میں، مذ، گوالمنڈی اور وجاہت مسعود
چھوٹی بہن نے جب آج کا چھوڑا گیا نیا ”شوشہ“ پڑھا تو سر پیٹ کر والدہ کو بتایا:
”لو جی! پہلے گوالمنڈی آئی، اور اب یہ مذ (مصنوعی ذہانت) نام کی بلا کہاں سے نازل ہو گئی۔“
بیچاری! بہن ہے نا، معصوم ہے، نہیں جانتی کہ پیچھے پیچھے جناب وجاہت مسعود بھی آ رہے ہیں۔
اور اب یہ وجاہت مسعود کہاں سے آ گئے؟
اس سوال کا سادہ، سلیس اور بلیغ جواب ہے کہ میرا ذوق رسا مجھے ان تک لے گیا۔ ایک منگل کو جب روزنامہ جنگ میں چچا کا ”آئنہ“ دیکھنے گیا، تو آئنے کے سامنے حضرت کو کھڑے پایا۔ ان کا اس دن کا کالم پڑھا اور پھر جنگ آرکائیوز میں اسٹول جما کر بیٹھ گیا۔
والد مرحوم کی تعزیت پر اسلام آباد سے ایف بی آر میں ملازم ایک صاحب آئے، جنہوں نے اپنے وسیع مطالعہ اور موجودہ دور کے شاعروں، ادیبوں اور صحافی برادری میں اپنی رسائی کے احوال سنا کر ششدر کر دیا۔ ویسے وہ جس حساس عہدے پر فائز ہیں، وہاں تک پہنچتے پہنچتے کئی کمزور احباب کی رسائی کا رس آدھے راستے میں ہی رس جاتا ہو گا۔ میں نے ان صاحب کے ذوقِ مطالعہ کو مد نظر رکھتے ہوئے مشورہ دیا کہ وجاہت مسعود صاحب کو پڑھا کریں۔ چونکہ مشورہ مفت کا تھا اس لیے اثر دکھا گیا۔ حضرت کا ذکر خیر شروع ہوا جب باتوں باتوں میں وجاہت مسعود صاحب کے (میرے والد کے بارے میں کہے گئے ) توصیفی کلمات کا تذکرہ کر کے میرے دل میں اپنی عزت اور بڑھا لی۔
پھر ہوا یوں کہ جب ”یو ٹیوب“ کو بھنک پڑی تو اس نے مجھے ان کی جمعہ وار کو منعقد ہونے والی ہفتہ وار بیٹھک میں سلیمانی ٹوپی پہنا کر بٹھا دیا۔ اور پھر! کوئی مائی کا لعل مجھ سے وہ سلیمانی ٹوپی واپس نہ لے سکا۔
اب بیٹھک میں نجانے کس ضمن میں تعلیمی اداروں کا ذکر آیا تو یک دم وجاہت مسعود صاحب گرج اٹھے اور میں لرز اٹھا۔ یہ لرزنا ان کی گرج پر نہیں، بلکہ اس حقارت کی تپش محسوس کر کے طاری ہوا جو حضرت کے ادا کردہ ان دو لفظوں ”تعلیم فروش“ میں تھی۔ لرزا اس لیے کہ میں بھی بہت عرصے سے ایک، بلکہ تین تعلیمی پراجیکٹس پر کام کر رہا ہوں، تاخیر کی وجہ کاہلی اور حکمت عملی کا تبدیل ہونا ہے۔ تیسرا اب یہ تعلیم فروش کا طعنہ اور وہ خوف کہ کل مجھے بھی یہ سننا پڑے گا۔
گوالمنڈی ہے نا، مجھ سے عشق جو کرتی ہے ؛ پاس بٹھا کر تشفی کی کہ وجاہت مسعود صاحب نہ صرف باخبر صحافی ہیں بلکہ اپنے ”ادب کا اوج“ ہونے کا بھی ادراک بخوبی رکھتے ہوں گے ۔ یہ بھی حوصلہ دیا کہ مناسب وقت آنے پر انہیں بتا دینا کہ ان کا طعنہ میرا استعارہ ہے جس میں زمین کی دلالی کرتی اور تھڑے پر بیٹھی دکاندارانہ سوچ بھی شامل ہے۔ گوالمنڈی جانتی ہے کہ تمام عمر اپنے بارے ایک ہی طعنہ سن سن کر کان پک گئے کہ میں ”اسراف“ بہت کرتا ہوں۔ غلط کہتے ہیں، میرا اسراف کے بارے میں فلسفہ اس کے ڈیبٹ سے شروع ہو کر اسی کے کریڈٹ پر ختم ہوتا ہے۔ اگر ”فضول“ خرچ کرنا اسراف ہے تو فضول ”کمانا“ بھی اسراف ہوا! سو، زندگی میں جتنا کمانا تھا کما لیا، تعلیمی پراجیکٹ سے جو کماؤں گا وہ تعلیم سے ہی وابستہ تحقیقی کاموں پر لگاؤں گا۔ بہت کام ہیں ہونے والے۔ حد ہے! ظالموں نے تعلیم بیچ بیچ کر منافع ڈیری فارمز پر لگا دیا۔ بس یہی اوقات تھی!
آج کا کالم ”ایڈیٹر بھیا“ کی ڈاک زیادہ محسوس ہو رہا ہے۔


بہت خوب! طنز و مزاح کے پردے میں مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنے کا آپ کا انداز نہایت عمدہ ہے۔ تحریر میں شگفتگی بھی ہے، گہرائی بھی اور سوچنے کے کئی زاویے بھی۔ ایسی بامعنی اور دلچسپ کاوش پر دلی مبارکباد! 👏