شوگر ڈیڈی

اس مرتبہ اسے واقعی محبت ہو گئی تھی۔ ”پچپن سال کی عمر میں کوئی اتنا سیکسی کیسے ہو سکتا ہے۔“
اسے یہ سوچ کر ہنسی آ جاتی تھی۔ ایک نجی یونیورسٹی میں میڈیا سٹڈیز پڑھانے والا پروفیسر اپنی سٹوڈنٹس کے لیے ٹام کروز تھا۔ وہ جب بالوں کو جیل لگا کر پیچھے کی جانب کنگھی کرتا تو اس کے شیو زدہ گال تمتمانے لگتے۔ پھر وہ اپنے عشق میں گرفتار ہو گیا کیونکہ اسے فنا ہو جانے کی شدید خواہش تھی۔ اس عمر تک پہنچتے ہوئے اس نے بے شمار رنگوں اور ذائقوں سے بھری ہوئی عورتیں چکھیں۔ کوئی دیسی ٹھہرے جیسی کسیلی تھی تو کوئی برانڈی جیسی تیز حلق کو چیرتے ہوئے کلیجہ جلا دینے والی۔ سادہ پانی کے گلاس جیسی دو یا تین عورتیں بھی اس کی زندگی میں آئیں۔ کھارے پانی جیسی بتول اور میٹھے پانی کا کنواں سندس، اسے زیادہ دیر تک اپنا اسیر نہ بنا سکیں۔ وہ عورتوں کا جیتا جاگتا کیٹلاگ تھا۔ جس میں حروف تہجی کے بجائے خوشبو، لمس اور چاشنی سے لبریز لہجوں والی عورتیں سلیقے سے رکھی ہوئی تھیں۔ اسے چہروں کے بجائے نسوانی ہاتھ اور پاؤں کی ملائمت پسند تھی۔ وہ گداز پن کا قائل نہیں تھا۔ اسے اجلے ہاتھ اچھے لگتے تھے۔ دانتوں میں خلا والی عورتیں اسے زیادہ جذباتی اور رکھ رکھاؤ والی لگتی تھیں۔ اس کے خیال میں سچے موتیوں کی لڑیوں جیسے دانتوں والی لڑکیوں ہی اچھی رہتی تھیں۔ ان میں جلدی پیار کے لیے مان جانے کا مادہ زیادہ ہوتا تھا۔ اسے کبھی کوئی عورت مشکل لگی بھی نہیں تھی۔ کیونکہ وہ دریا کے کنارے کو سرہانہ بنا کر وہیں دراز ہونا عقل مندی سمجھتا تھا۔ کنڈی میں روٹی کا ٹکڑا لگا کر پانی میں پھینکتا تو چھوٹی بڑی مچھلیاں اس کی جانب کھنچی چلی آتیں۔ اسے باتوں ہی باتوں میں جن کو بوتل میں قید کرنے کا ہنر آتا تھا۔ سادہ پانی جیسی عورتیں لفظوں کی رسی میں جکڑی جاتی تھیں۔ دماغ والی بس ایک ہی تھی، دیکھنے میں سادہ لیکن دو صفحے کی حکایت ِ دلچسپ جیسی مبہم لڑکی۔
” سنو! پیاری لڑکی۔ آج کیا سناؤ گی؟“
یوں وہ مبہم لڑکی اسے اپنے دیوان میں سے کوئی نہ کوئی غزل یا نظم سناتے ہوئے کسمسانے لگتی۔
” کیا تم مجھے شانت کر سکتی ہے؟“
” کیا ہمیں آج ایک دوسرے کی ضرورت ہے یا یہ محض میرا وہم ہے؟“
عورتوں کو رام کرنے میں ملکہ حاصل کرنے والا شخص عام سی لڑکی کے آگے بے بس ہو گیا۔ پیاری لڑکی اس کے تعاقب میں کہیں دور نکل گئی تھی۔ اس کی جگہ کھارے پانی کی مچھلی نے لے لی تھی۔ لفظ ”سنو!“ اس کا ہتھیار تھا جس کے آگے تقریباً ہر مخاطب کو زیر ہونا پڑتا تھا۔ جب اس کی زندگی میں لائبہ آئی تو اس نے عشق کا جام پی لیا۔ وہ شوخ، چنچل، سمندر کی جھاگ جیسی، سلو موشن فلم کے کسی سین کی طرح آہستہ آہستہ قریب ہوئی۔ پھر اک دن یونیورسٹی کے پوائنٹ سے اتر کر اس کی برینڈ نیو کرولا میں بیٹھ گئی۔ فتح جنگ کی لائبہ کو ہاتھ لگاتے ہی اس کا سانس رکنے لگتا تھا۔ اس کے لمبے گھنگھریالے بال اس کی چھاتی پر چڑھ کر ڈسنا چاہتے تھے۔ لائبہ کا نازک ہاتھ گیئر پر رکھے ہوئے اس کے یخ بستہ ہاتھ پر مستقل جما رہتا۔ دونوں مارگلہ کی پہاڑیوں کے گھنے درختوں کی اوٹ میں گلہریوں کو کھانا ڈالنے جاتے۔ وہ ایک درخت کی جھکی ہوئی شاخ پر پیٹھ ٹکا کر بیٹھ جاتی۔ وہ اس کے اجلے پاؤں اپنے سینے پر رکھ کر چومنے لگتا۔ لائبہ کی ہنسی کی کھنک تازہ پانی جیسی لڑکی کے لہجے پر بھاری تھی۔ لائبہ اس کے کان کی لوئیں چھو کے اسے نڈھال کر دیتی۔ وہ تازہ پانی جیسی لڑکی سے نظمیں سنتا تھا اور اس منجدھار پہ اسے غزلیں کہنا پڑتی تھیں۔ بپھری ندی کشتی کے ملاح کو چپو چلاتے ہوئے ڈولنے پر مجبور کر دیتی۔ اس کی زندگی میں ہر عورت کی کوئی نہ کوئی قیمت تھی لیکن لائبہ بے مول سودا بن گئی۔ وہ اس کی ناراضگی سے ڈرتا تھا اسی لیے ہمیشہ اس کا پرس نیلے، پیلے نوٹوں سے بھرا ہوا رکھتا۔ وہ لانگ ڈرائیو کے دوران اک قیامت خیز انگڑائی لیتے ہوئے اس کے گلے میں بانہیں ڈال دیتی۔
” آئی ایم ٹو مچ ٹائرڈ ڈارلنگ۔“
” ڈارلنگ! لفظ میں بھی قدرت نے کتنا مزہ رکھا ہے۔ “
وہ یہ سوچ کر نہال ہو جاتا۔ سلسلہ وار محبت کا کھیل شروع ہو چکا تھا۔ یونیورسٹی کے بعد دونوں شام تک ساتھ رہتے۔ پھر کسی ریسٹورنٹ میں جا کر جی بھر کے کھانا کھایا جاتا۔ چکن کڑاہی اور مٹن قیمہ لائبہ کی پسندیدہ خوراک میں سے تھے۔ جب وہ کھانا کھاتی تو لگتا جیسے صدیوں سے بھوکی پیاسی کسی دیوی کی طرح تپسیا میں گم ہو۔ ورتھ کھولتے ہوئے یہ داسی کڑاہی کے کنارے بھی صاف کر دیتی۔ لپ سٹک کی چمک اڑتے ہی اس کے گلابی ہونٹ بارش کے بعد اجلے بادل بن جاتے۔ وہ لائبہ کو پگڈنڈی بنتا ہوا دیکھ کر ہیجان میں مبتلا ہو جاتا۔ وہ کولا کے آخری گھونٹ پیتی ہوئی پگڈنڈی پر ہولے ہولے قدم رکھتا ہوا منزل تک پہنچنے کی کوشش کرتا۔ واپسی پر بلیو بیری فلیورڈ آئس کریم کے سکوپ لائبہ کے موتیوں کی لڑیوں جیسے دانتوں کو مزید چمکا دیتے۔ گیلے میٹھے ہونٹ سٹیکر والی چیونگم کی طرح اس کے گالوں سے چپک جاتے۔ اسے برینڈڈ کپڑوں اور بیگز کا چسکا لگ چکا تھا۔ سفید کرولا فتح جنگ کی تنگ گلیوں سے گزر کر نیلے دروازے کے سامنے رکتی۔ جس کی ڈگی سے اوپر گردن نکالے برینڈڈ کپڑوں اور بیگز کے شاپر اپنی قسمت پر حیران ہوتے۔ اندر سے اک بھاری وجود نکل کر دونوں کے ماتھے چومتا۔ شاپنگ کے تھیلے ان کے چھوٹے سے گھر کو بھر دیتے۔ ایک شام طوفانی بارش کے باعث اسے اسی مکان میں رات گزارنا پڑی۔ وہ لائبہ کی ماں سے اس کا ہاتھ مانگ رہا تھا۔ فیصلہ ماں باپ کی کورٹ میں داخل دفتر تھا۔ عمر میں بیس سال کے اس فرق نے لکیر کھینچ دی تھی۔ جسے بھرنے کے لیے اس کا بنی گالہ کا پلاٹ اور دکانیں درکار تھیں۔ وہ رات بھر ماں بیٹی کے سامنے اپنا مقدمہ لڑتا رہا۔ دو کمروں کے مکان میں سونے کے لیے جگہ کم پڑ چکی تھی۔ اسے سب کچھ بہت عجیب سا لگ رہا تھا۔ لائبہ کی ماں کے کلیجی مائل مسوڑھے اس کی توجہ کھینچ رہے تھے۔ ”یہ بھی گہری کھائی جیسی عورت ہے۔ “
اسے یہ سوچتے ہوئے جھرجھری سی آ گئی۔ لائبہ کے باپ کے لیے گھر میں نئے مرد کا وجود جنازے کی طرح تھا۔ اسے معلوم تھا کہ صبح یہ چارپائی اٹھا کر قبرستان رکھ دی جائے گی۔ گھر کا تیسرا فرد لائبہ کی چھوٹی بہن تھی۔ جو نیلے بادل کی ٹکڑی بنی کہنیاں گھٹنوں پر ٹکائے اسے دیکھتی رہی۔
سب ایک ہی کمرے میں جاگتے ہوئے مستقبل کے خواب بنتے رہے۔ دوسرے کمرے سے باپ کے خراٹوں کی خطرناک آوازیں انھیں چونکا دیتیں تو وہ سر جھٹک کر دوبارہ اپنے موضوع پر آ جاتے۔ ماں کا بھاری وجود قبر کی سل کی طرح ان کے سرہانے سے سرکنے کو تیار نہیں تھا۔ وہ اپنے فائدے اور نقصان کا تخمینہ لگاتے لگاتے سو گیا۔ صبح اٹھتے ہی اس نے لائبہ کی مخروطی انگلی میں ہیرے کی انگوٹھی ڈال دی۔ کلیجی مائل مسوڑھے ہنستے ہوئے پھیل گئے۔ وہ کچھ دن سوچنے کی مہلت لے کر کمرہ عدالت سے واپس لوٹ آیا۔ فیصلہ کسی دیوانی مقدمے کی طرح التواء کا شکار تھا۔ دونوں اسی روٹین کو نبھانے میں مگن تھے۔ لائبہ وہسکی کی چسکی کی طرح اس کے لبوں کو دوآتشہ کر دیتی تو یونانی دیوتا گھوڑے پر بیٹھا اپنی فتح کا جھنڈا لہرانے لگتا۔ وہ اپنی تگڑی رانوں کے درمیان اس کی گردن دبوچ کر چھ فٹے سورما کو زچ کر دیتی۔ چاروں شانے چت پہلوان لمبے لمبے سانس لیتا ہوا اس کا صندلیں چہرہ دیکھتا۔ دیوی اپنی کہنی کو ماتھے اور گال کے نیچے رکھے اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی تھی۔ جیسے پل سے نیچے کوئی تیز رفتار گاڑی کی زد میں آ کر گر گیا ہو اور مجمع ریلنگ سے جھانک کر لاش کا معائنہ کرنے لگے۔ ”آئی ایم سوری جان، گیو می ون مور ٹرن پلیز۔“ دیوی کی آنکھوں کی مقناطیسیت اسے جھنجھوڑ کر کہتی کہ بنی گالہ کا پلاٹ اور دکانیں تمہاری اس شکست کا خمیازہ پورا کرنے کے لیے کچھ زیادہ تو نہیں ہیں۔ مزید کچھ دنوں کی مہلت بڑھتے بڑھتے انتظار کی سولی بن گئی۔ لائبہ کو اس کے ہاں یا ناں سے کوئی مطلب نہیں تھا۔ وہ اپنا وقت ضائع ہوتا دیکھ کر ٹھنڈے سانس بھرنے لگی تھی۔ دیوتا کے گھٹنوں کی کھڑکھڑاہٹ کے خوف سے گھبرا کر ایک دن اسے یہ کہنا ہی پڑا کہ آسٹریلی اسے آیا ہوا رشتہ اس کے ماں باپ کو قبول ہے۔ اس دن سے لائبہ کا رویہ بدلا ہوا تھا۔ اس نے دو گھنٹے کی ڈرائیو کے دوران ایک مرتبہ بھی گیئر بدلتے ہوئے اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ نہیں رکھا تھا۔
” ہاں یا ناں۔“
گاڑی چلاتے ہوئے اسے محسوس ہوا کہ آج جینز کی پینٹ نہیں پہننا چاہیے تھی۔ اس کے نچلے دھڑ میں کیڑیاں رینگنے لگیں۔ وہ سٹیئرنگ چھوڑ کر خارش کرنا چاہتا تھا لیکن پھنسی ہوئی پینٹ نے اس کی ٹانگوں کی روح قبض کر رکھی تھی۔ لائبہ اس کی مستقل چپ سے زچ ہو چکی تھی۔ وہ اس کی چھاتی پر چڑھ کر جیل لگے بالوں کو نوچنے لگی۔ پچپن سال کی عمر میں پچیس سالہ محبوبہ کو گود میں مستقل اٹھانے سے جو کمر درد لگا تھا۔ وہ ٹھیک کرنے کے لیے کچھ وقت درکار تھا۔ اس دوران اسے لائبہ کی ہائمنوپلاسٹی بھی کروانا پڑی۔ وہ پچاس ہزار کے بل کے ساتھ آخری شاپنگ بیگز کو نیلے رنگ کے دروازے کے سامنے اتارتے ہوئے مضمحل تھا۔ وہسکی کی چسکی نے اس کے حلق کو چیر کر کلیجہ چھلنی کر دیا تھا۔ اسے جدائی کے دنوں میں سادہ پانی جیسی لڑکی یاد آ گئی۔ پیاس کی شدت نے اس کے ہونٹ خشک کر دیے تھے۔ اس کا پورا جسم ہی پپڑی میں بدل چکا تھا۔ دیوانگی کسی آسیب کی طرح اسے جکڑتی تو وہ مارگلہ کی پہاڑیوں پر گاڑی دوڑاتے ہوئے اپنے دل کی دھڑکنوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرنے لگتا۔ وہ خاموش کونوں کھدروں میں جا کر چیخنا چاہتا تھا لیکن آواز اس کے حلق سے نکل نہ پاتی۔ وہ نیند میں لائبہ، لائبہ پکارتا اور خالی منہ ہل کر دوبارہ اپنی جگہ پر آ جاتا۔
” سنو! مجھے چین کیوں نہیں آتا؟“
وہ سادہ پانی جیسی لڑکی کو وائس میسج کر کے شانت ہونے کی خواہش کر بیٹھتا۔ دوسری طرف کی مستقل خاموشی نے بھی اسے توڑ کر رکھ دیا تھا۔
” کیا مجھے واقعی محبت ہو گئی ہے؟“
” یا اللہ! یہ لائبہ کا بھوت مجھ پر سے کب اترے گا؟“
وہ بوتل کا منہ کھول کر عشق کے جن کو نجات دینا چاہتا تھا۔ اس کا رجحان معرفت کی جانب بڑھنے لگا۔ وہ ان دنوں اپنی انگلیوں میں عقیق، زمرد، زہرہ اور یاقوت پہننے لگا تھا۔ چاندی کی انگوٹھی میں جڑے یاقوت پر اسے قوی یقین تھا کہ ایک دن یہ پتھر اسے منزل تک پہنچائیں گے۔ وہ اپنے سٹوڈنٹس کو عشق مجازی سے عشق حقیقی تک پہنچنے کے گُر سکھانے لگا۔ پھر اس کے خشک جسم کو تر کرنے کے لیے ویزلین جیسی لڑکی آ گئی۔
” رومی ڈارلنگ! مجھے سنبھال لو پلیز۔“
ویزلین کی پیلاہٹ نے اس کے بالوں کو سیدھا کیا۔ جیل کی اکڑاہٹ نے نرم انگلیوں کو پکڑنے کی کوشش کی۔ وہ بار بار یاقوت کو چومتے ہوئے اپنی قسمت پر نازاں ہوتا۔ تازہ عورت آبشار کی طرح اس پر تڑا تڑ چھینٹے اڑا رہی تھی۔ لانگ ڈرائیو اور کینڈل لائٹ ڈنر اس کی زندگی کی دیوار پر کیلنڈر بن کر آویزاں تھے۔ وہ اس شام اسے ہاسٹل اتار کر جیسے ہی گھر داخل ہوا۔ سیدھی مانگ والی عورت گیراج میں اس کی منتظر تھی۔ اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر اس کے کندھے سے کوٹ اتارا اور اندر چلی گئی۔
”تمہاری بیوی کہاں ہے؟“ کال کے دوسری جانب سے سوال داغا گیا۔
” کیا تم نے یہ جاننے کے لیے فون کیا؟“
” ہاں ناں۔ گاڑی سے اترتے ہی خیال آیا کہ اب تم گھر جاتے ہی کیا کرو گے؟“
” بیوی کہاں یارا! وہ تو ایک ایگریمنٹ والی شادی ہے۔ میں ایک شدید کنوارہ مرد ہوں۔ چاہو تو آزما لو۔“
” اووو۔ بے بی۔ مے گاڈ ہیلپ یو سون۔“
”ہاں ناں یارا! آئی ایم ٹو ہیلپ لیس۔“
” تمہیں تو شادی والی چس بھی نہیں آئی۔“
” ہائے۔ اگزیکٹلی ڈئیر۔ سنو! کین آئی بی یور شوگر ڈیڈی؟“
” وائے ناٹ بے بی۔ لو یو جان۔“
” اچھا سونو! ابھی تمہارے ہاسٹل کے باہر رائڈر آئے گا۔ تمہیں گل داؤدی کی کلیاں اور چاکلیٹس دے گا۔ تم ایک چاکلیٹ اپنے دانتوں میں لے کر اسے دبانا۔ اس بلیک چاکلیٹ کا ذائقہ اپنے ہونٹوں سے مس کر کے بتانا کہ تمہیں اپنے شوگر ڈیڈی کا تحفہ کیسا لگا۔“
” اوووو۔ یو مائی نوٹی بوائے۔ لو یو اگین۔ بائی ی ی ی۔“
سیدھی مانگ والی عورت دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوئی۔ وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے اپنے بال سنوارتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔
” اماں جی نے آپ کے لیے پیغام دیا ہے۔ “
”بولو۔“
” وہ بھا جی کی ٹانگ ٹوٹ گئی ہے تو اس مرتبہ خرچہ ذرا زیادہ دیں۔ اماں جی نے انھیں بھی بھجوانا ہے۔ “
” ایک تو تم ساس بہو کی ضرورتیں کیا کم تھیں کہ اب بھا جی کی مصیبت بھی گلے پڑ گئی۔“
اس نے باتھ ٹاول اتار کر بیڈ پر پھینکا اور پاجامہ چڑھاتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔ سیدھی مانگ گردن نیچے کیے اس کے اشارے کی منتظر تھی۔ اس نے دیوار پر لگی کنڈی پہ لٹکی پینٹ میں ہاتھ ڈال کر پانچ پانچ ہزار کے چار نوٹ نکالے۔
”اماں جی سے کہنا کہ اب اس سے زیادہ کچھ نہیں ملنا۔ میرے پاس کوئی قارون کا خزانہ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو۔ ماں کی آنت۔“
بیڈ کی سائیڈ ٹیبل بند کرتے ہوئے اس کی انگلی درمیان میں آ گئی تھی۔ وہ سرہانے کی طرف بیٹھ کر خود کو سہلانے لگا۔ سیدھی مانگ تڑپ کر آگے بڑھی اور اس کی انگلی اپنے منہ میں لے لی۔ دیوتا نے داسی کو بازو سے پکڑ کر اپنی جانب کھینچا۔
” تم گچک کی طرح سخت لیکن اندر سے میٹھی ہو۔“
” جی، جیسے آپ کی مرضی۔“
اس کے منہ میں فوراً گریس ملے پانی کی کسیل گھل گئی۔ لٹکے ہوئے پیٹ نے اس کی ٹانگ کو مس کیا۔ مٹکا پانی سمیت اس پر گر چکا تھا۔ پیتل کا گلاس فرش پر گرتے ہی آوازیں دینے لگا۔ وہ اس کے پھیلے ہوئے پیٹ کی زد میں آنے سے بال بال بچا تھا۔
” اوں ہوں۔ تمہیں کب تمیز آئے گی۔ جاؤ شاباش شکل گم کرو۔“
ٹوٹے ہوئے مٹکے کی کرچیاں خود کو سنبھالنے لگیں۔ وہ کمرہ خالی ہوتے ہی تکیے سے ٹیک لگا کر ٹانگوں کی قینچی مارے اپنے وجود کی سختی کو ناپنے لگا۔
اس مرتبہ اسے واقعی محبت ہو گئی تھی۔
” پچپن سال کی عمر میں کوئی اتنا سیکسی کیسے ہو سکتا ہے۔ “
اسے یہ سوچ کر ہنسی آ گئی۔
