میرے مطابق

آخری وائس نوٹ

Amna hanif

بارش اُس رات غیر معمولی حد تک خاموش تھی۔ کھڑکی کے شیشوں پر گرتے قطروں کی آواز پورے گھر میں پھیل رہی تھی۔ شہر کی سڑکیں سنسان تھیں اور گھڑی رات کے پونے بارہ بجا رہی تھی۔

احمد اپنے کمرے میں بیٹھا پولیس کی فائلیں دیکھ رہا تھا۔ کئی گھنٹوں سے جاگنے کی وجہ سے اُس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں، مگر اُس کے ذہن میں صرف ایک نام تھا۔

ماہ نور۔ وہ لڑکی جس کا قتل تین دن پہلے ہوا تھا۔

ماہ نور اپنے فلیٹ میں مردہ پائی گئی تھی۔ دروازہ اندر سے بند تھا، کوئی زبردستی داخل ہونے کے نشان نہیں تھے، نہ ہی کوئی واضح ثبوت ملا تھا۔

صرف ایک چیز ملی تھی۔ اس کا موبائل۔
فون میں سب کچھ حذف ہو چکا تھا، مگر ایک آواز محفوظ تھی۔
احمد نے وہ صوتی پیغام چلایا۔
”اگر تم یہ سن رہے ہو۔ تو قاتل میرے بالکل پاس ہے۔“
اچانک پیغام ختم ہو گیا۔
پس منظر میں ٹرین کی ہلکی سی سیٹی سنائی دی۔
احمد چونک گیا۔ فلیٹ کے قریب کوئی ریلوے لائن نہیں تھی۔
اگلے دن وہ انسپکٹر حارث کے پاس پہنچا۔
”یہ عام قتل نہیں ہے،“ احمد نے کہا۔
حارث نے فون سن کر پہلی بار سنجیدگی دکھائی۔
”ٹرین کی آواز۔ دلچسپ ہے۔“

دونوں نے شہر کے پرانے صنعتی علاقے کا رخ کیا، جہاں قریب ہی ریلوے لائن گزرتی تھی۔ ایک پرانی ویران فیکٹری میں اندر جانے پر فرش پر سوکھے خون کے دھبے ملے۔ دیوار پر ایک لفظ لکھا تھا:

”معاف کرنا“ اب کہانی اور الجھ گئی تھی۔
اگلے دن احمد نے ماہ نور کی دوست علیزہ سے ملاقات کی۔ وہ غیر معمولی حد تک پُرسکون تھی۔
”ماہ نور اچھی لڑکی تھی۔“ علیزہ نے کہا۔
لیکن جب احمد نے ریکارڈنگ کا ذکر کیا تو اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
”آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟“ اب شک یقین میں بدلنے لگا تھا۔
اسی رات احمد کو ایک نامعلوم پیغام ملا:
”یہ معاملہ چھوڑ دو۔ ورنہ تمہاری آواز بھی ریکارڈ ہو گی۔“

تحقیقات نے ایک اور حقیقت سامنے لائی۔ ماہ نور اور علیزہ ایک ہی کمپنی میں کام کرتی تھیں، جہاں سے بڑی رقم غائب ہوئی تھی۔

پرانے ملازم نے بتایا: یہ فراڈ دو لوگوں نے کیا تھا۔ ماہ نور اور علیزہ نے۔
اب کہانی کا رخ بدل گیا۔
احمد جب دوبارہ تھانے پہنچا تو ایک اور جھٹکا لگا۔
”علیزہ کل رات ایک حادثے میں مر چکی ہے،“ حارث نے کہا۔
لیکن اسی وقت احمد کے فون پر ایک نئی ریکارڈنگ آئی۔
”تم حقیقت کے بہت قریب ہو، احمد۔“
یہ علیزہ کی آواز تھی۔
اگر وہ مر چکی تھی، تو یہ آواز کس نے بھیجی؟
احمد نے شک فراز پر کیا۔ ماہ نور کا منگیتر۔
فراز بہت پُرسکون تھا، مگر اس کی باتوں میں الجھاؤ تھا۔
”کبھی کبھی لوگ خود اپنی موت لکھ دیتے ہیں۔“

رات کو احمد نے دوبارہ آواز سنی۔ اس بار پس منظر میں گھڑی کی ٹک ٹک تھی۔ یہی گھڑی فراز کے گھر میں بھی تھی۔

احمد فوراً وہاں پہنچا۔ گھر کھلا ہوا تھا۔
نیچے تہہ خانے سے رونے کی آواز آ رہی تھی۔
وہ نیچے گیا تو کرسی سے بندھی ہوئی علیزہ زندہ تھی۔
”وہ اوپر ہے۔“ وہ کانپتی ہوئی بولی۔
اسی لمحے سیڑھیوں پر فراز کھڑا تھا، ہاتھ میں پستول۔
”ماہ نور نے مجھے دھوکہ دیا تھا۔ اس لیے اسے ختم کرنا پڑا،“ وہ سرد لہجے میں بولا۔

اصل حقیقت سامنے آ گئی۔ فراز نے دونوں لڑکیوں کو مالی فراڈ میں پھنسا کر قتل اور دھوکہ کا کھیل رچایا تھا۔ فراز، جو کبھی ماہ نور کا سب سے بڑا سہارا کہلاتا تھا، درحقیقت اسی کمپنی کے ایک پرانے قرض اور ناکام سرمایہ کاری کے بوجھ تلے دبا ہوا تھا، جس نے اسے محبت کے بجائے لالچ کے راستے پر ڈال دیا۔

اچانک پولیس آ گئی۔ مقابلہ ہوا، اور فراز مارا گیا۔
چند دن بعد کیس ختم ہو گیا۔
احمد اپنی رپورٹ لکھ رہا تھا، مگر اُس کے ذہن میں وہ آخری آواز اب بھی گونج رہی تھی۔
”اگر تم یہ سن رہے ہو۔ تو قاتل میرے بالکل پاس ہے۔“
اور احمد جانتا تھا۔ بعض آوازیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔

Facebook Comments Box

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW