ٹیکنالوجی کی جنگ اور نئی عالمی حکمرانی کا محاذ
آج کل دنیا بہت بڑے نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ ایک طرف امریکہ، یورپی یونین ان کے اتحادی ممالک اور ادارے ہیں تو دوسری طرف چین، روس ان کے اتحادی ممالک اور ادارے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان 1914 ء اور 1939 ء والے حالات بنتے نظر آ رہے ہیں اور لگتا یہ ہے کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں چیونٹیوں نے کچلے جانا ہے۔
امریکہ 1945 ء کے بعد تمام سرمایہ دار دنیا کا بلاشرکت غیرے سربراہ بن گیا۔ اس نے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کرنے کے لئے صنعت، مالیات، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، وار انڈسٹری اور سپلائی چین پر اپنی حکمرانی ثابت کی۔ سوویت روس کو توڑنے کے بعد اس کا ڈنکا چہار عالم میں بج رہا تھا۔ دوسرے ممالک کو تابع فرمان رکھنے کییے لئے اس کے پاس ورلڈ بنک، آئی ایم ایف اور نیٹو جیسے ادارے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ وقت نے کروٹ لی۔ چین اور روس نے ٹیکنالوجی، صنعتی پیداوار، وار انڈسٹری، سپلائی چین اور متبادل مالیاتی اداروں (برکس، اے آئی آئی بنک ) کی شکل میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ٹکر دینا شروع کر دی۔ لوگ ملتے گئے اور کارواں بنتا گیا کے مصداق یہ اتحاد مضبوط ہوتا گیا۔
کہتے ہیں کہ حکمرانی ایک نشہ ہوتا ہے۔ امریکہ بھی اس نشہ میں مدہوش ہو گیا تھا اور جب آنکھ کھلی تو سین بدلا بدلا تھا۔ اب انھوں نے ایک طرف روس کو یوکرائن جنگ کے ذریعے مارنے کی کوشش کی تو دوسری طرف چین پر ٹیکنالوجی کی پابندیاں لگا کر مقابلہ کی جنگ سے باہر کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ کہا جاتا ہے کہ سرمایہ داری کی سب سے بڑی طاقت اس کی مقابلہ بازی کی جنگ میں ہے اور اس کے لئے وہ باقی سامنے کے تمام مقابلہ بازوں کو بلا تخصیص کچل دینا چاہتی ہے۔
سرمایہ داری دنیا کے ماہرین، جیسے پال کینیڈی، نے اپنی کتاب میں یہ ثابت کیا ہے کہ وہ سماج جو ٹیکنالوجی میں بہتر تھے وہ ایک وقت میں دنیا پر حکمران ٹھہرے اور آخرکار انھیں کا پھیلاؤ ہی ان کے زوال کا باعث بنا۔ اسی طرح جیفری سیکس نے یہ ثابت کیا ہے کہ جو ممالک ٹیکنالوجی میں برتر ہوتے ہیں وہ باقی ممالک پر حکمرانی کرتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کیا ہے؟ یہ دنیا کو بدلنے کا ایک ہتھیار ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی دو ٹیکنالوجیز ہیں جن کا ذکر فریڈرک اینگلز نے اپنی کتاب ”ڈائیلیکٹکس آف نیچر“ میں کیا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ انسان کے دو آزاد ہاتھوں نے ٹیکنالوجی کو پیدا کرنا اور بہتر بنانا شروع کیا۔ ان دو ہاتھوں کی محنت نے فہم، عقل جودت، زکاوت، فراست، استدلال اور شعور کی وہ جوت جگائی جس کا منفی اور مثبت پھل آج ساری دنیا کھا رہی ہے۔ اس نے اس ساری تاریخی ترقی کی بنیاد اس سوال کو گردانا جو انسان کو درپیش ہوتا ہے اور اس سے باقی چیزیں وجود پذیر ہوتی ہیں اور وقت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ ترقی کرتی جاتی ہیں۔ اسے فلاسفہ نے بیکممنگ یا وجود میں آنا کہا۔ اور یہی وہ آگ ہے جسے اساطیر میں پرومیتھس کی خدا سے بغاوت کا نام دیا گیا ہے اور ہیگل نے روح عصر کہا ہے۔ جیفری سیکس نے اس بات کو سات ادوار میں بیان کیا ہے لیکن مادی جدلیات سے صرف نظر کرتے ہوئے۔
انسانی تاریخ میں سوال کو ڈاکومنٹ کرنے کے لئے زبان کا وجود ضروری ٹھہرا تو انسان نے اپنی محنت اور عقل و فہم سے اسے وجود دیا۔ ٹیکنالوجی ترقی کرتی گئی اور 15 ویں صدی عیسوی میں چھاپہ خانہ کی ایجاد نے علم کو خواص کے چنگل سے آزادی دلا کر عوام میں لا کر رکھ دیا۔ پھر چل سو چل۔ انسان کی خوابیدہ تخلیقی صلاحیتیں بروئے کار آئیں اور صنعتی دور کا آغاز ہو گیا۔ اب ممالک نے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر رکھنے کے لئے علم اور ریسرچ کو باقاعدہ سپورٹ کرنا شروع کیا۔ جس سے ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ ہمہ جہت ہوتا چلا گیا۔ اور آج یہ حال ہے کہ ریسرچ، ریسرچ پیپرز اور ان کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی نئی نئی ٹیکنالوجیز معتبر ٹھہری ہیں۔ کیونکہ یہ کسی بھی ملک کی ترقی کی نقیب ہوتی ہیں۔ گو کہ جدید سرمایہ دار دنیا نے ”پیٹنٹ“ کے روپ میں اپنی اجارہ داری کو ایک لمبا عرصہ قائم رکھا لیکن اب یہ رکاوٹ بھی ریت کے ٹیلے کی طرح علم اور ریسرچ کی تیز آندھی کے آگے ڈھیر ہو رہی ہے۔
اکیسویں صدی نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو پروان چڑھایا ہے۔ آج کا دور الیکٹرانکس کا دور ہے۔ ہمارے ہر پرزے میں مقناطیس استعمال ہو رہے ہیں۔ ان کے بغیر زندگی کا تصور بھی محال ہے۔ اس ٹیکنالوجی اور اس کے نتیجے کے طور پر وقوع پذیر ہونے والی چپس اور سیمی کنڈیکٹر ٹیکنالوجی پر مغرب کی اجارہ داری تھی لیکن اب اس ٹیکنالوجی اور اس کی ریسرچ پر چین کی اجارہ داری مستحکم ہوتی جا رہی ہے۔ اور یہی وہ وجہ ہے جس نے مغربی سرمایہ دار دنیا میں ایک ہیجان برپا کر رکھا ہے۔ ٹرمپ کی ٹیرف وار بھی اسی بات کا ایک شاخسانہ ہے۔
تاریخ کے گہرے مطالعہ سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جس ملک کے پاس سب سے جدید ٹیکنالوجی تھی اور اس نے اسے پیداواری نظام کے ساتھ جوڑ کر صنعت و حرفت کو ترقی دی اس نے دنیا پر حکمرانی کی۔ تاریخی حقائق سے لگ رہا ہے کہ یہ صدی چین کی صدی ہے۔ سچ کڑوا ہوتا ہے لیکن بہرحال یہ حقیقت ہے اور حقیقت اپنے آپ کو منوا کر ہی رہتی ہے۔

