میرے مطابقگوشہ ادب

ناک رے ناک (انشائیہ)

ahmed shahzad

کہنے کو تو ناک ننھا سا عضو ہے مگر شناخت، حُسن، فخر اور غرور سب اسی سے جڑے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اردو الفاظ و محاورات کا کثیر بوجھ بھی اسی نے اٹھایا ہوا ہے۔ ابھی ”ناک رے ناک“ لکھنا شروع ہی کیا تھا کہ ناک اپنی بپتا سُنانے کے درپے ہوئی۔

​ ”ہوں تو چھوٹی سی ناک پر بڑی بڑی باتیں منسوب ہیں۔ اصل میں سونگھنے کی ذمہ داری تفویض ہوئی، کیا اچھا کیا بُرا سب سونگھنا پڑتا ہے اور تو اور خطرے کی بُو بھی محسوس کرنا پڑتی ہے۔“

”چہرے کی خوبصورتی کے لیے سولہ سنگھار، آنکھوں کے لیے کاجل، مسکارا، آئی لائنر، رخسار پر خوبصورت بلش اون اور شائنز، ہونٹوں کے لیے رنگ برنگی لپ اسٹک اور لپ گلوز ایک بیچاری ناک ہے جسے پف سے تھپ تھپا کے بہلا دیا جاتا ہے۔ یہی نہیں اوپر سے تشدد بھی کیا جاتا ہے کبھی ایک چھید کبھی دو، اِتی سی ناک پر بھاری جڑاؤ نتھ پہنا دی جاتی ہے، کبھی تنکا، کبھی لونگ اور کبھی کوکا (Nose pin) جڑ دیا جاتا ہے۔“

”شاعروں اور ادیبوں نے گیسو، ابرو، آنکھ، رخسار اور ہونٹ کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیے، ایک ہم ہیں کہ ہماری تعریف ہی نہیں، بس ہمارے دم سے الفاظ و محاورات کی دکان چمکائے ہوئے ہیں، جہاں کچھ غلط ہو ہمیں کو موردِ الزام ٹھہرا دیا جائے۔“

”جب عینک نہیں تھی تو یہ ناک آزاد فضا میں ہوتی تھی، معاملہ آنکھوں کا ہے اور بوجھ ہمیں پر لاد دیا اور تو اور رنگ برنگے سَن گلاسز ہمارے دم سے فیشن پریڈ کا حصہ ہیں۔ کورونا کے بعد تو ماسک بھی ہمیں پہ چڑھا دیا گیا۔“

اتنا سُننے پر ہم نے کہا ”بی ناک! اب بس کر دو بہت ہو گیا۔“

معاشرتی لحاظ سے دیکھیں تو ہر معاملے میں ناک گھسیٹ لی جاتی ہے۔ کہیں ناک سے لکیریں نکلوائی جاتی ہیں تو کہیں ناکوں چنے چبوائے جاتے ہیں، کہیں ناک رگڑی جاتی ہے، کہیں ناک گِھسائی جاتی ہے، کہیں ناک اونچی اور کہیں نیچے کی جاتی ہے، کچھ ناک کے بال بنے رہتے ہیں کچھ ناک میں دم کیے رکھتے ہیں، کہیں ناک موم کی بنی ہوتی ہے، کہیں ناک پہ غصہ دھرا رہتا ہے، کہیں ”میری ناک کا سوال ہے“ یا ”تمھاری ناک کیوں چڑھی ہے؟“ غرض ایک ناک ہزار باتیں۔ آنکھیں چاہے بھینگی ہوں ناک کی سیدھ ہی سیدھ میں جایا جاتا ہے یوں ”ناک نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔ *

کسی نے پوچھا کہ آپ کے ہاں بیوی کو کیا کہا جاتا ہے؟ جواب آیا شروع میں تو جانو، سویٹی، جانم اور بعد میں ہیبت ناک، خوفناک، دہشت ناک اور بھی جتنے ناک ہیں۔

ناک کو فارسی میں بینی کہتے ہیں، ”یک بینی دو گوش“ خاصا معروف ہے، پہلے استاد طالب علم کو یک بینی دو گوش کمرۂ جماعت سے نکال دیتے تھے اب خود نکل جاتے ہیں۔ ”یک بینی دو گوش“ کا کام اب اُونچے پیمانے پر اوروں نے بھی نبھانا شروع کر دیا ہے۔ کبھی کبھی یک بینی دو گوش کرتے ہوئے دیس نکالا بھی دے دیا جاتا ہے۔

اردو میں جتنے بھی ڈراؤنے الفاظ ہیں جیسے خوف، خطر، اذیت، عبرت، اندوہ، قہر، ہوس، جب تک ان میں ناک کا لاحقہ نہ لگے مکمل ابلاغ نہیں ہوتا۔ جیسے خطرناک، اذیت ناک، خوف ناک، اندوہ ناک، عبرت ناک، اور ہوس ناک۔

بقول شخصے ”خواتین کی ناک پر تو مکھی بیٹھنے سے رہی وہاں پہلے ہی“ کوکا ”موجود ہے سارے گرم مصالحوں میں سے عورت نے لونگ پسند کیا، ویسے الائچی اپنی ہیئت اور خوشبو کی بنا پر زیادہ جچتی، مصالحوں میں یہی ایک نک چڑھی سی ہے اور یہی ناک میں دم کرنے کے ساتھ ساتھ تگنی کا ناچ بھی نچاتی۔“

انسان حیرت سے بھنویں سکیڑتا ہے، خطرے میں کان کھڑے کرتا ہے، محبت میں آنکھیں لڑاتا ہے، غصے میں نتھنے پھلاتا ہے، نفرت و حسد میں ناک چڑھاتا ہے اور پھر نک چڑھا ہی رہتا ہے۔

ناک کا تعلق خوشبو سے ہے بعض کی ناک بہت تیز ہوتی ہے۔ ہماری ہمسائی جو خاصی نک چڑھی ہیں جب اُن تک بریانی پکنے کی خوشبو پہنچتی ہے تو وہ ناکوں ناک بس ناک کی سیدھ میں وارد ہوتی ہیں اُس وقت تک ناک میں دم کیے رکھتی ہیں جب تک بریانی کو دم نہ آ جائے۔

ناک چونکہ سونگھنے کے لیے ہے جانے کیا سے کیا سونگھتی ہے، سو
” ناک جو کچھ سونگھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں“

موسم اور ناک کا گہرا تعلق ہے موسم بدلنے سے ناک کی حالت بدلتی رہتی ہے سخت سردی میں ناک لال سرخ ہو جاتی ہے ہمارے دوست کا کہنا ہے کہ سردی میں محبوبہ کی ناک وائیٹ کیک پر سٹرابیری جیسی دِکھتی ہے۔

ہمارے ایک عمر رسیدہ دوست جہاں دیدہ اور مثبت سوچ کے انسان ہیں، ایک دن حسرت سے گویا ہوئے ”بڑھاپے میں انسان کے تمام اعضا سکڑ جاتے ہیں سوائے ناک کے۔“

پنجابی زبان میں ناک کے حوالے سے گانے خاصے معروف ہیں، ”تیرے لونگ دا پیا لشکارا“ اور ”لونگ گواچا“ ماضی میں مشہور رہے ہیں حال ہی میں ”نک دا کوکا“ مقبولیت کے ریکارڈ توڑ گیا یہ ”کوکا“ اتنا چبھا اِتنا چبھا کہ پابندی لگانا پڑی کیونکہ یہ گانا تو ”خطرے ناک“ تھا۔

ناک میں کوکا، لونگ یا نتھلی پہننا خواتین کے حُسن کو چار چاند لگا دیتا ہے، بقول شخصے ”اس کی تیکھی سلونی ناک پر لشکتا چاندی کا کوکا کسی مہکتی سرمئی شام میں اظہار کے طالب اولیں ستارے جیسا تھا“ ۔

پہلے نتھلی پہننے کا خاصا رواج تھا اب خال خال پہنی جاتی ہے سوشل میڈیا پہ کچھ شعر دکھائی دیتے ہیں
ناک پتلی اور اُس پر نتھلی
کھیل رہی میرے دل سے پگلی
ایک اور اسی طرح کا شعر ​گردش کرتا ہے
کس نے نتھلی کری ممنوع۔ پہنو اچھی لگتی ہے

​ناک چاہے چھوٹی ہویا بڑی، موٹی ہو یا لمبی، طوطا ہو یا پھینی، اس کی بناوٹ کا اب کوئی مسئلہ نہیں رہا، اب سرجری یعنی ”رائنو پلاسٹی“ کے ذریعے ستواں ناک بنوا کر اتراتے پھریں۔

​لمبی ناک والے اکثر دوسروں کے معاملات میں ناک اڑائے یعنی گھسیڑے رکھتے ہیں اگریہ ”ناک جھانک نہ کریں“ تو ان کا وقت نہیں کٹتا۔

​خواتین جب آپس میں ملتی ہیں تو گال سے گال ملاتی ہیں، عرب میں مرد جب ملتے ہیں تو پہلے مصافحہ کرتے ہیں پھر معانقہ جب زیادہ خوشی کا اظہار مقصود ہو تو پھر ناک سے ناک ملاتے ہیں۔

​ناک چہرے کے مرکز میں ہے اور لڑائی میں مُکا سب سے پہلے اِدھر ہی پڑتا ہے۔ ”لڑتے ہوئے اکثر کہا جاتا ہے“ میں تیریاں ناساں بَھن دیاں گا ”سچ پوچھیں تو اس دھڑلے دار جملے کا جتنا بھرپور تاثر اور معنوی ابلاغ ہے، اس کے مقابلے میں“ میں تمھاری ناک توڑ دوں گا ”معصوم لگتا ہے۔

​ٹام اینڈ جیری کارٹون دنیا بھر میں خاصا مقبول ہے، ٹام نامی بلی، جیری چوہے کو پکڑنے کے درپے ہوتی ہے یہ کارٹون تو کچھ سال پہلے آیا جبکہ انسانی انگلی زمانہ قدیم سے ٹام کا کردار نبھاتے ہوئے ہمیشہ جیری کو ڈھونڈ ڈھونڈ کے پکڑ کے باہر نکالتی رہتی ہے۔

کچھ لوگ ناک سے سانس لے کر اسی میں بولتے ہیں وہ گنگناتے کم اور غُنغناتے زیادہ ہیں اور جن کی ناک پھولی رہتی ہے وہ پھنکارتے ہی رہتے ہیں۔

یہ ناک جسے عزت و وقار کی علامت کہہ کر دوسروں کو حقیر جانا جاتا ہے۔ اور ذرا ذرا سی بات پر غصے سے نتھنے پھولے رہتے ہیں۔ اور جب پھولنے بند ہو جاتے ہیں یعنی وقت آخر آتا ہے تو انہی پھولے ہوئے نتھنوں میں روئی بھر کر خاتمے کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW