میرے مطابق

جنگ کوئی رومانوی چیز نہیں

dr usman ghani

ظلم کے خلاف مزاحمت تاریخ کا روشن باب ہے۔ اسی سے امید کی کرنیں پھوٹتی ہیں اور ظلمتِ شب کا سکوت تار تار ہوتا ہے۔ مگر یہ بھی یاد رہے کہ مزاحمت اور جنگ ایک ہی چیز نہیں، دو مختلف حالات کا نام ہے۔ جب عزت و آبرو، کسی نظریے کے وقار، ملکی سلامتی یا جذبہ ایمانی کو خطرہ لاحق ہو جائے تو بسا اوقات کھڑا ہونا پڑتا ہے اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے بسم اللہ کرنی پڑتی ہے۔ ایسے لمحوں میں لشکر کی تعداد نہیں گنی جاتی۔ عدیم ہاشمی نے کیا خوب کہا ہے

مفاہمت نہ سکھا، جبرِ ناروا سے مجھے
میں سر بکف ہوں، لڑا دے کسی بلا سے مجھے

جنگ اور جنگی جنون کبھی رومانوی نہیں ہوا کرتے یہاں انسانیت کی عمارت کا شیرازہ بکھر کے رہ جاتا ہے اور لمحوں کی خطا، صدیوں پر بھاری پڑ جاتی ہے۔ اتنا کوئی شدید طوفان پرندوں کے گھونسلوں کو متاثر نہیں کرتا، جس طرح ہلکی آنچ والی اشتعال انگیزی بھی انسانی بستیوں کو شکست و ریخت میں بدل سکتی ہے۔

”جنگ زدہ“ گلیوں کے راستے بہت گنجلک، تنگ اور تاریک ہوتے ہیں جن میں داخل ہونے کا راستہ تو سہولت سے مل جاتا ہے مگر آسانی سے باہر آنے کا نہیں۔ ان گلیوں کی مثال منیر نیازی صاحب نے بھی بیان کر رکھی ہے۔

کر یاد ان دنوں کو کہ آباد تھیں یہاں
گلیاں جو خاک و خون کی دہشت سے بھر گئیں

حقیقت یہ کہ جنگ اپنے ساتھ لاشیں، خوف، بے یقینی اور اجتماعی اضطراب لاتی ہے۔ توپ اور ٹینک صرف زمین کو نہیں روندتے، ذہنوں کو بھی زخمی کر دیتے ہیں۔ فتح اور شکست کے بیانیے بعد میں تحریر ہوتے ہیں، مگر اصل نقوش انسانی نفسیات پر ثبت رہتے ہیں۔ فرحت عباس شاہ کے الفاظ میں

یوں ہی تو نہیں رنگ ابھی، زرد ہمارا
پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہا، درد ہمارا

جنگِ عظیم اوّل نے دنیا کو ایک نئے ذہنی بحران سے روشناس کرایا۔ ہزاروں سپاہی جو جسمانی طور پر سلامت لوٹے، اندر سے ٹوٹ چکے تھے۔ نیند ان سے روٹھ گئی تھی، معمولی آوازیں دل دہلا دیتی تھیں، اور ماضی کے مناظر بار بار آنکھوں کے سامنے آ جاتے تھے۔ ابتدا میں اسے نفسیاتی کمزوری سمجھا گیا، مگر بعد میں معلوم ہوا کہ یہ گہرے نفسیاتی صدمے کا نتیجہ ہے، جسے آج ہم پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD) کہتے ہیں۔ یہ کیفیت ماضی کے مناظر (فلیش بیک) کو محض یاد نہیں دلاتی بلکہ انہیں شدت کے ساتھ دوبارہ زندہ کر دیتی ہے، جیسے ذہن پر ہتھوڑے برس رہے ہوں۔

جنگِ عظیم دوم نے اس زخم کو مزید گہرا کر دیا۔ شہروں کی تباہی، کیمپوں کی ہولناکیاں اور ایٹمی دھماکوں نے انسانی شعور میں مستقل عدم تحفظ کا بیج بو دیا۔ امن کے ادارے تو قائم ہوئے، مگر خوف کے سائے دلوں میں آج بھی موجود ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ اس خوف کا زندہ آئینہ ہے۔ عراق میں برسوں کی جنگ نے ایک ایسی نسل کو جنم دیا جس نے کھلونوں سے زیادہ ہتھیار دیکھے۔ شام کی خانہ جنگی نے گھروں کو ملبے اور خاندانوں کو کیمپوں میں بدل دیا۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع، بارود کا دھواں اور مسلسل بمباری نے ذہنی سکون کو ناپید کر دیا۔ دھماکوں کے سائے میں پلنے والے بچوں کے ذہن خطرے کو معمول سمجھنے لگے۔ فلسطین میں مسلسل کشیدگی نے خوف کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنا دیا ہے۔ وہاں کا بچہ آسمان کی طرف دیکھتا ہے تو پرندوں سے پہلے جنگی طیاروں کی آواز سنتا ہے۔ یہ سب کچھ صرف جسمانی یا معاشی نقصان نہیں بلکہ گہرا نفسیاتی انتشار بھی ہے۔

پاکستان بھی دہشت گردی اور عدم استحکام کے طوفان سے گزر رہا ہے۔ بازاروں، اسکولوں اور عبادت گاہوں پر حملوں نے شہریوں کے دلوں میں بے یقینی کو جنم دیا۔ نوجوان نسل میں انزائٹی، ڈپریشن اور PTSD کے اثرات نمایاں ہیں۔ افغانستان سے متصل سرحدی علاقوں، خصوصاً خیبر پختونخوا میں کشیدگی اور جھڑپوں نے مقامی آبادی کو شدید نفسیاتی ہیجان میں مبتلا کر رکھا ہے۔ گولہ باری اور مسلسل خوف کے ماحول نے عام حالات کے مقابلے میں ذہنی مسائل میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ جب معیشت کمزور ہو، روزگار نایاب ہو اور انصاف کا نظام متزلزل ہو تو ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ گھریلو تشدد، منشیات اور خودکشی جیسے مسائل اسی فضا میں جنم لیتے ہیں۔ یوں جنگ سرحدوں سے نکل کر ذہنوں اور گھروں میں داخل ہو جاتی ہے۔

سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ صدمہ نسلوں میں منتقل ہو سکتا ہے۔ دھماکے صرف خون نہیں بہاتے بلکہ نسل در نسل ایسے زخم منتقل کرتے جاتے ہیں جو کبھی صحتمند نہیں ہوتے۔ جن والدین کا بچہ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا انہیں مرتے دم تک بھلا کیسے سکون آئے گا، وغیرہ وغیرہ! ایسے میں غم، بے صبری اور غصہ شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ جنگ ختم ہو جائے تو بھی اس کا سایہ برقرار رہتا ہے۔ تاریخ سکھاتی ہے کہ بحالی ممکن ہے کہ تعلیم، انصاف، روزگار، جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی پائیدار امن کے ستون ہیں۔

Grief Reactions سے باہر آنے اور اجتماعی صدمے کے اثرات کم کرنے کے لیے نفسیاتی صحت کی بحالی پر سنجیدہ کام کرنا ہو گا۔ ماہرینِ نفسیات کی تعداد بڑھائے بغیر اور متاثرہ خاندانوں کو مناسب علاج تک رسائی دیے بغیر اس ”نفسیاتی جنگ“ کو شکست دینا ممکن نہیں۔

ہم نے نیشنل ایکشن پلان جیسے اقدامات بھی ترتیب دیے، مگر مستقل مزاجی سے عمل درآمد نہ ہو سکا۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام آج بھی امن کے منتظر ہیں۔ اس بے یقینی کی کیفیت میں قانون پر عمل درآمد میں کمزوری، نحیف مقدمات، گواہوں کو عدم تحفظ کا احساس اور غیر علانیہ گمشدگیوں سمیت بہت سے مسائل ہمیں دیرپا امن سے دور کر رہے ہیں۔ اگر سیاسی و عسکری نظام کو بقول حکومت وقت Hybrid کر کے بھی ہم مستقل امن قائم نہیں کر پا رہے تو سوال یہ ہے کہ مسئلہ کہاں ہے؟ امن صرف طاقت کے توازن سے نہیں بلکہ اعتماد، انصاف اور شفاف حکمرانی سے آتا ہے۔

بطور معالج، لائن آف کنٹرول اور دوسرے جنگ زدہ علاقوں کے باسیوں کے علاج کے بعد یہ ظاہر ہوا کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والی گولہ باری اور کشیدہ حالات نے انہیں PTSD، انزائٹی، ڈپریشن، نیند کی خرابی اور انجانے خوف جیسے مسائل سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ ذہنی مسائل صرف شخصیت کو متاثر نہیں کرتے بلکہ وقت کے ساتھ مختلف جسمانی بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھا دیتے ہیں، جن میں شوگر، بلڈ پریشر، امراضِ قلب اور فالج شامل ہیں۔

حقیقی امن وہ ہے جو دلوں میں زینہ بہ زینہ اترے۔ جہاں بچہ آسمان کی طرف دیکھے تو اسے دھماکوں کی گونج نہیں بلکہ زندگی کی سرگوشی سنائی دے۔ جہاں پھول کھلتے ہوں اور محبت سے لب ہلتے ہوں۔ جہاں اضطراب دل کی دھڑکن نہ بنے۔ جہاں بازاروں میں گھومتے ہوئے کچھ کھو جانے کا خوف نہ ہو، عبادت گاہیں محفوظ ہوں اور عزتِ نفس کا تحفظ یقینی ہو۔ جہاں رومانویت کا درجہ امن، محبت اور انسانیت کو حاصل ہو نہ کہ اشتعال انگیزی، اسلحے کی دوڑ اور اقتدار کے لالچ کو۔ جنگ وقتی سرحدیں بدل سکتی ہے، مگر امن ہی نسلوں کی تقدیر بدلتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کسی جنون اور وحشی پن کا نام تو ہو سکتا ہے رومانویت سے بھرپور جذبے کا ہر گز نہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW