالے کے طور پر کچھ اشعار بھی دیکھ لیجیے :

آئینے کے سامنے باہم ہوئے ہم
قید کر لی ایک جھلمل آئینے میں
جو میں نے نوکِ قلم کو خیال کی لو دی
ورق پہ عکس ترا بار بار بنتا گیا
میں محبت میں ہو گیا تحلیل
سو مجھے کہنے دیجئے، میں ہوں
تجھ محبت کے راستے کے سوا
دوسرا کوئی راستہ نہیں ہے
اس کو مل کر بھی میں ملا نہیں ہوں
وہ الاؤ تھا، میں جلا نہیں ہوں
کوئی خواب آنکھوں میں روشن ہُوا ہے
بہتّر چراغوں کی لو جل رہی ہے

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW