وانا وزیرستان: ذرا اپنی گریبان میں جھانک کر دیکھیں

ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر تو دیکھیں کس کی بد دعا لگی ہے یا اپنے کیے کا نتیجہ ہے۔ شاید ہم بنے ہی برے دنوں کے لیے ہیں۔ ہمارا وطن پچھلے دو عشروں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ ایک کے بعد دوسری، تیسری اور چوتھی لہر اپنی باری پر کھڑی انتظار کر رہی ہوتی ہے۔ آج جو کچھ ہم دیکھ، سن اور سہ رہے ہیں، اپنے بڑوں کے بقول یہ ہماری زندگی کی ہی روداد ہے، مگر ہیئت اور ساخت میں معمولی تبدیلی کے ساتھ۔
آج سے پچیس سال پہلے جب وزیرستان وانا کی مٹی نے ہمیں اپنی آغوش میں لیا اور ہم اپنی زندگی کی پہلی آنکھیں کھول رہے تھے، تب سے لے کر آج تک ہم ایک ہی کھیل کے مختلف رُویوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ جب سے شعور سنبھالا ہے، ریاست کا وجود وزیرستان میں خاردار تاروں کے اندر خود کو مقید دیکھ رہا ہوں۔ ریاست کبھی کبھار ہوا میں جہاز، تو کبھی زمین پر بم پھٹنے کی صورت میں اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہے۔ امن تو شاید ہماری قسمت میں ہے ہی نہیں۔ بدقسمتی سے، وزیرستانی خون کے دھبے ہمیشہ ریاست پاکستان کے ہاتھوں پر ڈھونڈتے ڈھونڈتے ہم تھکتے نہیں۔ جہاں وزیرستانی اپنا خون ریاست پاکستان کے ہاتھوں پر دیکھتے ہیں، وہیں وہ اپنا خون اپنے ہاتھوں پر بھی ڈھونڈ سکتے ہیں۔ آخر ہم نے خود اپنے ساتھ اور اپنوں کے ساتھ کون سی زیادتی نہیں کی؟
آبادی میں بے پناہ اضافے نے وزیرستان میں ہم وزیرستانیوں کے لیے جینا مشکل کر دیا ہے۔ ویسے بھی روزگار کے لیے ہمارے پاس زراعت تھا مگر پانی کی قلت کی وجہ سے زرعی شعبہ مسلسل سکڑ رہا ہے۔ بے روزگاری عروج پر ہے۔ بدامنی کے ہاتھوں ہمارے اپنے وزیرستانی سرمایہ کار آہستہ آہستہ کہیں اور منتقل ہو رہے ہیں۔ سرکاری اسکولز اور کالجز کو ذاتی استعمال میں لے کر تعلیم پرائیویٹ مافیاز کے ہاتھوں میں دے دی گئی ہے، جس سے تعلیم کے نام پر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔ سرکاری اساتذہ کی زیرِ نگرانی چلنے والے میٹرک اور ایف ایس سی کے امتحانات میں نقل اور رشوت خوری سرعام ہوتی ہے۔ طلباء نقل کو اپنا حق سمجھتے ہیں، جبکہ سرکاری اساتذہ رشوت کو چائے پانی کا نام دے کر اپنا حق سمجھتے ہیں۔ سرکاری کتابیں بازار میں بک شاپس پر ”ناٹ فار سیل“ کے اسٹیکر کے ساتھ بیچی جا رہی ہیں۔ یہی حال ہسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں سرکار سے ملنے والی مفت ادویات کا بھی ہے۔ بازاروں میں مخصوص میڈیکل اسٹورز پر آدھے سے زیادہ ادویات سرکاری ہوتی ہیں۔ ہر ڈاکٹر کمیشن کے پیچھے پاگل بنا ہوا ہے۔ مسیحا کے روپ میں علاج کی بجائے ڈاکٹروں کی نظر ہمیشہ بیماروں کی جیب اور بینک بیلنس پر ہوتی ہے۔ انسانی جسم سے زیادہ انہیں پیسے عزیز ہوتے ہیں۔
خیل زئی اور قبیلوں کے درمیان سالوں سے چلے آ رہے ناجائز زمینی تنازعات میں ناجائز قبضے کے لیے قتل کرنا وزیرستانیوں کے مزاج کا حصہ بن چکا ہے۔ ایسے ہی قتل و غارت کو ہم زندگی میں معمول کی بات سمجھتے ہیں۔ ہر دوسرا فرد تیسرے کے مسائل میں فریق بن کر مسائل کو مزید الجھا رہا ہے۔
سرکار کی طرف سے مختلف پراجیکٹس کی بندر بانٹ میں اپنے ہی علاقے کے لوگ ملوث ہیں۔ سرکاری پل، روڈز وغیرہ بنانے کے لیے ہر دوسرا بندہ کمیشن کے انتظار میں ہوتا ہے۔ ریاست، ریاست کہنے سے بہتر ہے کہ ہم ان دو نمبر ٹھیکیداروں سے ان کے ٹھیکوں اور ان میں ہونے والی کرپشن کے بارے میں پوچھیں۔ سرکار کی طرف سے ملنے والے پراجیکٹس کسی شخص کی میراث تو نہیں؟ ذاتی طور پر زیرِ استعمال تمام پراجیکٹس کے بارے میں ان سے پوچھ گچھ کریں۔
المختصر، اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کے لیے جتنا نقصان پہنچ چکا ہے، وہ ریاست کے نقصانات سے بہت زیادہ اور بھاری ہے۔ مگر افسوس ہم وزیرستانی صرف اور صرف ریاست و انتظامیہ کو کوسنے سے تھکتے نہیں۔