پاکستانی تاریخ کے سیاسی قتل
پاکستان کی سیاسی تاریخ صرف اقتدار کی کشمکش، انتخابی معرکوں، آئینی بحرانوں اور مارشل لاؤں کا مرقع نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی خون آشام سرگزشت ہے جس کا ہر صفحہ کسی نہ کسی سانحے، سازش یا چال سے مزین ہے اور ان خون آلود صفحات پر کئی ایسے نام بھی ثبت ہیں جن کے قتل نے نہ صرف ملکی سیاست کا دھارا موڑا بلکہ ملکِ عزیز اور اس کے باسیوں پر ایسے گہرے زخم چھوڑے جو آج بھی پوری طرح مندمل نہیں ہو سکے۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان میں اکثر بڑے سانحات کے بعد تحقیقات، عدالتی کمیشنز اور سرکاری رپورٹس تو سامنے آئیں، مگر اصل سچ کبھی سامنے نہ آ سکا اور قوم مکمل حقیقت جاننے سے محروم رہی۔ قیامِ پاکستان کے صرف چار برس بعد 16 اکتوبر 1951 ء کو ملک کے پہلے وزیر اعظم، قائد ملت لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے کمپنی باغ (جو بعد ازاں لیاقت باغ کہلایا ) میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ یہ سانحہ ایک نوخیز ریاست کے سیاسی استحکام پر پہلا کاری وار تھا۔ اس قتل کی سب سے پراسرار بات یہ تھی کہ قاتل سید اکبر کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا گیا، یوں وہ تمام ممکنہ شواہد اور ثبوت بھی ختم ہو گئے جو اصل منصوبہ سازوں تک پہنچا سکتے تھے۔ سات دہائیاں گزر جانے کے باوجود یہ سوال آج بھی تشنۂ جواب ہے کہ آخر اس قتل کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما تھیں؟ کون فائدہ اٹھانا چاہتا تھا؟ اور کیوں اس راز کو ہمیشہ پردۂ اخفا میں رکھا گیا؟
اس کے بعد پاکستان نے ایک طویل سیاسی عدم استحکام، مارشل لا، سقوطِ ڈھاکا اور ادارہ جاتی تصادم کے کئی المناک ادوار دیکھے۔ جمہوری عمل کمزور ہوتا گیا اور طاقت کا محور عوام کے بجائے طاقتور حلقے بنتے چلے گئے۔ انہی ہنگامہ خیز حالات میں 4 اپریل 1979 ء کا وہ سیاہ دن آیا جب سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ بظاہر یہ ایک عدالتی فیصلہ تھا، لیکن دنیا بھر کے قانونی، سیاسی اور انسانی حقوق کے حلقوں میں آج تک یہ بحث جاری ہے کہ آیا یہ واقعی ایک شفاف عدالتی کارروائی تھی یا پھر طاقت کے ایوانوں میں ترتیب دیا گیا ایک سیاسی انتقام۔ سپریم کورٹ کے بعض ججوں کے اختلافی نوٹس، بین الاقوامی قانونی ماہرین کی آراء اور بعد ازاں خود عدلیہ کے بعض حلقوں کے اعترافات اس مقدمے کو تاریخ کے متنازع ترین عدالتی فیصلوں میں شمار کرتے ہیں۔ بھٹو کی پھانسی نے پاکستانی سیاست میں انتقام، نفرت اور تقسیم کی ایسی خلیج پیدا کی، جس کے اثرات آج بھی قومی سیاست میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ سیاسی خونریزی کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ 1981 ء میں سابق وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے قریبی ساتھیوں اور بعض سیاسی کارکنوں کی پراسرار اموات نے بھی کئی سوالات اٹھائے۔ 1988 ء میں جنرل ضیاء الحق کا طیارہ حادثہ بھی پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے پراسرار واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ ایک فضائی حادثہ قرار دیا گیا، مگر آج تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ آیا یہ تکنیکی خرابی تھی، تخریب کاری یا کسی عالمی و داخلی سازش کا نتیجہ۔ اس حادثے میں امریکی سفیر آرنلڈ رافیل سمیت کئی اعلیٰ فوجی افسران بھی ہلاک ہوئے اور یوں پاکستان کی سیاست ایک نئے موڑ پر داخل ہو گئی۔ نوے کی دہائی میں کراچی سیاسی، لسانی اور ریاستی تصادم کا مرکز بنا رہا۔ اسی دوران 1996 ء میں میر مرتضیٰ بھٹو کراچی میں پولیس مقابلے کے دوران مارے گئے۔ اس سانحے نے بعض ریاستی اداروں، عہدیداروں اور اس وقت کی حکومت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے۔
اسی خون آلود سیاست کا ایک اور اہم باب 18 اکتوبر 2007 ء کو کراچی میں بینظیر بھٹو کے جلوس پر ہونے والا خودکش حملہ تھا جس میں سینکڑوں کارکن جاں بحق ہوئے، مگر بینظیر بھٹو محفوظ رہیں۔ لیکن صرف دو ماہ بعد 27 دسمبر 2007 ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں وہ دہشت گردی کا نشانہ بن گئیں۔ یہ سانحہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے لیے لرزہ خیز خبر تھا۔ مسلم دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیر اعظم، جس نے جلاوطنی، آمریت، قید و بند اور سیاسی مزاحمت کے کٹھن مراحل جھیلے، عوامی اجتماع سے خطاب کے بعد قتل کر دی گئیں۔ اس واقعے نے پاکستان میں جمہوریت، سکیورٹی، مذہبی انتہاپسندی اور ریاستی کمزوری کے حوالے سے خوفناک سوالات کو جنم دیا۔ اقوامِ متحدہ کی تحقیقات ہوں یا ملکی کمیشنز، آج بھی ایک بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ اس سانحے کے تمام حقائق مکمل طور پر قوم کے سامنے نہیں آ سکے۔ اس خونریزی کا شکار صرف قومی سطح کے رہنما ہی نہیں بلکہ صوبائی اور علاقائی شخصیات بھی بنتی رہیں۔ ان سانحات نے قومی سطح پر بھی بڑے منفی اثرات مرتب کیے۔ ہر ایسے سانحے کے بعد قوم مزید تقسیم ہوئی، سازشی نظریات نے جنم لیا، سیاسی نفرت میں اضافہ ہوا اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کمزور سے کمزور تر ہوتا گیا۔ جب سچ سامنے نہ آئے تو افواہیں جنم لیتی ہیں اور یہی کچھ ملک عزیز کے ساتھ بھی ہوا، سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کا پہناوا پہنایا جاتا رہا اور افسوس کہ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔


اس پر میں نے پوری کتاب لکھ رکھی ہے
شکر ہے کہ آُپ نے جناح صاحب اور فاطمہ جناح کی وفات کو اس میں نہیں گھسیٹ لیا
ویسے اصل فہرست میں 50 سے 60 شامل ہیں جن میں کچھ کو چھوڑ بھی دئیے
عمر اصغر خان، حیات محمد شیرپاؤ، لیفٹننٹ جنرل افتخار خان، آئی جی اعزاز الدین (جمیل الدین عالی کے بھائی) بم دھماکوں میں مرنے والے لاتعداد نام جو سیاست کا ہی حصہ تھے
–
اور ہاں ۔۔۔۔ نواب اکبر بگتی کی موت سونے پر سہاگہ تھی
بگتی صاحب نے خود وائرلیس پر رابطہ کرکے فوج کے اہل کاروں کو ملاقات کے لئے بلوایا جن کے ہتھیار غار میں داخلے سے پہلے لے لئے گئے تھے اب اندر جاکر کیا ہوا خدا ہی بہتر جانتا ہے
دو اوراہم نام یاد آئے
نواب امیر محمد خاں عرف نواب کالا باغ
اور خود قصوری کے والد جن کے قتل کے الزام میں بھٹو پھانسی چڑھا
ہمیں بھٹو تو یاد رہتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ قتل تو قصوری کے والد کا بھی ہوا تھا اس کی تفتیش کیوں نہیں کی گئی ؟
درست فرمایا سر۔۔۔۔۔ بہت شکریہ آپ نے اس تحریر کو توجہ سے پڑھا اور اپنی بھرپور رائے دی۔