کالم۔

شادی کو اختلاف نہیں، غلط رویے کمزور کرتے ہیں

hani baloch

کبھی غور کیا ہے کہ کتنے ہی گھر ایسے ہیں جہاں جھگڑا برتنوں سے شروع ہوتا ہے، مگر ختم برسوں کی خاموشیوں پر ہوتا ہے؟ کبھی شکایت صرف اتنی ہوتی ہے کہ تم نے میری بات نہیں سنی، تم پھر دیر سے آئے، تم نے میری مدد نہیں کی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لڑائیاں نہ برتنوں کی ہوتی ہیں، نہ دیر سے آنے کی، نہ پیسوں کی، اور نہ ہی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں کی۔ اصل جنگ اس احساس کی ہوتی ہے کہ کیا میری بات کی کوئی اہمیت ہے؟ کیا میرا درد تم تک پہنچتا ہے؟ کیا میں اس رشتے میں واقعی دیکھا، سنا اور سمجھا جاتا ہوں؟

یہی وہ لمحہ ہے جہاں بہت سے خوبصورت رشتے آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگتے ہیں۔ باہر سے سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے، مگر اندر کہیں محبت کی جگہ فاصلے، گفتگو کی جگہ خاموشی، اور قربت کی جگہ اجنبیت جنم لینے لگتی ہے۔

نفسیات میں اس کیفیت کو Demand Withdraw Cycle کہا جاتا ہے، یعنی ”مطالبہ اور کنارہ کشی کا چکر“ ۔ یہ ایک ایسا خاموش مگر تباہ کن رویہ ہے جو اکثر جوڑوں کو ایک ہی بحث بار بار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایک شریک حیات چاہتا ہے کہ بات ہو، مسئلہ حل ہو، احساسات سنے جائیں، جبکہ دوسرا خاموشی اختیار کر لیتا ہے، بات بدل دیتا ہے یا جذباتی طور پر خود کو الگ کر لیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جتنا ایک شخص قریب آنے کی کوشش کرتا ہے، دوسرا اتنا ہی دور چلا جاتا ہے، اور یوں دونوں ایک ایسے دائرے میں قید ہو جاتے ہیں جہاں ہر جھگڑا مختلف دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی جڑ ہمیشہ ایک ہی ہوتی ہے۔

مشہور ماہرِ نفسیات گوٹمین (John Gottman) نے کئی دہائیوں تک ہزاروں شادی شدہ جوڑوں پر تحقیق کی۔ ان کی تحقیق ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کامیاب شادی وہ نہیں جس میں کبھی اختلاف نہ ہو، بلکہ وہ ہے جس میں اختلاف کے باوجود احترام، اعتماد اور جذباتی تعلق برقرار رہے۔ محبت صرف شادی کے دن لیے گئے وعدوں کا نام نہیں، بلکہ ہر اس دن کا نام ہے جب دونوں اپنی انا سے زیادہ اپنے تعلق کو اہمیت دیتے ہیں۔

گوٹمین کے مطابق تعلقات کو کمزور کرنے والے چار خطرناک رویّے ہوتے ہیں۔

1۔ مسلسل تنقید (Criticism)

تنقید اور شکایت میں فرق ہوتا ہے۔ شکایت کسی مخصوص رویے کے بارے میں ہوتی ہے، جبکہ تنقید شخصیت پر حملہ بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کہے، ”آج تم نے میری مدد نہیں کی“ ، تو یہ شکایت ہے۔ لیکن اگر کہا جائے، ”تم کبھی کسی کام کے نہیں ہو“ ، تو یہ تنقید ہے۔ اس قسم کے جملے دوسرے فرد میں احساسِ جرم، غصہ اور دوری پیدا کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ انسان اپنے شریک حیات کے ساتھ خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگتا ہے، جس سے تعلق کی بنیادیں کمزور ہونے لگتی ہیں۔

2۔ تحقیر (Contempt)

گوٹمین کے مطابق یہ تعلقات کے لیے سب سے خطرناک رویّہ ہے۔ طنزیہ لہجہ، مذاق اُڑانا، آنکھیں گھمانا، دوسرے کو کمتر ثابت کرنا، اس کی بے عزتی کرنا یا اس کے جذبات کو معمولی سمجھنا، یہ سب تحقیر کی علامات ہیں۔ جب احترام ختم ہونے لگتا ہے تو محبت بھی آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتی ہے۔ کسی بھی تعلق میں اختلاف برداشت کیا جا سکتا ہے، لیکن بے عزتی برداشت کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

3۔ دفاعی رویّہ (Defensiveness)

بعض اوقات جب شریک حیات کسی مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے تو دوسرا فوراً صفائیاں دینا شروع کر دیتا ہے، اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے سارا الزام سامنے والے پر ڈال دیتا ہے۔ ایسے جملے جیسے ”غلطی میری نہیں، تمہاری تھی“ یا ”اگر تم ایسا نہ کرتے تو میں بھی ایسا نہ کرتا“ مسئلے کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ دفاعی رویہ وقتی طور پر خود کو بچا لیتا ہے، لیکن تعلق کو نقصان پہنچاتا ہے کیونکہ اس میں ذمہ داری قبول کرنے کی گنجائش ختم ہو جاتی ہے۔

4۔ خاموشی کی دیوار (Stonewalling)

یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب ایک شخص جذباتی طور پر اتنا تھک جاتا ہے کہ بات کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔ وہ خاموش ہو جاتا ہے، جواب دینا بند کر دیتا ہے یا گفتگو سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے۔ بظاہر یہ سکون محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں یہ تعلق کے لیے خطرناک اشارہ ہے کیونکہ اس سے دوسرا فرد خود کو نظر انداز، تنہا اور غیر اہم محسوس کرنے لگتا ہے۔ اگر یہ رویہ بار بار دہرایا جائے تو دونوں کے درمیان جذباتی فاصلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔

ہم اکثر یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شادی خوشیاں دینے والی کوئی جادوئی منزل ہے، جہاں پہنچتے ہی ہر مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ شادی خوشی پیدا کرنے کی فیکٹری نہیں، بلکہ دو انسانوں کی ایسی شراکت داری ہے جسے روزمرہ کی آزمائشوں سے گزر کر مضبوط ہونا پڑتا ہے۔ کبھی گھر کے کام، کبھی مالی دباؤ، کبھی بچوں کی ذمہ داریاں، کبھی وقت کی کمی، اور کبھی زندگی کے غیر متوقع حالات دونوں کا امتحان لیتے ہیں۔ یہ مسائل رشتے کو تباہ نہیں کرتے، بلکہ ان مسائل سے نمٹنے کا ہمارا انداز فیصلہ کرتا ہے کہ تعلق مزید مضبوط ہو گا یا کمزور۔

شاید ہمیں صرف اتنا یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ تعلقات برتنوں، پیسوں یا مصروفیات کی وجہ سے نہیں ٹوٹتے۔ وہ اس وقت ٹوٹنے لگتے ہیں جب ایک دل بار بار پکارے اور دوسرا دل سننا چھوڑ دے۔ جب محبت کی جگہ تحقیر، گفتگو کی جگہ خاموشی، اور ساتھ نبھانے کی جگہ انا لے لے تو فاصلے پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ کامیاب شادی دو کامل انسانوں کی نہیں، بلکہ دو ایسے انسانوں کی کہانی ہوتی ہے جو ہر اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کو بار بار چننے کا فیصلہ کرتے ہیں۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان مسائل سے باہر کیسے نکلا جائے؟

خوش قسمتی سے، جان گوٹمین صرف یہ نہیں بتاتے کہ کون سے رویّے تعلقات کو کمزور کرتے ہیں، بلکہ وہ ان کا عملی حل بھی پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر جوڑے شعوری طور پر اپنے رویوں میں چند مثبت تبدیلیاں لے آئیں تو نہ صرف اختلافات کم ہو سکتے ہیں بلکہ تعلق پہلے سے زیادہ مضبوط بھی ہو سکتا ہے۔

1۔ نرم انداز سے گفتگو کا آغاز (Gentle Start up)

اکثر بحث اس لیے شدت اختیار کر لیتی ہے کیونکہ اس کی شروعات ہی الزام، غصے یا سخت لہجے سے ہوتی ہے۔ گوٹمین کے مطابق گفتگو کا آغاز ہمیشہ نرم، احترام پر مبنی اور احساسات کے اظہار سے ہونا چاہیے۔

مثلاً: ”تم کبھی میری بات نہیں سنتے“ کہنے کے بجائے، ”مجھے اچھا لگے گا اگر آج ہم چند منٹ سکون سے بات کر سکیں، کیونکہ یہ بات میرے لیے اہم ہے۔“

جب گفتگو کا آغاز نرمی سے ہوتا ہے تو دوسرا فرد بھی دفاعی رویہ اختیار کرنے کے بجائے سننے کے لیے زیادہ آمادہ ہوتا ہے۔

2۔ تعریف اور قدردانی کو معمول بنائیں (Build a Culture of Appreciation)

ہر انسان چاہتا ہے کہ اس کی کوششوں کو دیکھا اور سراہا جائے۔ بدقسمتی سے بہت سے جوڑے وقت کے ساتھ ایک دوسرے کی خامیوں پر زیادہ توجہ دینے لگتے ہیں جبکہ خوبیوں کو معمول سمجھ لیتے ہیں۔

روزانہ ایک دوسرے کی کسی چھوٹی سی کوشش پر شکریہ ادا کرنا، تعریف کرنا یا محبت بھرے الفاظ کہنا تعلق میں جذباتی تحفظ پیدا کرتا ہے۔ گوٹمین کی تحقیق کے مطابق کامیاب جوڑے منفی باتوں کے مقابلے میں مثبت جذبات کا اظہار کہیں زیادہ کرتے ہیں۔

3۔ اپنی ذمہ داری قبول کریں (Take Responsibility)

کسی بھی اختلاف میں ہمیشہ سو فیصد غلطی ایک ہی فرد کی نہیں ہوتی۔ اگر ہر شخص صرف اپنے حصے کی ذمہ داری قبول کر لے تو آدھا مسئلہ وہیں ختم ہو جاتا ہے۔

”شاید اس معاملے میں مجھ سے بھی غلطی ہوئی۔“ ”میں تمہاری بات بہتر انداز میں سن سکتا تھا۔“
اس طرح کے جملے انا کو کم کرتے ہیں اور تعلق کو مضبوط بناتے ہیں۔

4۔ جذبات کو پرسکون ہونے کا موقع دیں (Self۔ Soothing)

اگر بحث کے دوران غصہ بہت بڑھ جائے، دل کی دھڑکن تیز ہو جائے یا محسوس ہو کہ اب گفتگو نقصان دہ ہو رہی ہے تو بہتر ہے کہ کچھ دیر کے لیے وقفہ لیا جائے۔ گوٹمین اسے Self Soothing کہتے ہیں۔

وقفہ لینے کا مطلب تعلق سے بھاگنا نہیں، بلکہ اپنے جذبات کو منظم کرنا ہے تاکہ بعد میں زیادہ سمجھ داری سے بات کی جا سکے۔ چند منٹ گہری سانسیں لینا، پانی پینا، مختصر چہل قدمی کرنا یا سکون سے بیٹھنا جذباتی تناؤ کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

5۔ اختلاف کو مقابلہ نہیں، مشترکہ مسئلہ سمجھیں

کامیاب جوڑے ایک دوسرے کے خلاف نہیں لڑتے بلکہ مسئلے کے خلاف مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کی سوچ ہوتی ہے ”یہ تم اور میں نہیں، بلکہ ہم دونوں مل کر مسئلے کا حل تلاش کریں گے۔“ جب مقصد ایک دوسرے کو ہرانے کے بجائے تعلق کو بچانا ہو تو گفتگو کا انداز خود بخود بدل جاتا ہے۔

کامیاب ازدواجی تعلق کا مطلب اختلافات سے پاک زندگی نہیں، بلکہ ایسا رشتہ ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام باقی رہے، گفتگو جاری رہے، معافی کا دروازہ بند نہ ہو، اور دونوں ہر دن شعوری طور پر ایک دوسرے کا انتخاب کرتے رہیں۔ محبت صرف ایک احساس نہیں، بلکہ روزانہ کیے جانے والے چھوٹے چھوٹے فیصلوں، نرم لہجوں، باہمی احترام اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی مسلسل کوشش کا نام ہے۔ یہی کوشش ایک عام رشتے کو عمر بھر کی مضبوط شراکت داری میں بدل دیتی ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW