کالم۔

کارل ینگ اور اجتماعی لاشعور

dr khalid sohail

انسانی نفسیات کی روایت میں اجتماعی لاشعور کا تصور ماہر نفسیات کارل ینگ نے پیش کیا۔ ینگ کا کہنا تھا کہ انسانی لاشعور کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ انفرادی لاشعور کا ہے جسے سگمنڈ فرائڈ بھی مانتے تھے۔ یہ لاشعور ہر انسان کا جداگانہ ہوتا ہے۔ دوسرا حصہ اجتماعی لاشعور کا ہے جو سب انسانوں میں یکساں طور پر پایا جاتا ہے۔

ینگ کا کہنا تھا کہ اجتماعی لاشعور کی وجہ سے مختلف معاشروں اور ثقافتوں میں یکساں قسم کا لوک ورثہ اور اساطیری کہانیاں پائی جاتی ہیں۔ اجتماعی لاشعور میں مخصوص علامتیں پائی جاتی ہیں جو انسانوں کو خوابوں میں دکھائی دیتی ہیں۔ ان علامتوں کا انسانوں کی ذاتی زندگی اور انفرادی تجربے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

اجتماعی لاشعور کا تصور ینگ نے پہلی دفعہ 1916 میں اپنے مقالے The Structure of Unconscious میں پیش کیا تھا اور پھر اس کی تفصیل اپنی کتاب Man and his Symbols میں بیان کی تھی۔

ان تحریروں میں ینگ نے انفرادی لاشعور اور اجتماعی لاشعور کے فرق کو واضح کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انسان کے لاشعور میں کچھ آرکی ٹائپس Archetypes پائے جاتے ہیں جو اسے وراثت میں ملتے ہیں۔ ایسے آرکی ٹائپس پوری انسانیت میں یکساں طور پر پائے جاتے ہیں۔

ینگ کا کہنا تھا کہ چند جسمانی خصوصیات کی طرح انسان چند نفسیاتی خصوصیات بھی وراثت میں پاتا ہے جو سب انسانوں میں مشترک ہوتی ہیں۔ ایسا اجتماعی لاشعور انسان کی حال کی انفرادی زندگی کو ماضی کی اجتماعی زندگی سے جوڑتا ہے۔ جب کسی انسان کو مخصوص جذباتی یا سماجی تجربات کا سامنا ہوتا ہے تو یہ اجتماعی لاشعور فعال ہو جاتا ہے۔

اجتماعی لاشعور کی وجہ سے انسان کی شخصیت کا ایک حصہ پر سونا persona کہلاتا ہے۔ اس پر سونا کی وجہ سے ایک مرد کے لاشعور میں ایک عورت اور ایک عورت کے لاشعور میں ایک مرد موجود ہوتا ہے۔ ینگ نے ان کا نام Anima and animus رکھا تھا۔

ینگ کا کہنا تھا کہ انسان کی شخصیت کے شعوری روشن پہلو کے ساتھ ساتھ ایک لاشعوری تاریک پہلو بھی ہوتا ہے جسے وہ شیڈو shadow کا نام دیتے تھے۔

ینگ کا کہنا تھا کہ انسان اپنی جسمانی جبلتوں کے ساتھ نفسیاتی جبلتیں بھی لے کر پیدا ہوتا ہے۔ ان جبلتوں میں آرکی ٹائپس بھی شامل ہوتی ہیں۔ ان جبلتوں اور آرکی ٹائپس کی وجہ سے انسان کی شخصیت میں وجدانی خصوصیات پائی جاتی ہیں جن کا تعلق اس کے لاشعور سے ہوتا ہے۔

انسان کی منطقی سوچ کا تعلق اس کے شعور سے اور انسان کی وجدانی سوچ کا تعلق اس کے لاشعور سے ہوتا ہے۔

انسان کی وجدانی سوچ کا تعلق اس کی تخلیقی صلاحیتوں سے بھی ہے۔ انسان کی شخصیت کے تخلیقی پہلو کا دائرہ کار انسان کی شعوری سوچ کے دائرے سے کہیں زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ ینگ کا خیال تھا کہ انسان کی شخصیت کے وجدانی پہلو کا تعلق اس کی روحانی زندگی سے ہے۔

ینگ کا یہ بھی ماننا تھا کہ انسانی کی شخصیت کے شعوری پہلو کا تعلق منطقی سوچ سے ہے جبکہ شخصیت کے لاشعوری پہلو کا تعلق دانائی سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انسان کے لاشعور میں ایک بوڑھا دانا شخص Wise Old Person چھپا بیٹھا ہوتا ہے جو اس کی نسلوں کی دانائی کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ اس لاشعوری دانائی کی وجہ سے انسان کو زندگی کے مختلف تجربات اور مشاہدات میں مماثلت دکھائی دیتی ہے جو اس کے شعور سے بالاتر ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال Wise Old Person کا تجربہ ہے۔ اس خاصیت کی وجہ سے انسان کو مختلف اور متفرق اور غیر مربوط مشاہدات اور تجربات میں قدر مشترک دکھائی دیتی ہے۔

ایسے تجربات انسان کے شعور اور لاشعور میں ایک پل کا کام کرتے ہیں اور انہیں پراسرار طریقے سے جوڑتے ہیں۔

ینگ کا کہنا تھا کہ انسانوں کے لاشعور میں مخصوص علامتیں پائی جاتی ہیں جو سب انسانوں میں یکساں اور مشترک ہیں۔

ینگ اپنے مریضوں کے علاج میں انفرادی لاشعور کے ساتھ اجتماعی لاشعور سے بھی استفادہ کرتے تھے۔

ینگ کا کہنا تھا کہ اگر کسی شخص کو خواب میں ماں کی علامت دکھائی دیتی ہے تو اس علامت کے کئی معنی ہو سکتے ہیں۔ وہ علامت ماں کے علاوہ نانی دادی سوتیلی ماں اور ساس کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ ہم خواب میں آنے والی علامت کی تعبیر اس مریض کے مخصوص حالات اور تضادات کی روشنی میں کرتے ہیں۔

ینگ ان خوابوں کو زیادہ اہمیت دیتے تھے جو کسی شخص کو بار بار دکھائی دیتے تھے۔ ینگ کا خیال تھا کہ تواتر سے دکھائی دینے والے خوابوں کا تعلق اجتماعی لاشعور سے ہوتا ہے۔

ینگ کا کہنا تھا کہ مذہبی تہواروں اور روحانی روایات کا تعلق بھی انسانوں کے اجتماعی لاشعور سے ہے۔

ینگ اپنے خوابوں کو بھی اجتماعی لاشعور کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس کی ایک مثال یہ تھی کہ ایک زمانے میں انہیں خواب میں خون کا سمندر دکھائی دیتا تھا اور وہ پریشان ہو جاتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد جب جنگ عظیم شروع ہوئی تو انہیں خیال آیا کہ ان کے خواب جنگ عظیم کی پیشین گوئی تھے۔

پچھلی ایک صدی میں جہاں ینگ کے چاہنے والوں اور پرستاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے وہیں ناقدین کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ینگ کے خیالات اور نظریات سائنسی معیار پر پورے نہیں اترتے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ ینگ اپنے مذہبی خیالات اور روحانی نظریات کو نفسیاتی حقائق کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ہم ینگ کے نظریات کو سائنسی اور نفسیاتی حوالوں سے ثابت نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ینگ کے بعض تصورات کا تعلق انسان کی انفرادی نفسیات سے زیادہ سماجی نفسیات سے ہے۔ وہ تصورات ہمیں لوک ورثہ اور اساطیری کہانیوں کی تفہیم و تعبیر میں تو مدد کر سکتے ہیں لیکن انسانوں کے انفرادی تضادات کو سمجھنے میں مدد نہیں کر سکتے۔

اکیسویں صدی میں ماہرین نفسیات کے تین گروہ پائے جاتے ہیں۔ پہلا گروہ سگمنڈ فرائڈ کے انفرادی لاشعور کو مانتا ہے۔ دوسرا گروہ سگمنڈ فرائڈ کے انفرادی لاشعور کے ساتھ ساتھ ینگ کے اجتماعی لاشعور کو بھی مانتا ہے۔ تیسرا گروہ دونوں لاشعوروں کو نہیں مانتا۔ ان کا کہنا ہے کہ فرائڈ اور ینگ سائنسدانوں سے کہیں زیادہ فلسفی تھے۔

اپنے تمام تر جزوی نظریاتی اختلافات کے باوجود ماہرین نفسیات ایک بات پر متفق ہیں کہ بیسویں صدی میں سگمنڈ فرائڈ اور کارل ینگ نے انسانی نفسیات کے علم اور نفسیاتی مریضوں کے علاج میں گراں قدر اضافے کیے ہیں۔ ان کی تحقیقات اور تخلیقات کی وجہ سے انسانوں پر ان کی ذات ’شخصیت اور خوابوں کے بہت سے راز منکشف ہوئے ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW