بلاگگوشہ ادب

ادب کا پہلا نوبل انعام: سُلی پرودوم، جسے سب سے پہلے تاج پہنایا گیا اور سب سے پہلے بھلا دیا گیا

Usman Akhter

ہر فہرست کا ایک آغاز ہوتا ہے، اور آغاز ہونے کی اپنی ایک تنہائی ہوتی ہے۔ جو شخص کسی سلسلے کا پہلا نام بنتا ہے، وہ اُن سب کے بوجھ تلے دب جاتا ہے جو بعد میں آنے والے ہیں، اور اکثر وہی پہلا نام دھندلا جاتا ہے، کیونکہ یاد رکھنے والوں کی نظریں ہمیشہ آخر کی چمک پر جمی رہتی ہیں۔ یہی معاملہ اُس آدمی کے ساتھ ہوا جس کا اصل نام رینے فرانسوا آرمان پرودوم تھا، اور جسے دنیا نے، اپنے باپ کے نام کے ساتھ، سُلی پرودوم کہہ کر پکارا۔ سولہ مارچ 1839 ء کو پیرس میں پیدا ہونے والا یہ شخص ادب کے نوبل انعام کا پہلا وصول کنندہ تھا، اور اِس اعزاز کے باوجود، شاید اِسی اعزاز کے سبب، وہ آج ایک ایسے سوال کا جواب بن کر رہ گیا ہے جو امتحانی کاغذوں میں پوچھا جاتا ہے، نہ کہ ایک ایسے شاعر کے طور پر جسے پڑھا جاتا ہے۔

اُس کے والدین دس برس تک منگنی کے بندھن میں رہے، کیونکہ شادی کے لیے مالی استحکام درکار تھا، اور جب وہ استحکام ہاتھ آیا تو دونوں نے گھر بسایا۔ مگر یہ گھر زیادہ دیر آباد نہ رہ سکا۔ باپ ایک دکاندار تھا، اور جب پرودوم محض دو برس کا تھا تو موت نے اُسے چھین لیا۔ ماں بیٹے کو لے کر اپنے بھائی کے گھر منتقل ہو گئی، اور وہاں پرودوم نے اپنا بچپن گزارا، ایک ایسے باپ کی یاد میں جسے وہ کبھی جان نہ سکا۔ یہ عجیب بات نہیں کہ اُس نے بعد میں اپنے باپ کے نام ”سُلی“ کو اپنے خاندانی نام ”پرودوم“ کے ساتھ جوڑ لیا، گویا ایک غیر حاضر باپ کو اپنی شناخت کے اندر ہی زندہ رکھنے کی کوشش کی۔ جو انسان اپنے وجود کی ابتدا ہی میں ایک خلا کا سامنا کرتا ہے، وہ اکثر ساری عمر اُس خلا کو کسی نہ کسی صورت بھرنے میں گزار دیتا ہے، خواہ وہ خلا نظر آئے یا نہ آئے۔

تعلیم کے دوران وہ ریاضی اور کلاسیکی ادب میں یکساں دلچسپی رکھتا تھا، اور کچھ عرصہ اُس نے ایک دینی زندگی، یعنی راہبانہ تنظیم میں شمولیت پر بھی سنجیدگی سے غور کیا، مگر اِس ارادے کو ترک کر دیا۔ لیسیے بوناپارت سے تعلیم مکمل کرتے ہوئے سنہ 1857 ء میں اُس نے سائنس میں سند حاصل کی، اور اُس کا ارادہ ایکول پولی ٹیکنیک میں داخلہ لے کر انجینئر بننے کا تھا۔ یہیں پر زندگی نے اپنی پہلی سفاک چال چلی۔ آنکھوں کی شدید سوزش نے، جو اُس دور میں لاعلاج کے قریب تھی، اُس کی بینائی کو اِس حد تک متاثر کیا کہ سائنسی تعلیم اور انجینئری کا خواب ادھورا رہ گیا۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیسا انجینئر ثابت ہوتا، مگر یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایک ایسا ذہن جو تمام عمر سائنس اور فلسفے کے سنگم پر شعر لکھتا رہا، اُس کی ابتدا ہی اُس کے جسم کی ایک نا انصافی سے ہوئی۔ یہاں انسان کی خواہش اور اُس کے جسم کے درمیان جو خلیج کھلتی ہے، وہی خلیج پرودوم کی ساری زندگی میں، مختلف صورتوں میں، بار بار نمودار ہوتی رہی۔

انجینئری کا راستہ بند ہونے کے بعد اُس نے کچھ عرصہ لوکروزو کے علاقے میں شنائیڈر کے فولاد ساز کارخانے میں بطور منشی کام کیا، ایک ایسا ماحول جو اُس کی طبیعت سے کوسوں دور تھا۔ اٹھارہ ماہ کی یہ ملازمت اُس کے لیے ایک ایسی صنعتی دنیا کا تجربہ تھی جس میں انسان کا ذہن مشین کی تال سے ہم آہنگ ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے، اور جس سے وہ بالآخر پیرس واپس بھاگ آیا۔ وہاں اُس نے قانون کی تعلیم شروع کی، ایک نوٹری کے دفتر میں کام کیا، اور اِسی دوران ”کونفرانس لابروئیر“ نامی طالب علموں کی ایک ادبی انجمن میں شمولیت اختیار کی۔ یہیں، اپنے ساتھیوں کی حوصلہ افزائی سے، اُس نے پہلی بار محسوس کیا کہ شاعری محض ایک تفریح نہیں بلکہ اُس کا راستہ ہے۔

اِسی دوران زندگی نے اُسے ایک اور زخم دیا، جسے وہ کبھی مکمل طور پر بھر نہ سکا۔ ایک محبت جو ناکام ہوئی، ایک وعدہ جو ٹوٹ گیا، اور یہی ادھورا پن اُس کی پہلی شعری تصنیف ”قطعات و نظمیں“ کی بنیاد بنی، جو 1865 ء میں شائع ہوئی اور جسے ناقد سانت بوو نے سراہا۔ اِسی مجموعے میں وہ نظم شامل تھی جو آگے چل کر اُس کی سب سے مشہور تخلیق ثابت ہوئی، ”ٹوٹا ہوا گلدان“ ، ایک ایسی نظم جس میں ایک بظاہر سالم برتن کی اندرونی، پوشیدہ دراڑ کو انسانی دل کی اُس خاموش شکستگی سے تشبیہ دی گئی ہے جو بیرونی طور پر نظر نہیں آتی مگر آہستہ آہستہ انسان کو خالی کر دیتی ہے۔ یہ نظم محض ایک نوجوان کے دلی صدمے کا اظہار نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے شاعر کی پہلی گواہی تھی جو ساری عمر ظاہری سالمیت اور باطنی ٹوٹ پھوٹ کے فرق پر غور کرتا رہا۔ وہ کبھی شادی کے بندھن میں نہ بندھا، اور تاعمر تنہا رہا، گویا اُس نے اپنی نظم کے گلدان کی طرح خود کو بھی ایک ایسی چیز میں بدل لیا جسے سنبھال کر رکھا جائے، مگر جس میں دوبارہ پانی نہ بھرا جائے۔

اُس دور کے فرانسیسی ادب میں ایک نئی تحریک سر اٹھا رہی تھی، جسے پارناسی تحریک کہا جاتا ہے، جو رومانیت کی جذباتی زیادتیوں کے ردِعمل میں، شکل کی نفاست، توازن اور جمالیاتی نظم و ضبط کی داعی تھی۔ پرودوم اِس تحریک سے وابستہ ہوا، مگر محض ایک پیروکار کی حیثیت سے نہیں۔ اُس نے اعلان کیا کہ وہ اپنے دور کے لیے ایک ”سائنسی شاعری“ تخلیق کرنا چاہتا ہے، ایسی شاعری جو جذبے کے ساتھ ساتھ عقل اور علم کے سخت ترین معیار پر بھی پورا اترے۔ یہ ایک بلند خواب تھا، اور بعد کے برسوں نے دکھایا کہ ایسے خواب کو مکمل طور پر پانا کتنا دشوار ہے۔

جب 1870 ء میں فرانسیسی پروشیائی جنگ چھڑی، تو پرودوم رضاکارانہ فوج، یعنی گارد موبیل، میں شامل ہو کر پیرس کے دفاع میں کھڑا ہوا۔ یہی وہ برس تھا جس نے اُس کے جسم اور روح دونوں کو ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا۔ محاصرے کی سختیوں کے دوران اُسے فالج کا ایک حملہ ہوا جس نے اُس کے جسم کے نچلے حصے کو جزوی طور پر مفلوج کر دیا، ایک ایسی معذوری جو باقی زندگی اُس کے ساتھ رہی۔ اِسی ایک برس میں اُس کی ماں، اُس کا چچا اور اُس کی خالہ بھی وفات پا گئے، گویا جنگ نے صرف ایک قوم کو شکست نہیں دی بلکہ ایک فرد کے خاندان کو بھی نیست کر ڈالا۔ اُس تجربے کو اُس نے ”جنگ کے تاثرات“ میں قلم بند کیا، اور بعد میں ”فرانس“ کے عنوان سے ایک نظم میں اپنے ملک کے مستقبل پر غور کیا۔ یہاں سے اُس کی شاعری نے ایک نیا رخ اختیار کیا، انفرادی درد سے ہٹ کر قوم اور کائنات کے وسیع تر سوالات کی طرف۔

اپریل 1875 ء میں ایک واقعہ پیش آیا جس نے اُس کے فلسفیانہ رجحان کو ایک عجیب، شاعرانہ صورت دی۔ ”زینیت“ نامی ایک غبارہ سائنسی مشاہدات کے لیے تین افراد کو لے کر آٹھ ہزار چھ سو میٹر کی بلندی تک پہنچا، مگر آکسیجن کی کمی نے اُن میں سے دو کی جان لے لی، اور صرف ایک زندہ بچا۔ پرودوم نے اِس سانحے کو ”زینیت“ کے عنوان سے ایک طویل نظم میں سمویا، جس کا آغاز اِس تصور سے ہوتا ہے کہ قدیم دیوتاؤں کے مندر اب ویران ہو چکے، اور انسان نے اُن ستاروں کو، جنہیں کبھی خداؤں کے نام دیے گئے تھے، اب اپنی عقل اور آلات سے تولنا اور دریافت کرنا شروع کر دیا ہے۔ اِس نظم میں پرودوم اُن دو مرنے والوں کو تقریباً مقدس شہیدوں کا درجہ دیتا ہے، ایسے انسان جو علم کی خاطر آسمان کی طرف بڑھے اور واپس نہ لوٹے۔ یہاں سائنس ایک نیا ایمان بن جاتی ہے، اور موت اُس ایمان کی قربان گاہ۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں پرودوم کا ذہن سب سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے : ایک ایسا انسان جو پرانے دیوتاؤں کے زوال کو دیکھ چکا تھا، مگر خالی جگہ کو مکمل طور پر برداشت نہیں کر پا رہا تھا، اور اُس خلا کو سائنس کی تقدیس سے بھرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

یہی جدوجہد اُس کی دو سب سے بڑی تصانیف، ”عدل“ اور ”مسرت“ میں، اپنی مکمل صورت میں سامنے آئی۔ رومی شاعر لوکریٹیئس کے فلسفیانہ رزمیے ”دے ریرم ناتورا“ کے پہلے حصے کا منظوم ترجمہ کرنے کے بعد ، پرودوم نے خود بھی اُسی سانچے میں فلسفیانہ نظمیں لکھنے کی کوشش کی۔ ”مسرت“ ، جو تقریباً چار ہزار مصرعوں پر مشتمل ہے، محبت اور علم کی جستجو میں ایک تقریباً ”فاؤسٹ“ جیسے کردار کی داستان ہے۔ یہاں ایک مدلل تنقید ناگزیر ہے : ناقدین نے، اُس کے اپنے دور سے لے کر آج تک، اِن طویل فلسفیانہ نظموں کے بارے میں یہ رائے دی ہے کہ اُن میں الفاظ کی جو انتہائی کفایت شعاری اپنائی گئی ہے، وہ نظم کی شاعرانہ قوت کو کمزور کر دیتی ہے، جبکہ فلسفے کے میدان میں بھی وہ سختی اور گہرائی حاصل نہیں کر پاتی جس کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ گویا پرودوم دو کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش کرتا رہا، ایک شاعری کی اور ایک فلسفے کی، اور اِس کوشش میں نہ مکمل طور پر شاعر رہا نہ مکمل طور پر فلسفی بن سکا۔ یہ ایک ایسی خامی ہے جسے نظرانداز کرنا اُس کے ادبی سفر کی ایمانداری کے ساتھ نا انصافی ہو گی۔

پھر 1881 ء میں اُسے اکادمی فرانسیز کی رکنیت سے نوازا گیا، ایک ایسا اعزاز جو اُس کے سماجی و ادبی مقام کو حتمی طور پر مستحکم کر گیا۔ مگر جو اعزاز اُس کی شہرت کو ہمیشہ کے لیے وقت کی سطح پر جما دینے والا تھا، وہ بیس برس بعد آیا۔ چودہ نومبر 1901 ء کو یہ اعلان ہوا، اور دس دسمبر 1901 ء کو منعقدہ تقریب میں یہ باضابطہ طور پر طے پایا کہ ادب کا پہلا نوبل انعام سُلی پرودوم کو دیا جائے گا، اِس الفاظ کے ساتھ کہ اُس کی شاعرانہ تخلیق بلند خیالی، فنی کمال، اور دل و دماغ کے ایک نادر امتزاج کی گواہ ہے۔ سترہ ارکانِ اکادمی فرانسیز نے، جن میں وہ خود بھی شامل تھا، اُس کا نام تجویز کیا تھا۔ اُس برس کمیٹی کو چھبیس مصنفین کے لیے سینتیس نامزدگیاں موصول ہوئیں، جن میں فریدرک میسترال اور ہینرک شینکیوچ کے نام بھی شامل تھے، دونوں کو بعد کے برسوں میں یہی اعزاز ملا۔

مگر جس نام کی غیرحاضری نے سب سے زیادہ ہلچل مچائی، وہ لیو تالستائے کا نام تھا، جو اُس برس کی باضابطہ فہرست میں سرے سے شامل ہی نہیں تھا۔ کمیٹی کے سربراہ کارل ڈیوڈ آف ویرسین، جو ایک قدامت پسند ذہن رکھتے تھے، ایمیل زولا کی نامزدگی کو اُس کے فطرت پرست اسلوب کی وجہ سے یکسر مسترد کر چکے تھے، اور آخرکار اکادمی فرانسیز کی سفارش کو فیصلہ کن مانتے ہوئے پرودوم کے حق میں فیصلہ دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ سویڈن کے بیالیس ادیبوں، فنکاروں اور نقادوں نے مل کر لیو تالستائے کے نام ایک کھلا خط لکھا، جس میں اُنہوں نے اعتراف کیا کہ اُن کی نظر میں تالستائے ہی اپنے دور کے سب سے بلند مرتبہ اور گہرے شاعر تھے، اور یہ کہ نوبل کمیٹی کا فیصلہ نہ تو فنکاروں کی رائے کی نمائندگی کرتا ہے نہ عوامی خیال کی۔ اُس زمانے کے ایک اخبار نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ نہ تالستائے، نہ ابسن، نہ بیورنسن، نہ مومسن، نہ سوِنبرن، نہ زولا، نہ اناطول فرانس، نہ کاردوچی، نہ میسترال، نہ ہاؤپٹمان، اور نہ ہی ایکیگارای، بلکہ سُلی پرودوم منتخب کیا گیا۔

یہاں ایک مدلل تنقید کیے بغیر یہ باب مکمل نہیں ہو سکتا۔ یہ محض ایک انفرادی فیصلے کی کہانی نہیں، بلکہ ایک نوزائیدہ ادارے کی نفسیات کی کہانی ہے۔ نوبل کمیٹی نے اپنی پہلی ہی رائے میں یہ ثابت کر دیا کہ وہ متنازع، بغاوت آمیز اور مذہبی و سیاسی طور پر بے چین کر دینے والی عظمت کے بجائے، محفوظ، بلند اخلاق اور غیر متنازع ”آدرش پرستی“ کو ترجیح دے گی۔ تالستائے، جو اپنے مذہبی خیالات اور ریاستی اداروں پر کھلی تنقید کے سبب کلیسا سے تنازع میں گھرا ہوا تھا، اُس کمیٹی کے لیے ایک خطرہ تھا، جبکہ پرودوم ایک ایسا نام تھا جو کسی کو بھی ناراض نہیں کرتا تھا۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے نوبل انعام کی پوری تاریخ پر ایک سایہ پڑ گیا، ایک ایسا سوال جو ایک صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی، ہر سال اکتوبر کے مہینے میں، نئے نام کے اعلان کے ساتھ دہرایا جاتا ہے : کیا یہ ادارہ واقعی سب سے بڑی تخلیقی جرات کو انعام دیتا ہے، یا وہ محض سب سے محفوظ انتخاب کو؟

خود فرانس کے اندر بھی رائے منقسم تھی۔ پارناسی رجحان رکھنے والا جریدہ ”روو دے پوئٹ“ اِس فیصلے پر پھولا نہ سمایا، جبکہ اُن جرائد نے، جو ورلین اور مالارمے کی وراثت کے علامتی رجحان سے وابستہ تھے، جیسے ”مرکیور دو فرانس“ ، اِس انتخاب کا کھلا مذاق اڑایا۔ یوں پرودوم، اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی کے لمحے میں بھی، ایک ایسی جمالیاتی تحریک کی علامت بن گیا جو تیزی سے پرانی پڑتی جا رہی تھی، جبکہ نیا دور، تخیل کی آزادی اور موسیقیت کی گہرائی کا خواہاں تھا، ایسی چیزیں جو اُس کے سخت، بے لچک ڈھانچے میں کم ہی جگہ پاتی تھیں۔

اِس اعزاز نے جو مالی فائدہ دیا، پرودوم نے اُسے اپنی ذات پر خرچ کرنے کے بجائے دوسروں کے لیے وقف کر دیا۔ اُس نے اِس رقم کا بڑا حصہ انجمن اہلِ قلم فرانس کے زیرِ انتظام ایک شعری انعام کے قیام کے لیے دے دیا، اور 1902 ء میں دو دیگر شاعروں کے ساتھ مل کر انجمن شعرائے فرانس کی بنیاد رکھی۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جس میں کچھ خاموش معنویت پوشیدہ ہے : ایک شخص جس نے خود ادارتی پہچان کے متعلق سوالات کا سامنا کیا تھا، اُس نے یہی پہچان آنے والی نسلوں کے نوجوان شاعروں کی طرف موڑ دی، گویا اُس نے اپنے فیصلے سے یہ کہنا چاہا کہ اصل قدر کسی تمغے میں نہیں بلکہ اُس مسلسل، تازہ تخلیق میں ہے جو ہر نسل کو نئے سرے سے کرنی پڑتی ہے۔

آخری برسوں میں اُس کی صحت، جو 1870 ء سے ہی متاثر تھی، مزید بگڑتی گئی۔ وہ شاتنے مالابغی کے اپنے مکان میں تقریباً ایک تارک الدنیا کی مانند مقیم ہو گیا، جسمانی طور پر فالج کے مسلسل حملوں کا شکار، مگر ذہنی طور پر پوری طرح متحرک۔ اِسی گوشہ نشینی میں اُس نے ”شاعرانہ وصیت نامہ“ تحریر کی، جس میں اُس نے آزاد نظم اور علامتی تحریک، دونوں کے خلاف اپنے تحفظات درج کیے۔ اُس نے ”پاسکال کے مطابق سچا مذہب“ کے عنوان سے ایک تصنیف لکھی، جس میں بلیز پاسکال کے مسیحی افکار کا جائزہ لیا، اور اپنی آخری بڑی تصنیف، ”آزادیٔ ارادہ کی نفسیات“ میں، اِس نتیجے پر پہنچا کہ کائنات کی رفتار سراسر پیشگی طے شدہ نہیں۔ یہاں نفسیاتی سطح پر ایک نہایت گہری بات پوشیدہ ہے : ایک ایسا انسان جس کے باپ کو موت نے دو برس کی عمر میں چھین لیا تھا، جس کی محبت ناکام ہوئی، جس کی آنکھیں اُس کے سائنسی خواب کے آڑے آئیں، جس کے جسم کو ایک جنگ نے مفلوج کر دیا، اور جس نے ایک ہی برس میں اپنی ماں، چچا اور خالہ کو دفن ہوتے دیکھا، وہی انسان اپنی زندگی کے آخری برسوں میں بار بار اِس سوال کی طرف لوٹتا رہا کہ آیا انسان واقعی آزاد ہے یا محض کسی اندھی مشین کا ایک پرزہ۔ یہ سوال کسی خشک فلسفیانہ تفنن کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے وجود کی چیخ تھی جس نے اپنی پوری زندگی میں بار بار اپنی مرضی کے خلاف چیزیں گھٹتے دیکھی تھیں، اور جو اپنی موت سے پہلے، یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ اُس کا اپنا ارادہ، اُس کا اپنا انتخاب، بہرحال کچھ نہ کچھ معنی رکھتا ہے۔

سات ستمبر 1907 ء کو، شاتنے کے اُسی مکان میں جہاں اُس نے اپنی زندگی کے آخری پندرہ برس گزارے تھے، سُلی پرودوم کا انتقال ہوا، اور اُسے پیرس کے پیغ لاشیز نامی قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اُس کے مرنے کے بعد ”لے زیپاوو“ کے عنوان سے اُس کی متفرق نظموں کا ایک مجموعہ شائع ہوا، اور اُس کا ذاتی روزنامچہ 1922 ء میں منظرِعام پر آیا۔

اب، ایک صدی سے زیادہ کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ، اُس کی حیثیت پر ایک آخری، مدلل نظر ڈالنا ضروری ہے۔ سُلی پرودوم اپنی زندگی میں ہر بڑا ادارتی اعزاز حاصل کر چکا تھا: اکادمی فرانسیز کی رکنیت، لیجیوں دونر کا اعلیٰ درجہ، اور بالآخر ادب کا پہلا نوبل انعام۔ مگر آج، بیسویں اور اکیسویں صدی کے قارئین کے لیے، وہ تقریباً گمنام ہے۔ اُس کی نظمیں شاذ ہی پڑھی جاتی ہیں، اُس کا نام زیادہ تر ایک معلوماتی سوال کے جواب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے، نہ کہ اُس شاعرانہ تجربے کے طور پر جو اُس نے تخلیق کیا۔ یہ فرق، ادارتی پہچان اور پائیدار ادبی حیثیت کے درمیان کا یہی خلا، پرودوم کے معاملے کو محض ایک انفرادی سوانح سے بڑھ کر ایک عبرت انگیز مثال بنا دیتا ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کوئی بھی ادارہ، خواہ کتنا ہی معتبر کیوں نہ ہو، اپنے فیصلے کے وقت مستقبل کی رائے کی ضمانت نہیں دے سکتا، اور یہ کہ کسی تخلیق کار کی حقیقی قدر کا فیصلہ اُس کے اپنے عہد کی تالیاں نہیں، بلکہ وہ خاموش، غیریقینی امتحان کرتا ہے جسے وقت کہا جاتا ہے۔

اور شاید یہیں پر اُس کی زندگی کا سب سے گہرا سبق پوشیدہ ہے۔ ایک ایسا انسان جس نے اپنی ہر محرومی کا جواب مسلسل کام سے دیا، جس نے ٹوٹے ہوئے دل کو نظم میں ڈھالا، مفلوج جسم کو فلسفیانہ استقامت میں بدلا، اور بے یقینی کے احساس کو آزادیٔ ارادہ پر ایک آخری کتاب میں سمو دیا، آج محض ایک تاریخ اور ایک عنوان کے طور پر یاد کیا جاتا ہے : ادب کا پہلا نوبل انعام یافتہ۔ اِس میں ایک گہری بے اعتنائی پوشیدہ ہے، وہی بے اعتنائی جو ہر انسانی کوشش کے آخر میں کائنات کی جانب سے سامنے آتی ہے، اور جسے کوئی اعزاز، کوئی سند، کوئی تمغہ ٹال نہیں سکتا۔ مگر شاید اِسی بے اعتنائی کے سامنے ڈٹے رہنا، لکھتے رہنا، بغیر یہ جانے کہ کل کون پڑھے گا یا کون بھلا دے گا، وہی ایک واحد جواب ہے جو انسان کے پاس، شروع سے آخر تک، ہمیشہ باقی رہتا ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment
عارف احمد
عارف احمد
3 days ago

اس نے اپنی نظم کے گلدان کی طرح خود کو بھی ایک ایسی چیز میں بدل لیا جسے سنبھال کر رکھا جائے، مگر جس میں دوبارہ پانی نہ بھرا جائے۔
۔
شکریہ

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW