شاکر شجاع آبادی۔ سرائیکی وسیب کی آواز
سرائیکی شاعری اپنی مٹھاس اور تاثیر میں مشہور ہے۔ بہت سے شعراء کرام سرائیکی وسیب میں اپنی شاعری اور لہجے کی وجہ سے مقبول ہوئے۔ خواجہ غلام فرید کے بعد جو مقبولیت اور بے انتہا شہرت شاکر شجاع آبادی کے حصے میں آئی ان کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وسیب کے بچوں سے لے کر بوڑھوں تک ہر ایک کی زبان پر ان کا کلام زد عام ہے۔
شاکر شجاع آبادی ملتان کی تحصیل شجاع آباد کے علاقے راجہ رام چاہ ٹبے والا میں 1955 میں مولوی اللہ یار کے گھر پیدا ہوئے آپ کا نام محمد عارف رکھا گیا جو آپ کے لیے موافق نہیں تھا اور بیمار رہتے تھے پھر آپ کا نام تبدیل کر کے محمد شفیع رکھا گیا۔ ایک انٹرویو میں اینکر کے سوال پر کہ آپ کا نام تو محمد شفیع ہے شاکر شجاع آبادی نام کو کب اختیار کیا تو آپ نے کہا:
یہ بھی حالات کی وجہ سے ہی ہے یعنی اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا ہر حال میں شاکر رہنے والا میں نے کوشش کی کہ ہر حال میں شاکر رہوں
شاکر شجاع آبادی جب سات دن کے تھے تو ہوا لگنے سے بیمار ہو گئے اور آپ کا دھڑ کام کرنا چھوڑ گیا۔ اپ کی بیماری کا نام Primary Dystonia ہے جس میں انسان کا کبھی کبھی دھڑ کام کرنا چھوڑ جاتا ہے۔ بیماری اور حالات کی وجہ سے تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ آپ نے اپنی بیماری کو الگ رکھا اور ذہنی صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے اپنا مقام بنایا اور اینکر کے سوال پر آپ کہتے ہیں کہ:
الحمدللہ سانسیں چل رہی ہیں۔ اللہ تعالی جس حال میں رکھے ہم شاکر ہیں۔ اگر شاکر شکر گزار نہ ہو تو یہ منافقت ہے۔
یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ آپ پرائمری پاس شاعر ہیں آپ کی غزلوں دوڑوں اور قطعوں کا اسلوب ایک پڑھے لکھے اور صاحب اسلوب کی نشانی دیتا ہے اور آپ نے اپنی معذوری کو طاقت بنایا اور شاعری شروع کی اور اپنی شاعری میں معاشرے کے حالات و واقعات کو بیان کیا۔ آپ کو بچپن سے شاعری کا شغف تھا مگر تعلیم حاصل نہ کرنے کی وجہ سے آپ نے جوانی محنت مزدوری اور بیماری میں گزاری۔ آپ نے محلے میں پرچون اور سبزی کی دکان بھی کھولی اور بعد ازاں کراچی سے لنڈا لے کر آتے اور یہاں بیچتے تھے اور کچھ عرصے آپ بہاولپور سبز منڈی میں بھی رہے اور وہاں پر فروٹ وغیرہ کا کام کرتے رہے مگر حالات اور واقعات نے آپ کو لوگوں کا مقروض کر دیا پھر آپ کراچی چلے گئے وہاں سیکیورٹی گارڈ کی نوکری کی واپس آ کر قرض اتارا آپ کی محنت کشی اور مزدوری نے آپ کو پختہ ذہن اور گہرے فکر والا انسان بنایا۔
شاکر شجاع آبادی کی شادی 1991 میں شبنم بیگم سے ہوئی آپ کی بیگم بھی ادبی لگاؤ رکھتی تھی شاعری کرتی تھی۔ شبنم شاکر کئی مشاعروں میں شاکر کے ساتھ جایا کرتی تھی ایک انٹرویو میں شبنم شاکر نے کہا کہ:
مجھے شاعری کا شوق ہے مشاعرے بھی کروائے ہیں اور ایک شعری مجموعہ ”کچ دی ونگ“ بھی ہے۔ اینکر کے سوال پر کہ شاکر کے نام کا کوئی شعر جو آپ نے کہا ہو گا تو آپ نے سنایا
میں شبنم ہاں پھل شاکر ہے ونجے پھل مرجھاں میں کہے کم دی
تیڈے ناں دے نال ہے ناں میڈا تھیوے ناں جدا میں کہے کام دی
(میں شبنم ہوں اور پھول شاکر ہے اگر پھول ہی مرجھا جائے تو میں شبنم کس کام کی اور تمھارے نام کی وجہ سے میرا نام زندہ ہے اگر نام ہی جدا ہو جائے تو میرا کوئی نام نہیں )
شاکر شجاع آبادی کی اولاد میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں دو بیٹے ولید شاکر اور نوید شاکر۔ شاکر شجاع آبادی جو بول نہیں سکتے زبان میں لکنت ہے تو یہیں دو بیٹے آپ کے ترجمان اور خدمت گزار ہیں۔
اینکر نے ایک موقع پر آپ سے سوال کیا کہ آپ اتنا پڑھے لکھے نہیں ہیں پانچ جماعت تک پڑھے ہیں تو یہ سب کیسے ممکن ہوا کہ اتنے بڑے شاعر بنے تو آپ نے کہا کہ:
میں سمجھتا ہوں کہ یہ بغیر جبرائیل کے وحی ہے ورنہ بندے کی کیا جرات ہے
اینکر نے پھر سوال کیا کہ آپ کو کب اندازہ ہوا کہ آپ کے اندر اتنا بڑا شاعر چھپا ہے تو شاکر کہتے ہیں کہ
حالات، واقعات، محرومی غربت اور پریشانی ان سب نے ڈنڈے اٹھا کر مارے اندر کا شاعر جاگ گیا اور اس میں ناکامی محبت کا بھی کردار ہے اور میری عمر 12 سال تھی اور ان کی 7 سال، انکھیں چار ہو گئیں میرا دعویٰ ہے کہ آج تک اس کو ہاتھ نہیں لگایا زندگی میں کئی مواقع ملے مگر میں نے کہا فاصلہ رکھتے ہیں محبت کو اللہ نے آغاز کیا اور اللہ کے آغاز کو پاک رہنا تھا۔
آپ نے 1986 میں باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور دوہڑے اور قطع لکھے۔ اپنے پہلے مشاعرے کے بارے میں کہتے ہیں کہ
ایک دوست کے ساتھ مشاعرے میں گئے اور اس کو یہ کہہ کر گیا کہ میں وہاں پر کلام نہیں پڑھوں گا مگر دوست کا دوست اسٹیج سیکرٹری تھا اس نے میرا نام بلوایا تو اسٹیج سیکرٹری نے کہا دو منٹ آپ کو بھی برداشت کرتے ہیں لوگ وہاں پاگل پاگل کہنے لگے میں نے کہا دو منٹ دیے ہیں تو برداشت بھی کرو اور میں نے یہ قطعہ پڑھا
اتھا کہیں کو ناز وفاواں دا
اتھا کہی کوں ناز اداؤں دا
اساں پیلے پتر درختاں دے
ساکوں ڈر رہندے ہواؤں دا
(یہاں پر کسی کو اپنی اداؤں پہ ناز ہے کوئی اپنی وفا کی قسمیں کھا رہا ہے مگر ہم تو اس سوکھے درخت کے پتوں کی مانند ہے جس کو ہوا کا ڈر رہتا ہے شاکر دراصل یہ کہنا چاہتا ہے کہ غرورِ نہیں کرنا چاہیے عجز میں زندگی گزارنی چاہیے خدا عاجز بندے پسند کرتا ہے )
یہ قطع کہنا ہی تھا کہ کوئی 15 بار مکرر کہا گیا دو منٹ کا پروگرام ایک گھنٹہ 35 منٹ تک چلا۔
آپ نے ہر صنف میں شاعری کی اور ہر صنف میں آپ کی خوبی اور مہارت سامنے آتی ہے آپ نے اردو میں بھی شاعری کی اردو میں ان کی پہلی غزل 1987 میں منظر عام پر آئی۔ غزل کا شعر ملاحظہ ہو
گلشن میں آشیاں ہے غنچوں میں پل رہے ہیں
پھر بھی نہ جانے کیوں ہم آتش میں جل رہے ہیں
آپ مرزا غالب اور میاں محمد بخش کو بہت پسند کرتے ہیں اور خواجہ غلام فرید کو اپنا روحانی استاد مانتے ہیں ان کا کلام ریڈیو پر سن سن کر شاعری کی طرف راغب ہوئے۔ آپ نے بزم شاکر کے نام پر 1996 میں ایک تنظیم کا اغاز کیا جو 1998 میں بند ہو گئی پھر 2013 میں دوبارہ شروع ہوئی آپ کا کلام بہت سارے اداروں میں چھپا۔ شاکر شجاع آبادی نے شاعری میں نیا اسلوب اپنایا آپ نے غزل کے مزاج کو یکسر بدل کر سرائیکی وسیب کے مسائل کو غزل میں لے آئے۔ آپ کی شاعری میں حالات زندگی کا عکس نظر آتا ہے آپ کی غزل کا کوئی مقابل نہیں۔
میں سنینداں دل تو نکلی ہوئی غزل کجھ غور کر
مہربانی اے خدائے لم یزل کجھ غور کر
کہیں دے کتے کھیر پیون کہیں دے بچے بکھ مرن
رزق دی تقسیم تے ہک وار ول کجھ غور کر
(میں دل سے نکلی ہوئی غزل سنا رہا ہو کہ اے خدا لم یزل میرے حالات پہ غور کرو اور اپنی رزق کی تقسیم کو دیکھو کسی کے کتے دودھ پیتے ہیں اور ہمارے بچے بھوکے مرتے ہیں۔ )
شاکر شجاع آبادی نے ایک نئی صنف متعارف کروائی دنیا کی آخری صنف ہائیکو جس کا ریکارڈ جاپان کے پاس تھا اس کے بعد پاکستان کے پاس آ گیا۔
شاکر شجاع آبادی نے ”سجھاول“ متعارف کروائی۔ سجھاول کو پہلی بار 2001 میں ڈسٹرکٹ بار کونسل ملتان کی تقریب میں عوام کے سامنے پیش کیا۔ سجھاول کا نام روشنی سے لیا گیا ہے۔ سجھ اور سوجھلا مل کر سجھاول بنتا ہے جس کا مطلب امید ہے اس کے بعد کئی شعراء نے سجھاول لکھی۔ سجھاول ملاحظہ ہو
سج ابھرے تاں روٹی منگن روندے روندے دیگر ڈھلے
ماں شودی پئی لارے لا لا بال سماوے ٹالھی تھلے
ناں کوئی کوٹھا ناں کوئی چھتری لگے بالا بھاہ نہ بلے
رات انہاں دی کیوں نبھسی سوچ وچار اچ چیتا رلے
دیگر ڈھلے ٹالھی تھلے بھاہ نہ بلے چیتا رلے
بھلے بال دے سامنے شاکر شاد اٹا کوئی نہ ملے
(جیسے ہی صبح ہوتی ہے سورج کی کرنیں زمیں پر نئی صبح کا پیغام لے کر آتی ہیں مگر غریب اور محنت کش طبقہ اس صبح میں بھی بے بس اور نا امید ہے ماں بیچاری بچوں کو یہ کہے کر ٹال رہی ہے کہ ابھی روٹی پکنی باقی ہے مگر بچوں کو کیا پتہ ان کے لیے دن اور رات ایک جیسی ہے۔
سجھاول آپ کی محنت کا پھل ہے آپ نے پانچ زبانوں میں شاعری کی جن میں اردو، سرائیکی، پنجابی ہریانوی اور میواتی زبان شامل ہے۔ آپ کے اب تک چھوٹے اور بڑے تیرہ شعری مجموعے منظر عام پر آ چکے ہیں جو درج ذیل ہیں
1۔ پیلے پتر
2۔ لہو دا عرق
3۔ کلام شاکر
4۔ بلدیاں ہنجوں
5۔ پتہ لگ ویندے
6۔ پتھر موم
7۔ شاکر دے دوہڑے
8۔ شعر شکر دے
9۔ منافقاں توں خدا بچاوے
10۔ گلاب سارے تمہیں مبارک ہوں (اردو کلام)
11۔ خدا جانے
12۔ :خدا ملدے مدینے (نعتیہ کلام)
13۔ روسیں توں دھاڑیں مار کے
شاکر شجاع آبادی عصر حاضر میں پاکستان اور سرائیکی زبان کے نمائندہ شاعر ہیں حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کی وجہ سے 14 اگست 2002 کو انہیں ”صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی“ سے نوازا دوسری بات 2017 میں انہیں ”صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی“ دیا گیا۔ 14 اگست 2022 کو انہیں ”ستارہ امتیاز“ سے نوازا گیا۔ اسلامیہ یونیورسٹی آف بہاولپور نے شاکر شجاع آبادی کو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر آف فلاسفی (پی ایچ ڈی) کی اعزازی ڈگری نومبر 2023 میں دی۔


Well Done