بلاگ

آزادی صحافت اور توفیق بٹ کو نوٹس

Aftab Warriach Norway

کسی بھی جمہوری ریاست اور مہذب معاشرے میں صحافت کو چوتھا ستون قرار دیا جاتا ہے۔ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کے ساتھ ساتھ صحافت ایک ایسا اہم ستون ہے جو شفافیت، احتساب اور عوامی آگاہی کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ ایک آزاد، موثر اور مربوط صحافتی نظام کسی بھی صحت مند جمہوریت کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے، کیوں کہ یہی نظام عوام کو ان کے حقوق و فرائض سے آگاہ کرتا ہے اور ارباب اقتدار و اختیار کے افعال و اقدامات پر نظر رکھتا ہے۔

تاہم بدقسمتی سے وطن عزیز میں مختلف ہیلوں، بہانوں سے آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کو محدود کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ کبھی قوانین کے نام پر، کبھی دباؤ کے ذریعے، کبھی سنسرشپ کی صورت میں اور کبھی صحافیوں کو ہراساں کر کے ان کی آواز کو دبانے اور محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اسی سلسلے کا ایک واقعہ گزشتہ دنوں اس وقت سامنے آیا جب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے ) نے روزنامہ نئی بات لاہور ایڈیشن کے سینئر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نوٹس جاری کیا۔ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس ایسوسی ایشن (پنجاب چیپٹر) کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ توفیق بٹ کے کالم ”حسب توفیق“ جس کا عنوان ”زاہد اختر زمان، ارشاد بھٹی اور معراج خالد“ ہے، اس کالم میں بیوروکریسی میں بدعنوانی پر تبصرہ کرتے ہوئے طنزیہ اصطلاح ”بیورو کرپٹس“ استعمال کی گئی ہے، جس پر کارروائی کی استدعا کی جاتی ہے۔

اس کالم کا مطالعہ کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس میں کسی فرد کا نام نہیں لیا گیا اور نہ ہی کسی خاص شخص کو براہ راست تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس میں صرف ”چند بیورو کرپٹس“ جیسی عمومی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔ کالم کا مجموعی متن کسی فرد کی شناخت متعین نہیں کرتا بلکہ ایک عمومی طرز عمل اور ادارہ جاتی رویے پر تنقید کرتا ہے، جو عوامی اور اجتماعی مفاد سے تعلق رکھتی ہے۔ جمہوری معاشروں میں ادارہ جاتی کارکردگی اور سرکاری پالیسیوں پر ایسی عمومی اور تعمیری تنقید کو آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کے مطابق جائز سمجھا جاتا ہے۔

مندرجہ بالا نوٹس کے اجراء پر نہ صرف صحافتی برادری بلکہ اندرون و بیرون ملک مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد اور تنظیموں نے بھی اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ اس نوٹس کو فوری طور پر واپس لیا جائے۔

صحافی برادری کا موقف ہے کہ این سی سی آئی اے کی یہ کارروائی اس کے اختیار سماعت اور دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہے اور پرنٹ میڈیا کے لیے قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق کسی اخبار یا کالم کے خلاف شکایات کے ازالے کے لیے مجاز ادارہ این سی سی آئی اے نہیں بلکہ پریس کونسل آف پاکستان ہے۔

جہاں تک پاکستان میں کرپشن کا تعلق ہے تو یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا کے 182 ممالک میں کرپشن کے حوالے سے 136 ویں نمبر پر ہے، جو اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ مملکت خداداد میں بڑے پیمانے اور دھڑلے سے کرپشن کی جاتی ہے۔

یہی کرپشن ملک کی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے، کیوں کہ یہ معاشی ترقی کو سست کرتی ہے۔ سرکاری وسائل کے غلط استعمال کا باعث بنتی ہے۔ اداروں کو کمزور کرتی ہے۔ قانون کی عملداری اور عدل و انصاف کے نظام کو متاثر کرتی ہے۔ سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔ معاشی و معاشرتی عدم مساوات کو بڑھاتی ہے اور یوں مجموعی قومی ترقی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

میں ایک عرصے سے ناروے میں مقیم ہوں اور میں نے یہاں دیکھا ہے کہ ناروے کی ترقی، خوشحالی اور مضبوط جمہوری روایات میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کا کلیدی کردار ہے۔ یہاں صحافی بلا خوف و خطر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ حکومت اور ادارے میڈیا کی آزادی کا احترام کرتے ہیں، جب کہ صحافیوں کو سرکاری دستاویزات اور معلومات تک رسائی کا قانونی حق حاصل ہے۔ یہاں ہر شہری اور ہر صحافی حقیقی معنوں میں آزاد ہے۔ وہ حکومت اور سرکاری اداروں میں بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں پر کھل کر تنقید کر سکتا ہے۔ اسی وجہ سے ناروے دنیا میں آزادی صحافت کے حوالے سے پہلے نمبر پر ہے اور مسلسل کئی سالوں سے یہ اعزاز برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اس کے برعکس پاکستان میں آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کی صورت حال بڑی مخدوش ہے۔ بین الاقوامی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی 2026 کے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق پاکستان دنیا کے 180 ممالک کی فہرست میں 153 ویں نمبر پر آتا ہے۔ اس درجہ بندی سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں آزادی صحافت کی صورت حال کس قدر تشویشناک ہے اور اس میں بہتری کے لیے جامع اور سنجیدہ اقدامات کی شدید ضرورت ہے۔

مسائل کا حل انھیں چھپانے یا نظر انداز کرنے سے نہیں بلکہ ان پر کھل کر بات کرنے سے ہوتا ہے، کیوں کہ جب مسائل کو دبایا یا نظر انداز کیا جاتا ہے تو وہ رفتہ رفتہ شدت اختیار کر کے ایک ایسے ناسور میں تبدیل ہو جاتے ہیں جو بالآخر تباہی اور زوال کا سبب بنتے ہیں۔

درحقیقت ارباب اقتدار و اختیار کو ان لکھاریوں اور صحافیوں کا ممنون ہونا چاہیے جو صاحب بصیرت بھی ہیں اور صاحب بصارت بھی۔ یہ وہ اہل قلم ہیں جو جہاد بالقلم پر یقین رکھتے ہیں اور قلم کی حرمت کے امین ہوتے ہیں۔ یہ معاشرے میں موجود برائیوں اور بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہیں تاکہ ان کی بروقت اصلاح ممکن ہو سکے اور وطن عزیز ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو۔

مگر کیا کیا جائے، جو لوگ خود پسندی اور خود فریبی کے مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں، وہ آئینے میں اپنی مرضی کے مطابق عکس دیکھنے کے خواہش مند ہیں، حالانکہ آئینہ نہ جھوٹ بولتا ہے اور نہ ہی کسی کی خوشامد کرتا ہے۔ وہ صرف حقیقت کو من و عن دکھاتا ہے۔ آئینہ تو سچائی اور حقیقت کی علامت ہے۔

مرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے
مرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا
جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے
مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے
(احمد فراز)

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments
Back to top button
HumSub

FREE
VIEW