میرے مطابق

خودکشی، ڈپریشن اور امید کی تلاش

Abdullah Usman Morai

سندھ سے اکثر و بیشتر روزانہ کی بنیاد پر نوجوانوں کی خودکشیوں کی خبریں آتی ہیں، جو انتہائی تشویشناک اور قابلِ فکر ہے۔ ہماری دنیا میں آج سب سے بڑا دشمن کوئی اور نہیں، بلکہ خاموش اداسی (Silent Sadness) ہے ؛ وہ اداسی جو کسی کے چہرے پر دکھائی نہیں دیتی، مگر اندر ہی اندر جاگتی رہتی ہے۔ کسی کی ہنسی میں درد چھپا ہوتا ہے تو کسی کی خاموشی میں فریاد اور پکار، اور کسی کی روزمرہ کی مصروفیات میں بیزاری۔ یہی اداسی، جب بغیر علاج کے بڑھتی رہتی ہے تو ڈپریشن بن جاتی ہے، اور کبھی کبھی یہ بوجھ اتنا بھاری ہو جاتا ہے کہ انسان خود کو ختم کرنے کے خیال تک پہنچ جاتا ہے۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیسے ایک ایسا انسان جو کل تک خوش اور ہنستا مسکراتا تھا، آج مرنا چاہتا ہے؟

اس کا جواب ہمارے معاشرے کی بے حسی اور جہالت میں پوشیدہ ہے۔ ہم جسم کی بیماری کو تو بیماری سمجھتے ہیں، مگر دماغ کی بیماری کو صرف ”کمزوری“ کہتے ہیں۔ کسی کو بخار ہو تو دوا دیتے ہیں، لیکن کسی کو ڈپریشن ہو تو کہتے ہیں ”عبادت کرو، سب ٹھیک ہو جائے گا“ ۔ سچی عبادت یقیناً روح کو سکون دیتی ہے، مگر جب دماغ میں کیمیائی توازن بگڑتا ہے، تو اسے طبی امداد، گفتگو، اور سماجی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔

ڈپریشن، ایک پوشیدہ جنگ

ڈپریشن کسی امیر، غریب، مرد، عورت، نوجوان یا بوڑھے کو نہیں دیکھتا۔ یہ کسی کو بھی خاموشی سے اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ اس کی علامات عجیب ہیں، مثلاً کھانے کو دل نہ کرنا، راتوں کو سو نہ پانا، اپنی ذات سے بیزاری، یا زندگی کو بے مقصد سمجھنا وغیرہ۔ مگر ان سب سے خطرناک مرحلہ وہ ہے، جب انسان سوچنے لگتا ہے کہ ”اب میرے ہونے کا کوئی مطلب نہیں رہا“ اور وہیں خودکشی کا خیال جنم لیتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ خودکشی کسی کی کمی یا بزدلی نہیں، بلکہ برداشت کی حد سے آگے بڑھ جانے والے درد کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک SOS پکار ہے، جس کا مطلب ہے ”مجھے سنو، مجھے سمجھو، مجھ سے بات کرو۔“

امید کی تلاش

مگر اس اندھیرے میں بھی روشنی ہے۔ امید ہمیشہ موجود رہتی ہے، اگرچہ کبھی کبھی وہ ایک چھوٹی سی چمک میں چھپی ہوتی ہے۔ امید کا مطلب یہ نہیں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا، بلکہ یہ کہ ”میں نے ابھی ہار نہیں مانی ہے۔“ ایسی حالتوں میں دو چیزوں کا کردار بنیادی ہے :

1۔ گفتگو (Communnication) : جب کوئی شخص اپنا درد کسی کے ساتھ بانٹتا ہے، تو گویا وہ اپنا آدھا علاج کر لیتا ہے۔

2۔ سماجی تعاون (Social Support) : ایک سادہ سا جملہ جیسے ”میں تمہارے ساتھ ہوں“ کبھی کسی کی زندگی بچا سکتا ہے۔

سندھی ثقافت میں ہمدردی، باہمی اتحاد، اور محبت کی قدریں بہت گہری ہیں۔ ہمارے پاس ”خود کو کھونے سے پہلے دوسروں کے لیے جینے“ کا سبق ہے۔ اگر ہم ان روایات کو نئی نسل تک زندہ رکھیں، تو شاید بہت سے لوگ خودکشی سے پہلے امید کی طرف واپس پلٹ آئیں۔

روحانی امید، اندر کا سفر

صوفی فکر کہتی ہے کہ ”نا امید ہونا، خود خدا سے جدا ہونا ہے“ ۔ شاہ لطیف کے بیت، سچل کے افکار اور سندھی صوفیت کا پیغام بتاتے ہیں کہ ہر دکھ کسی مقصد کے ساتھ بھیجا جاتا ہے۔ کبھی کبھی قدرت انسان کو اندھیرے میں ڈالتی ہے تاکہ وہ روشنی کی قدر کو سمجھ سکے۔ عبادت، صوفی کلام، موسیقی، دعا اور فطرت سے تعلق آج بھی ہزاروں لوگوں کے لیے ذہنی علاج کا کام کرتے ہیں۔ دریا کے کنارے بیٹھنا، اپنے دل کی باتیں کسی سے کرنا، یا شاہ کے بیت پڑھنا، یہ سب امید کے دروازے کھولتے ہیں۔

ہماری ذمہ داری

بطورِ معاشرہ ہمیں ہر اُس انسان کے لیے ”محبت کی جگہ“ بننا پڑے گا، جو اندر ہی اندر اپنے آپ سے لڑائی لڑ رہا ہے۔ خودکشی پر بات کرنے کو ”حرام“ یا ”شرمناک“ نہیں، بلکہ انسانی اور اخلاقی فرض سمجھنا چاہیے۔

اسکولوں، کالجوں، اور میڈیا میں ”ذہنی صحت سے متعلق آگاہی (Mental Health Awareness)“ کو عام کرنا چاہیے۔ ڈاکٹروں کے ساتھ، اساتذہ، والدین اور دوستوں کو بھی سیکھنا پڑے گا کہ کسی کو کیسے سننا ہے۔

حاصل مقصد یہ کہ زندگی، تمام دکھوں، غموں، اور نا امیدیوں کے باوجود، قابلِ محبت ہے۔ ایک دن کا اندھیرا، پوری زندگی کی صبح کو ختم نہیں کر سکتا۔ ”جیون (زندگی) ، اپنے اندر چھپی ہوئی امید کا نام ہے۔ جب تم سمجھتے ہو کہ سب ختم ہو گیا، تب ہی کوئی نئی کرن پیدا ہوتی ہے۔“

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW