بلاگ

سفارتی آداب کو لاحق خطرات

دنیا میں پہلے تو ویسے ہی جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون لاگو تھا لیکن دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں اور اس کے نتیجے میں عالمی امن کے سرخیل کے طور پر سامنے آنے والی اقوام متحدہ اور اس کے بطن سے امریکہ اور سوویت یونین کی قیات میں وجود میں آنے والی بائیو پولر دنیا کو نوے کی دہائی کے اوائل میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد کرہ ارض کو امریکہ کی یونی پولر قیادت میں امن و مان کے جس سنگین چیلنجز کا سامنا ہے اور اس کے نتیجے میں آج کی دنیا جس نہج پر جا رہی ہے، وہاں بین الاقوامی قوانین، سفارتی آداب اور ریاستی خودمختاری کی روایتی حدود روز بہ روز مدھم اور کمزور سے کمزور تر ہوتے جا رہے ہیں۔ حیران کن طور پر ریاستوں کی باہمی چپقلش اب محض میدانِ جنگ یا مذاکرات کی میز تک محدود نہیں رہی، بلکہ یہ جھگڑے اب ان افراد تک پہنچ چکے ہیں جو سفارتی میز پر بیٹھ کر ، روایتی طور پر ، امن کے قاصد سمجھے جاتے تھے۔

ایسا ہی ایک غیرمعمولی واقعہ گزشتہ دنوں منظر عام پر آیا، جب امریکہ نے پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کے خلاف نہ صرف وارنٹ گرفتاری جاری کیا بلکہ ان کی گرفتاری یا سزا دلوانے میں مدد دینے پر 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان بھی کیا۔ یہ اقدام دنیا بھر کی سفارتکاری اور عالمی قانون کے ماہرین کے لیے ایک چونکا دینے والا لمحہ ثابت ہوا ہے۔ امریکہ کا الزام ہے کہ سفیر امیری مقدم سابق ایف بی آئی ایجنٹ رابرٹ لیونسن کی گمشدگی اور ممکنہ موت میں ملوث رہے ہیں جو 2007 میں ایران کے جزیرہ کیش سے لاپتہ ہوئے تھے۔ حالانکہ ایران نے اس حوالے سے کسی ذمہ داری کو قبول نہیں کیا، مگر امریکی موقف ہے کہ لیونسن ایرانی تحویل میں تھا اور غالباً وہیں جاں بحق ہوا۔ بظاہر یہ ایک قانونی اقدام معلوم ہوتا ہے مگر اس کے گہرے سیاسی، سفارتی اور علاقائی مضمرات ہیں۔

امریکہ نے گزشتہ روز پاکستان میں ایران کے موجودہ سفیر رضا امیری مقدم کو ایک ایسے وقت میں انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے جب اسرائیل ایران جنگ اور ایران پر امریکی حملے کو چند دن ہی گزرے ہیں اور اسرائیل نہ صرف ایران پر دوبارہ حملوں کی دھمکی دے چکا ہے بلکہ اس کی جانب سے غزہ میں معصوم اور بے گناہ نہتے فلسطینیوں کے محاصرے اور قتل عام کے ساتھ ساتھ لبنان میں حزب اللہ کے ٹھکانوں اور شام کے دارالحکومت دمشق پر بھی بمباری کی گئی ہے۔ پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم پر امریکہ کی جانب سے یہ الزام ہے کہ انہوں نے دیگر دو ایرانی اہلکاروں کے ساتھ 2007 میں ایران سے ایک امریکی ریٹائرڈ خصوصی ایجنٹ رابرٹ لیونسن کو اغوا کیا تھا۔ اس وقت امریکی و زیرِ خزانہ سٹیون منوچن نے کہا تھا کہ مسٹر لیونسن کی گرفتاری ایرانی حکومت کی غیرمنصفانہ اقدامات کے لیے آمادگی کی سنگین مثال ہے۔ اسی طرح صدر ٹرمپ نے بھی اپنے پہلے دور حکومت میں ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ لیونسن کو امریکہ کے حوالے کر دیں۔ تاہم ایرانی حکومت لیونسن کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتی رہی ہے لیکن نیویارک ٹائمز کے مطابق اعلیٰ امریکی عہدے دار نجی طور پر کہتے رہے ہیں کہ لیونسن کو ایرانی امریکی جاسوس سمجھتے ہیں اس لیے اسے قید میں رکھا ہوا ہے۔ اس امریکی الزام کے جواب میں 2010 میں اس وقت کے ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا تھا کہ اگر یہ واضح کر دیا جائے کہ لیونسن کا مشن اور مقاصد کیا تھے یا یہ کہ آیا وہ واقعی کسی مشن پر تھے، تب ان کے بارے میں کوئی مخصوص مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔ لیونسن کے خاندان نے کہا تھا کہ انہوں نے ایرانی رہبرِ اعلیٰ علی خامہ ای کو لیونسن کی رہائی کی درخواست بھیجی ہے لیکن اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

امریکہ کی ہٹ دھرمی کو ایک طرف رکھتے ہوئے اگر ہم بین الاقوامی قوانین کے مطابق سفارتکاروں کو حاصل استثنا کو مدنظر رکھیں تو ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات 1961 میں صاف طور پر درج ہے کہ کسی سفیر کو میزبان ملک میں گرفتار یا زیرِ تفتیش نہیں لایا جا سکتا۔ جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ امیری مقدم کی مبینہ کارروائیاں اس وقت کی ہیں جب وہ سفارتی عہدے پر نہیں تھے، لہٰذا ان پر استثنا کا اطلاق نہیں ہوتا۔ امریکہ کا یہ یک طرفہ موقف نہ صرف ایک خطرناک نظیر قائم کرتا ہے بلکہ عالمی سفارتی نظام کے ڈھانچے کو بھی چیلنج کرتا ہے۔

درحقیقت یہ پہلا موقع نہیں جب کسی سفارتکار کو بین الاقوامی سطح پر نشانہ بنایا گیا ہو۔ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں افغان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو اس وقت کے پاکستانی حکمرانوں نے تمام تر بین الاقوامی اور اخلاقی قوانین کو پامال کرتے ہوئے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کر دیا تھا، جہاں وہ برسوں گوانتانامو بے کے بدنام زمانہ عقوبت خانے میں قید رہے۔ اس عمل پرنہ صرف دنیا بھر میں قانونی اور اخلاقی تنقید ہوئی بلکہ رہائی کے بعد ملا عبد السلام ضعیف نے اپنی ایک تصنیف میں اس گرفتاری کا ذکر جس انداز میں کیا پاک افغان تعلقات میں وہ زخم اب تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح 2003 میں آسٹریا میں ارجنٹینا کے ایک سفارتکار کو انسانی اسمگلنگ کے الزام میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب ارجنٹینا نے اس کا سفارتی استثنا واپس لے لیا تھا۔ لیبیا کے سفارتخانے میں برطانوی پولیس اہلکار کے قتل کے بعد برطانیہ نے لیبیا کے تمام عملے کو ملک بدر کر دیا تھا۔ مگر موجودہ معاملہ ان سب سے منفرد ہے، یہاں نہ تو استثنا واپس لیا گیا ہے، نہ ہی امیری مقدم نے تیسری ریاست میں قدم رکھا ہے۔ پھر بھی ان کے خلاف وارنٹ اور انعامی رقم کا اعلان سفارتی حدوں کو پار کرنے کا اشارہ دے رہا ہے۔

اس تمام معاملے میں پاکستان ایک سفارتی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک جانب وہ ایران کے ساتھ مذہبی، جغرافیائی، معاشی اور ہمسائیگی کے مضبوط روابط رکھتا ہے، اور دوسری طرف امریکہ کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک تعلقات اور ماضی کی وابستگیاں کسی حد تک مجبور کرتی ہیں۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایران کے سفیر کو امریکی دباؤ کے تحت محدود کرے گا؟ یا کیا وہ ویانا کنونشن کے تحت ان کا مکمل تحفظ کیا جائے گا؟ یہ سوالات نہ صرف پاکستان کی داخلی پالیسی کو آزمائیں گے بلکہ اس کے خارجی تشخص کو بھی نمایاں کریں گے۔ تادم تحریر یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان نے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کے بارے میں واضح کیا ہے کہ وہ ایک قابل احترام شخصیت ہیں اور ان کا نام امریکی ایجنسی ایف بی آئی کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں ہونے کے باوجود انہیں پاکستان میں وہ تمام سفارتی آداب اور استثنا حاصل ہے جو ایک دوست اور پڑوسی ملک کے سفارتکار کو حاصل ہوتا ہے۔

دراصل یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ سفارتکاری اب محض تہذیب، گفت و شنید اور ریاستی وقار کا عمل نہیں رہا۔ اب یہ ایک ایسا میدان بن چکا ہے جہاں قانون، طاقت اور سیاسی مفاد تینوں مل کر فیصلے کرتے ہیں۔ اگر اس رجحان کو معمول بنا لیا گیا تو آنے والے دنوں میں سفارتکاروں کی غیر جانبداری اور تحفظ محض کتابی اصول بن کر رہ جائیں گے۔ یہاں یہ بات بجا ہے کہ رابرٹ لیونسن کا کیس ایک انسانی المیہ ہے مگر اس کے نام پر سفارتکاری کے بنیادی اصولوں کو روند دینا عالمی ضمیر اور بین الاقوامی امن کے لیے ایک گہرا خطرہ ہے، یہ ایک ایسا خطرہ ہے جو آج تو بظاہر خاموش ہے مگر کل کو یہ طرز عمل پوری مہذب دنیا کے لیے ایک بدترین مثال بن سکتا ہے۔

Loading

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW