افسانوی ادبمیرے مطابق

افسانہ: پالیسی

hassan ailya

فضل جس کی پیشانی پر وقت کی دھول اور غربت کی گہری لکیریں تھیں، کھجور کے گھنے باغات میں مزدوری کر رہا تھا۔ اس کا پورا خاندان عورتیں اور بچے سر جھکائے کام میں لگے ہوئے تھے یہ باغات ان کے اپنے نہ تھے نہ ہی ان پر کوئی حق تھا۔ یہ سب وڈیرے کی جاگیر کا حصہ تھے جس پر زرعی اصلاحات کے بعد قانونی گرفت تو کمزور پڑ چکی تھی مگر وڈیرے کا جبر آج بھی سندھ کی مٹی میں رچا بسا تھا سائیں جلال کی نجی جیلیں اب بھی قائم تھیں جہاں حکم عدولی کرنے والے کسانوں کو قید رکھا جاتا تھا جب وہ سیاسی عہدے پر فائز ہوتا، اس کی طاقت مزید بڑھ جاتی۔ پولیس عدالتیں اور قانون کی کتابیں سب اس کے مفادات کے تابع ہو جاتے۔ فضل اور اس کے خاندان کے لیے کھیت چھوڑنے کا تصور بھی ایک خواب سے کم نہ تھا۔

ایک دن جب فضل کھجوروں کی ٹہنیاں سمیٹ رہا تھا، وڈیرہ اچانک آ پہنچا اس کی آمد سے باغ میں خاموشی چھا گئی۔ چند رسمی سوالات کیے فصل کیسی ہے؟ سب خیریت ہے؟ فضل نے سر جھکا کر جواب دیا۔ مگر اس دن وڈیرے کی انکھوں میں عجیب چمک تھی جو فضل کو بے چین کر گئی یہ وہ بے نیازی نہ تھی جو اکثر دکھاتا تھا بلکہ ایک سودے کی چمک تھی۔

انتخابات قریب تھے سائیں جلال کے مخالفین طعنے دے رہے تھے جس کا گھر ویران ہے وہ ملک کیا آباد کرے گا؟ پانچ سال کی شادی کے باوجود سائیں اولاد سے محروم تھا۔

آج سائیں نے زمینوں سے واپس آ کر اپنے خاص کارندے چاپلوس بختیار کو بلایا، مجھے فضل کی بیٹی کا رشتہ چاہیے۔ جلال نے رازدارانہ لہجے میں کہا۔ بختیار نے ہاتھ جوڑ کر کہا سائیں فضل اللہ غریب ضرور ہے مگر غیرت مند ہے۔ دولت کے لالچ میں نہیں آئے گا۔ ہمیں غریب ہی کی لڑکی چاہیے، تم بات کرو باقی ہم دیکھ لیں گے جلال نے تحکمانہ انداز میں کہا۔

​بختیار شام ڈھلے فضل کے گھر پر پہنچا۔ لکڑی کا بوسیدہ دروازہ کھلا جب صبا کا ذکر ہوا تو فضل کی انکھوں میں آگ بھڑک اٹھی میری بیٹی کوئی سودا نہیں! اس نے کرخت لہجے میں کہا۔ بختیار نے دو دن سوچنے کی مہلت دی۔

دو روز گئے مگر فضل خاموش رہا اس کی خاموشی غصے کی نہیں، بلکہ بے بسی کی تھی۔ تیسری صبح بڑی مالکن مٹھائی کا ٹوکرا لے کر فضل کے در پر پہنچی۔ فضل کی بیٹی صبا نظریں جھکائے بیٹھی تھی، جسے اس کا وجود اس جگہ سے اٹھ چکا ہو مالکن نے نرمی سے کہا ہم تمہاری بیٹی کو ملکہ بنا دیں گے رشتے کو عزت دینی چاہیے۔

چند دن بعد صبا ڈولی میں بیٹھ کر وڈیرے کی حویلی میں داخل ہوئی۔ گاؤں والے قسمت کی شہزادی کہہ رہے تھے انھیں کیا معلوم کہ یہ ایک پالیسی ہے۔

سائیں جلال کی انتخابی مہم زوروں پر تھی۔ صبا کی موجودگی نے عوامی تاثر بہتر کیا، مگر بڑی مالکن کے دل میں جلن بڑھتی گئی جب سائیں صبا کے ناز نخرے اٹھاتا، مالکن کو دھوکہ محسوس ہوتا۔ وہ لمحے یاد آتے جب سائیں نے اس سے کہا تو ہی میری رانی ہے اور اسے بہلا پھسلا کر صبا کے رشتے کے لیے بھیجا تھا ایک رات بڑی مالکن نے اپنے کمرے کی بالکونی سے وڈیرے اور صبا کو ہنستے ہوئے دیکھا تو اس کا دل سینے میں یوں دھڑکا جیسے اس کا اپنا غرور ٹوٹ رہا ہو۔

سال گزرنے سے پہلے ہی صبا نے بیٹے کی خوش خبری دی سائیں الیکشن جیت گیا۔ اقتدار، دولت، فخر سب کچھ اس کے قدموں میں تھا مگر صبا اب محض ایک تصویر تھی۔ جب بھی وہ کہتی سرکار کچھ وقت دیجیے گا؟ سائیں فقط ایک نظر ڈال دیتا وہی نظر جو سب کچھ چھپاتی تھی، جس میں نہ کوئی تعلق تھا نہ کوئی اپنائیت وہ نظر جو اس کے چہرے پر پڑتی مگر اس کے دل تک نہیں پہنچتی۔

اب وہ شاپنگ کے لیے کراچی بھی لے کر نہیں جاتا تھا۔ ایک دن، جب صبا نے بچے کے کپڑوں کی ضد کی تو سائیں نے مصروفیت کا بہانہ کیا اور اسے ڈرائیور کے ساتھ روانہ کر دیا۔

بازار میں وڈیرے کی گاڑی پر فائرنگ ہوئی۔ کوئی زخمی نہ ہوا۔ سوائے صبا کے، وہ مر گئی، ٹی وی پر خبر چلی۔ سائیں جلال کی گاڑی پر حملہ بیوی جاں بحق۔

چند دن بعد انشورنس کمپنی کا پچاس لاکھ کا چیک آیا۔ وڈیرے نے خاموشی سے دستخط کیے۔ اس کے چہرے پر نہ کوئی غم تھا نہ کوئی دکھ بس ایک بے حسی تھی جو ایک کامیاب سودے کے بعد چہرے پر ہوتی ہے بڑی مالکن چیک کو دیر تک تکتی رہی پھر اس کے ہونٹوں پر ایک تلخ ہنسی بکھر گئی میں تو سمجھتی تھی یہ تمہاری دوسری بیوی ہے یہ تو صرف ایک بیمہ پالیسی تھی۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW