میرے مطابق

سی آر 450 : اب سفر ہو گا 450 کلومیٹر فی گھنٹہ

eatisam ul haque saqib

دنیا بھر میں فاسٹ ٹرینوں کی رفتار اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی ایک حیرت انگیز داستان بن چکی ہے۔ انسانی جدت اور رفتار کی خواہش نے ریل کے شعبے کو اس سطح تک پہنچا دیا ہے جہاں یہ ہوائی سفر کے متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے۔ فاسٹ ٹرینوں نے نہ صرف زمینی سفر کے انداز کو بدل دیا ہے بلکہ ان کی بدولت معیشت، ماحول اور شہری ترقی کے کئی پہلوؤں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اگر رفتار کی بات کی جائے تو جاپان کی JR Maglev L 0 سیریز نے 603 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر کے دنیا کا نیا ریکارڈ قائم کیا۔ یہ کامیابی صرف انجینئرنگ کا کمال نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ ریل ٹیکنالوجی کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ روایتی اسٹیل پہیوں والی ٹرینوں میں فرانس کی TGV POS نے 574.8 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ سب کو پیچھے چھوڑا۔ لیکن یہ رفتار تجرباتی ٹرینوں کی ہے۔ تجارتی لحاظ سے اس و قت دنیا کی زیادہ تر ہائی سپیڈ ٹرینیں 300 سے 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی ہیں۔ یورپ میں بھی فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی کے درمیان ہائی سپیڈ نیٹ ورک موجود ہے جو پورے براعظم کو جوڑتا جا رہا ہے، لیکن چین اس شعبے میں سب سے نمایاں ملک بن کر سامنے آیا ہے۔ چین کا ہائی سپیڈ ریلوے نیٹ ورک دنیا کا سب سے وسیع اور تیز رفتار نظام بن چکا ہے۔ بیجنگ سے شنگھائی، گوانگژو سے شینزین اور دیگر شہروں کو جوڑنے والی ہزاروں کلومیٹر لمبی لائنوں پر روزانہ لاکھوں لوگ سفر کرتے ہیں۔

رفتار کی بات کریں تو چین میں سی آر 450، جسے دنیا کی تیز ترین الیکٹرک ملٹی پل یونٹ (EMU) کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، اس وقت شنگھائی چھونگ چھنگ چنگ دو ہائی اسپیڈ ریل لائن پر ”آپریشنل ایوالوایشن“ کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ سی آر 450 گزشتہ سال کے آخر میں پروٹو ٹائپ کے متعارف ہونے کے بعد سے مسلسل سخت ٹیسٹنگ سے گزر رہی ہے۔ تمام کارکردگی کے پیمانوں پر کامیابی کے حصول، بشمول 450 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار تک پہنچنے کے بعد ، ٹرین کے مسافر بردار تجارتی سروس کے لیے کلیئر ہونے سے پہلے اب ٹیسٹنگ فیز میں 600,000 کلومیٹر کے کامیاب آپریشن مائلز کا حصول ضروری ہے۔

اس کی کلید ایروڈائنامک اور ڈھانچے میں بہتریاں ہیں۔ ٹرین کے ”نوز کونز“ کو موجودہ 350 کلومیٹر فی گھنٹہ والی ٹرینوں کے 12.5 میٹر سے بڑھا کر مزید سٹریم لائنڈ 15 میٹر کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ہوا کا مزاحمتی دباؤ کم ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ڈیزائن کی کئی اختراعات کی بدولت ٹرین کے مجموعی مزاحمتی دباؤ میں 22 فیصد کمی کی گئی ہے۔ ان میں بوگیوں کو مکمل طور پر ڈھانپنا اور کاریجز کے نیچے اسکرٹ پینلز کو نیچے کرنا شامل ہے، جس سے پہیوں کا ہوا میں ایکسپوژر کم سے کم ہو گیا ہے۔ ڈیزائن کا یہ فلسفہ اعلیٰ کارکردگی والی ریس کاروں سے ملتا جلتا ہے۔ ٹرین کی اونچائی بھی 20 سینٹی میٹر کم کر دی گئی ہے جب کہ اس کا وزن 50 ٹن کم کر دیا گیا ہے۔ پانچ سالوں میں، ڈویلپرز نے ہوا کے مزاحمتی دباؤ کو کم کرنے پر کام کیا ہے، جس میں بہتری کی پیمائش 0.1 فیصد جتنی چھوٹی اکائیوں میں کی گئی ہے۔ یہ ڈیزائن ڈرامائی اسپیڈ کو ممکن بناتا ہے۔ سی آر 450 حرکت نہ کرنے سے چلنے کے عمل کے صرف 4 منٹ اور 40 سیکنڈ میں 350 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ یہ موجودہ فوشنگ EMUs کے مقابلے میں 100 سیکنڈ تیز ہے، جنہیں اسی رفتار تک پہنچنے میں 6 منٹ اور 20 سیکنڈ لگتے ہیں۔

چین کا ٹرانسپورٹیشن سیکٹر مسافروں کے موثر سفر اور کارگو کے بے عیب بہاؤ کے اپنے ہدف کی طرف تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس نے دنیا کے سب سے بڑے ہائی اسپیڈ ریل اور ایکسپریس وے نیٹ ورکس تعمیر کیے ہیں، جو ایک مربوط ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کا حصہ ہیں جو اب 6 ملین کلومیٹر سے زیادہ پر محیط ہے۔

2021 میں ایک اہم اقدام کے طور پر شروع کیا گیا، سی آر 450 پراجیکٹ پہلے ہی گراؤنڈ بریکنگ نتائج دے چکا ہے۔ اس کا پروٹوٹائپ، جو گزشتہ سال کے آخر میں متعارف ہوا، اس کے بعد ٹرائلز کے دوران نئے عالمی ریکارڈ قائم کر چکا ہے، جن میں 453 کلومیٹر فی گھنٹہ کی زیادہ سے زیادہ رفتار اور 896 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ریلٹیو پاسنگ اسپیڈ شامل ہیں، جس نے ہائی اسپیڈ ریل ٹیکنالوجی میں چین کی عالمی قیادت کو مضبوط کیا ہے۔

یہ ترقی محض رفتار کی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی کے پورے نظام کی ہے۔ آج کی ہائی سپیڈ ٹرینیں خودکار کنٹرول، جدید سگنلنگ، اور توانائی کے موثر استعمال جیسے نظاموں سے لیس ہیں۔ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل نگرانی، اور بہتر ایروڈائنامک ڈیزائنز نے سفر کو زیادہ محفوظ اور آرام دہ بنا دیا ہے۔ بجلی سے چلنے والی ان ٹرینوں نے ایندھن کے اخراج میں کمی لا کر ماحول دوست سفری ذرائع میں اپنی جگہ مضبوط کی ہے۔

تاہم، اس ترقی کے ساتھ چیلنجز بھی موجود ہیں۔ تیز رفتار ٹرینوں کے لیے نہ صرف طاقتور انجن درکار ہوتے ہیں بلکہ انتہائی مستحکم ٹریکس، پیچیدہ سگنلنگ، اور سخت حفاظتی معیارات بھی ضروری ہیں۔ یہ سب تعمیراتی اور مالی لحاظ سے بہت مہنگے ثابت ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ رفتار بڑھنے کے ساتھ ہوا کا دباؤ، شور اور توانائی کا استعمال بھی بڑھ جاتا ہے، جس کے تدارک کے لیے مستقل تحقیق جاری ہے۔

مستقبل میں میگ لیو ٹیکنالوجی ہائی سپیڈ ریل کی بنیاد بننے جا رہی ہے۔ چین، جاپان اور یورپ کے بعد اب امریکہ، سعودی عرب، اور بھارت جیسے ممالک بھی اس سمت میں منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگلی دہائی میں 500 کلومیٹر فی گھنٹہ یا اس سے زیادہ کی تجارتی رفتار پر چلنے والی ٹرینیں حقیقت بن جائیں گی۔ ان کے ساتھ جدید رابطہ نظام G 6 کنیکٹیویٹی، اور خودکار مانیٹرنگ جیسی سہولیات سفر کو تیز، محفوظ اور کم خرچ بنا دیں گی۔

اگرچہ ہائی سپیڈ ریل کی تعمیر میں بھاری سرمایہ درکار ہوتا ہے، لیکن اس کے فوائد طویل مدت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ شہروں کے درمیان فاصلے کم ہوتے ہیں، ہوائی سفر کا دباؤ گھٹتا ہے، اور علاقائی معیشتوں کو نئی توانائی ملتی ہے۔ ساتھ ہی، ماحول پربھی نسبتاً کم بوجھ پڑتا ہے کیونکہ ٹرینیں کاربن کے کم اخراج کے ساتھ بڑی تعداد میں مسافروں کو ایک ساتھ لے جا سکتی ہیں۔

فاسٹ ٹرینوں کے سفر میں ٹیکنالوجی اس سمت بڑھ رہی ہے جہاں زمین پر سفر ہوائی جہاز کی رفتار کے قریب پہنچ جائے گا۔ اگر ممالک اپنی سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر اور تحقیق کو متوازن رکھیں، تو مستقبل میں ریل کا نظام نہ صرف تیز ترین بلکہ سب سے موثر، محفوظ اور پائیدار سفری ذریعہ بن سکتا ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW