خیبر پختونخوا میں گورنر راج نہیں، ریفرنڈم کروایا جائے

اس وقت کے پی حکومت پاکستان کی سلامتی سے لے کر فیڈریشن سے براہ راست ٹکراؤ کی پالیسی پر چل رہی ہے جس سے نہ صرف دہشت گردی کو دوستانہ ماحول بلکہ جمہوریت کے اندر باہمی ٹکراؤ کا بھی تاثر مل رہا ہے جس کا بر ملا اظہار کل کی ڈی جی آئی ایس پی آر کی کانفرنس میں بھی واضح تھا۔
پچھلے دو سال میں انہوں نے کوئی بھی ایسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جس میں احتجاج سے لے کر وفاق پر دھاوے تک کا ہر حربہ استعمال کیا گیا مگر تمام تر ہتھکنڈوں کی ناکامی کے بعد اب وہ پھر سے ایک بار مظلوم بننے کی راہیں ڈھونڈھ رہے ہیں جس کی آخری کڑی کے طور پر وہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کو ایشو بنا کر اپنی آخری سانسیں لیتی سیاست کو آکسیجن مہیا کرنے کی کوشش میں ہیں۔ جس کا مقصد عوامی ہمدردیوں کے حصول کی کوشش ہے۔ انہیں کوئی پرواہ نہیں خواہ گورنر راج ہی لگ جائے۔
کیونکہ اب وہ صوبے میں تیرہ سال کا وقت ضائع کر بیٹھنے کے بعد کارکردگی کی دوڑ میں عوامی پذیرائی حاصل کرنے کے ناممکن حالات کے ہاتھوں مجبور وہ اپنی سیاست کو کسی طرح زندہ رکھنے کے بہانے ڈھونڈھ رہے ہیں۔
لیکن وفاقی حکومت کو اس حساس پہلو کو مد نظر رکھتے ہوئے عوامی نبض شناسی کرتے ہوئے عوام کی خواہش جاننے کی کوشش کرنی چاہیے جس کا اشارہ انہیں ضمنی انتخابات میں پی ٹی آئی کے خلاف ووٹ ملنے سے دیا جا چکا ہے۔
وہاں کے عوام کو اب اپنی غلطی کا اندازہ ہو گیا ہے جو وہ ہمدردیوں کے بیانیے کے ہاتھوں یرغمال ہو کر کر چکے ہیں۔ اب وہ نہ صرف غربت اور بے روزگاری میں پس رہے ہیں بلکہ دہشت گردی نے ان کی زندگی بھی اجیرن کر رکھی ہے جس کو دوستانہ ماحول بھی ان کی اپنی ہی صوبائی حکومت مہیا کر رہی ہے۔ ان کو یہ بھی اندازہ ہے کہ ان دہشت گردوں کو ملک میں داخل کرنے والی پالیسی کی خالق جماعت بھی پی ٹی آئی ہی ہے۔
اب حکومت کو ضمنی انتخابات میں دیے گئے مینڈیٹ کے احترام میں عوامی رائے کو مقدم جانتے ہوئے کوئی ایسا موقع مہیا کرنے کا ماحول دینا چاہیے جس سے وہ اپنی غلطی کا ازالہ کر سکیں اور اس کے لئے بہتریں حکمت عملی ایک ریفرنڈم ہے جس میں عوام سے دوبارہ مینڈیٹ کے اظہار کے لئے صوبائی انتخابات کی طرف جانا ہے جو ان کی موجودہ پی ٹی آئی حکومت کی نگرانی میں ہی الیکشن کمیشن سے کروایا جائے تاکہ کسی بھی قسم کے دھاندلی کا شائبہ نہ رہے۔
آرٹیکل 48 ( 6 ) کانسٹیٹوشن آف پاکستان صدر پاکستان کو اپنی ذاتی صوابدید یا وزیر اعظم کی ہدایت پر کسی بھی قومی سطح کے معاملے پر عوامی رائے کو حاصل کرنے کے لئے ریفرنڈم کے اختیارات دیتا ہے۔ جس کے تحت پارلیمان کی منظوری کے بعد اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سب آرٹیکل 7 اس کے طریقہ کار کو وضع کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
اور اگر کے پی کے عوام کی اکثریت دوبارہ صوبائی انتخابات میں جانے کا اظہار کرے تو انہیں دوبارہ سے اپنی نمائندہ حکومت بنانے کا چانس دیا جانا چاہیے۔ اس سے نہ صرف عوام کو ان کی مرضی کی حکومت ملے گی بلکہ وفاقی حکومت کی کسی دوسری حکمت عملی سے پی ٹی آئی کے مظلوم بننے کی کوششیں بھی دم توڑ جائیں گی۔
اس وقت ریفرنڈم دہشت گردی کے خاتمے، ملک میں سیاسی استحکام اور کے پی کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے انتہائی ناگزیر ہے۔ اس سے پی ٹی آئی کو بھی اپنے عوامی مینڈیٹ کے گھمنڈ کی اصلیت کا اندازہ ہو جائے گا کہ عوامی مینڈیٹ کی استقامت کے لئے ضروری ہے کہ عوامی خدمت میں کارکردگی بھی ہو محض مظلومیت کی بنیاد پر ہمدردیوں کے سہارے سیاست ہمیشہ نہیں کی جا سکتی۔
