میرے مطابق

عالمی سیاست اور عمرِ لازوال

Mukhtar Paras

اس سال شنگھائی میں ہونے والی ایس سی او کانفرنس کی سب سے مزیدار بات چین کے صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمر پوٹن کے درمیان سنی جانے والی وہ غیر رسمی گفتگو ہے جو انہوں نے انسان کی طوالتِ عمر کے امکانات کے بارے میں کی۔ دونوں اس بات پر متفق نظر آ رہے تھے کہ طبی سائنس میں ایجادات نے یہ امکان پیدا کر دیا ہے کہ آئندہ انسان شاید ایک سو پچاس سال تک زندہ رہ سکے گا۔ شاید پوٹن نے شی جن پنگ کو یہ بتایا ہو گا کہ روس نے کینسر کا علاج دریافت کر لیا ہے۔ ادھر چینی صدر نے ان کے کان میں کہا ہو گا کہ چین کا اے آئی والی لامحدود امکانات والی برقی بیویوں کا تجربہ بہت کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا ہو گا کہ جرمنی نے گِٹے گوڈے زیرو میٹر کرنے کے لیے ایک انجکشن ایجاد کر لیا ہے اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انہوں نے جاپان کا ذکر نہ کیا ہو جس نے مصنوعی خون بھی بنا ڈالا ہے جو نہ سرخ ہے اور نہ سفید اور وہ ہر قسم کے گروپ کو لگایا جا سکتا ہے۔ یہ دونوں عالمی رہنما اس دلچسپ موضوع پر کھسر پھسر کر رہے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ مائیکروفون آن ہے اور ان کی علمی گفتگو کو لوگ دانت نکال کر اور آنکھیں پھاڑ کر سن رہے ہیں۔

اب چونکہ بات چل نکلی ہے تو ذرا اس پر اور بھی گفتگو کر لینے میں کیا حرج ہے۔ ذرا سوچئے کہ اگر صدر شی پنگ اور صدر پوٹن کو ایک سو پچاس سال کی عمر لگ جاتی ہے تو عالمی سیاست کیا رخ اختیار کر سکتی ہے۔ صدر پوٹن نے صدر شی پنگ کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر یقیناً یہ کہا ہو گا کہ اگر اتنا جی لوں تو میں نیٹو کو تو مار کر ہی مروں گا اور دنیا کانفرنسیں کرنا بھول کر میرے جنازے کا انتظار کرنے کی پالیسیاں بنائے گی۔ صدر شی پنگ نے بھی پوٹن کا ہاتھ دبا کر کہا ہو گا کہ ایسا ہو جائے تو میں سال 2150 تک بیلٹ اینڈ روڈ پروجیکٹ کو ایمازون کے جنگلات تک لے جاؤں گا۔ اگر خدا تمہیں ہاتھی اور مجھے کچھوے کی سی زندگی دیتا ہے تو کم از کم ہزار سال کی خارجہ پالیسی بنانا تو پھر بنتا ہے۔ شی پنگ نے ہنس کر پوٹن کو چٹکی بھری ہو گی اور کہا ہو گا کہ سن 2150 میں تم 147 سال کے ہو گے اور زیلنسکی اس وقت بھی سبز کمانڈو ٹی شرٹ میں منجن بیچتا ہو گا۔ پوٹن نے شی پنگ کو کہا ہو گا میں تمہیں اپنی ایک سو بیسویں سالگرہ پر ضرور بلاؤں گا، انکار نہ کرنا۔ میں تمہیں یوکرین کے دریاؤں کی مچھلی کا دم پخت کھلاؤں گا۔ اس پر شی پنگ نے ٹھنڈی سانس بھر کر کہا ہو گا کہ ضرور آؤں گا۔ مگر مجھے اس سے پہلے چیئرمین ماؤ کی وہ ساری حکایتیں بدلنا پڑیں گی جس میں دادا پوتے کو کہانیاں سناتا ہے کیونکہ گمان یہ ہے کہ مستقبل میں گرینڈ فادرز کے پاس اتنا ٹائم نہیں ہو گا کہ وہ ایک سو بیس پوتے پوتیوں کو کہانیاں سناتے پھریں۔

آخر ہم ایسا کیوں سوچ رہے ہیں کہ طبی دنیا کے لمبی زندگی کے فوائد صرف چین اور روس کے صدور کو ہی دستیاب ہوں گے۔ کون جانتا ہے کہ سن 2200 میں صدر ٹرمپ امریکی آئین کو تبدیل کر کے دسویں دفعہ صدارتی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے کیپیٹل ہل پر پھر سے دھاوا بولنے کی تیاری کرتے نظر آئیں اور شاید ان کا انتخابی نعرہ ہو ’ٹرمپ کبھی نہیں مرے گا۔ لیکن اگر آپ مرنا چاہتے ہیں تو ٹرمپ کو ووٹ دیں تاکہ وہ ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر کے ادویات کی کمپنیوں کو زہر بیچنے کی اجازت دے سکے۔’

خیر باقی دنیا میں بھی حال کچھ مختلف نہیں ہو گا۔ نریندر مودی سن 2100 میں بھی گھسٹ گھسٹ کر کہہ رہا ہو گا کہ ہم اگلے سال گائے کی نائٹروجن سے نیا عظیم ہندوستان بنانے جا رہے ہیں اور عین ممکن ہے اس نئے ہندوستان میں وہ اپنے جوگیوں کے چھو منتر سے دشمن کی فوجوں سے مقابلہ کر رہے ہوں کیونکہ اس وقت تک ان کے سارے ہوائی جہاز تو گر چکے ہوں گے۔ مودی کے ہاتھ کانپ رہے ہوں گے، سر گھڑیال کی طرح ہل رہا ہو گا مگر وہ گھٹنے نہیں ٹیکے گا کیونکہ اس نے نقلی گھٹنے لگوائے ہوئے ہوں گے۔ وہ ہنسنے کی کوشش کرے گا مگر قہقہہ نہیں لگا سکے گا کہ اس کی بتیسی بھی ربڑ کی بنی ہو گی۔ اس کی سانس چل رہی ہو گی مگر نکل نہیں رہی ہو گی کیونکہ نقلی پھیپھڑے اس کی آکسیجن اس کے معدے سے مستعار لے رہے ہوں گے۔ اسے اس وقت بھی یہ فکر ہو گی کہ اسے ابھی گجرات میں ہسپتال بند کرنے ہیں تاکہ وہاں کے مسلمانوں کی عمریں کم کی جا سکیں۔

اگر اس حساب سے عمریں بڑھ گئیں تو اقوام متحدہ میں عالمی رہنما سٹریچر پر آیا کریں گے۔ وہاں پر قراردادیں چیٹ جی پی ٹی پر ایل جی پی ٹی والے پیش کیا کریں گے۔ اقوام متحدہ کے اجلاس میں ڈھانچے بیٹھ کر ہڈیاں کڑکڑاتے ہوئے نحیف سی تالیاں بجائیں گے اور پھر وہیں سو جایا کریں گے۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں مصنوعی آنکھوں کی دستیابی پر قراردادیں پیش ہوں گی اور لفظ ’نوجوان‘ کی تشریح پر عالمی جنگیں برپا ہوں گی۔ کون جانتا ہے کہ جی 20 کا نام بدل کر جی 200 رکھ دیا جائے گا کیونکہ ہر ترقی یافتہ ملک کا سربراہ 150 کی حد پار کر کے 200 تک جانے کا خواہشمند ہو گا۔

ہو سکتا ہے فرانس کے صدر میکرون 2085 میں بھی فرانس کے صدر ہوں اور اپنی بیوی سے ڈانٹ کھا کھا کر اتنے ڈھیٹ ہو چکے ہوں کہ ان کے سامنے ان کو چھیڑنے کے لیے اپنے کالج کے زمانے کے کورس کی کتابیں نکال کر حساب کے کلیے ان سے پوچھتے ہوں اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوں کہ وہ ایک اچھی استاد نہیں تھیں اور انہوں نے زندگی میں ان سے کچھ نہیں سیکھا۔

یہ بھی بعید نہیں کہ انگلستان میں، سو برس تک ایک برقی انقلاب آ چکا ہو اور یوں اصلی اور نسلی بادشاہوں کو محل سے چلتا کر دیا گیا ہو۔ وہاں کے گورے انگلستان سے کوچ کر کے افریقہ کے کسی جنگل میں پناہ ڈھونڈ رہے ہوں جہاں انہیں کوئی ایشیائی نظر نہ آئے اور دریائے ٹیمز کے کنارے لندن برج پر ہر طرف ہندوستانی اور بنگالی بھجن گاتے ہوئے اشنان کرتے نظر آئیں۔ ہو سکتا ہے اس وقت کمپیوٹر کے ماہرین اے آئی کی مدد سے گزشتہ سے پیوستہ کنگ جارج کا ہالوگرام بنا کر بکنگھم پیلس پر آویزاں کر دیں تاکہ شاہی محل سے جڑے وفادار لوگ آتے جاتے اسے دیکھتے رہیں۔ یعنی ایک سو پچاس سال کی عمر میں، عین ممکن ہے کنگ چارلس محل کے باہر بیٹھا حقہ پی رہا ہو اور اس کی بوڑھی ملکہ اس وقت جھاڑو والی جادوگرنی کا کام ڈھونڈتی پھر رہی ہو اور رنگ برنگے لوگ بکنگھم پیلس پر لہلہاتے کنگ جارج کے ہالوگرام کو کورنش بجا کر آداب کہہ رہے ہوں۔

آخر میں لمبی عمر کی ادویات اور طبی طریقے ڈھونڈنے والی کمپنیوں سے درخواست یہ ہے کہ ذرا جلدی کریں۔ پاکستان میں سیاسی رہنماؤں کے حالات اچھے نہیں ہیں۔ نہ ان سے چلا جا رہا ہے، نہ ان سے بولا جا رہا ہے، نہ وہ کھا سکتے ہیں اور نہ وہ اگل سکتے ہیں۔ صف اول کے کئی رہنما بس آج گئے یا کل۔ ان کی یادداشت بھی ان کا ساتھ چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ نہ ان کا ہاتھ باگ پر ہے اور نہ پا ہے رکاب میں بلکہ ہاتھ پیر سرے سے ہیں ہی نہیں۔ فارما کمپنیوں اور طبِ جدید کے علمبرداروں سے بس یہی گزارش ہے کہ ذرا جلدی کریں اور حیاتِ جاوداں کی یہ ایجادات فوری طور پر سب سے پہلے پاکستان کو مہیا کریں۔ خدا کرے کہ ان رہنماؤں کی عمر ہو ہزار برس، نعوذ باللہ، یہ رہنما کہیں آبِ حیات پئے بغیر رخصت نہ ہو جائیں۔ ہماری خواہش ہے کہ سن 2300 میں صدر زرداری بھی بھٹو کی طرح زندہ ہوں اور رجب طیب اردوان کا ہاتھ دبا کر محمد بن سلمان کا بوسے پہ بوسہ لے رہے ہوں۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW