ایران کی ہزاروں سنی مسجدیں

فرہاد نے کہا آؤ تمہیں ایران کی سب سے بڑی سنی مسجد دکھاتا ہوں، مجھے ایرانی بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان میں دوسرا دن تھا، میرے نوکنڈی کے دوست، بلوچی اور براہوی کے شاعر اختر محمد حسنی کا برادر نسبتی زاہدان میں میرا میزبان تھا، زاہدان کی شدید گرم دوپہر میں میرا باہر نکلتے ہوئے دم نکل رہا تھا، اے سی کی ٹھنڈک میں فرہاد کی بیٹھک کے نرم و ملائم قالین پر نیم دراز ٹھنڈا روح افزا پیتے ہوئے مجھے بہت آرام تھا، فرہاد روح افزا کا بڑا شیدائی ہے، ہر رمضان سے پہلے اس شربت کا کوٹہ پاکستان سے منگوا کر اسٹور کر لیتا ہے، میں نے کہا یار ابھی تو بہت گرمی ہے، فرہاد نے کہا چلو ٹھیک ہے چار ساڑھے چار تک چلیں گے، عصر بھی پڑھ لیں گے، ساتھ میں تمہیں تبلیغی مرکز بھی دکھا لاتا ہوں۔ تبلیغی مرکز ایران میں۔ پھر مجھے یاد آیا، ہاں ایران سے بھی تو تبلیغی جماعتیں آتی ہیں، غالباً رائے ونڈ اجتماع میں بھی آمد ہوتی ہے۔
دھوپ کچھ کم ہوئی تو ہم نکلے، پہلے تبلیغی مرکز مکی مسجد دیکھا جو کراچی کے پرانے مرکز جیسا تھا، وسیع و عریض ہال، درجنوں ستونوں پر تنی بلند چھت اور لمبی راڈ والے پنکھے۔ مجھے ایسا لگا یہ زاہدان نہیں، کراچی کی مکی مسجد ہے۔ تبلیغی مرکز کے قریب ہی جامع مسجد مکی زاہدان ہے، عظیم الشان مسجد دیکھ کر میرا پہلا ردعمل حیرت کا تھا، میں نے فرہاد سے پوچھا کیا یہ ترکوں نے بنائی ہے، فرہاد نے جواب دیا نہیں، ترکوں نے صرف نقشہ بنایا ہے، مسجد کی تعمیر کی پیش کش بھی کی تھی لیکن ہم نے منع کر دیا، مسجد کی تعمیر زاہدان والوں نے چندہ کر کے خود کی ہے، مسجد کی سیر اور کچھ دوستوں سے ملاقات کے بعد ہم واپس آ گئے
فرہاد ایران کے محل وقوع اور آبادی کے تنوع پر روشنی ڈال رہا تھا، کہنے لگا سرکاری آنکڑے تو کچھ اور ہیں لیکن ایران میں سنی بیس فیصد سے کم نہیں، اس نے ایک اور دلچسپ بات بتائی۔ کہنے لگا دیکھو ایران کی تقریباً ساری سرحدوں پر سنی آباد زیادہ ہے، مثلاً سیستان و بلوچستان اور کردستان تو ہیں ہی سنی صوبے جن کی سرحدیں پاکستان، افغانستان اور عراق سے ملتی ہیں، اس کے علاوہ ہرمزگان سمندری سرحد ہے، وہاں بھی سنی اکثریت میں ہیں، گلستان صوبے میں ترکمن سنی اکثریت میں ہیں، اسی طرح افغانستان کے ساتھ خراسان رضوی کے افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں بھی سنیوں کی تعداد زیادہ ہے۔
ایران کے سنی اکثریتی صوبے
طائرانہ نظر ڈالی جائے تو سیستان و بلوچستان، ہرمزگان، کردستان، گلستان اور کسی حد تک مغربی آذربائیجان کو سنی صوبہ کہا جاسکتا ہے۔
ہرمزگان کی بات کی جائے تو اس کے صدرمقام بندرعباس کی سب سے بڑی مسجد جامع اہل سنت ہے جو مسجد دلگشا کے نام سے مشہورہے، یہ مسجد بندرعباس کے ساحلی علاقے میں، طالقانی بلیوارڈ پر واقع ہے، اس تاریخی مسجد کو ایران کا قومی ورثہ بھی قرار دیا گیا ہے۔
کردستان کے صدر مقام سندج کی تاریخی جامع مسجد، اہل سنت کا سب سے بڑا مذہبی اور تعلیمی مرکز سمجھی جاتی ہے۔
جامع مسجد سندج قاچار دور میں تعمیر کی گئی تھی جو اسلامی اور ایرانی فن تعمیر کا خوبصورت نمونہ سمجھی جاتی ہے۔
گلسستان صوبے کی سب سے بڑی سنی مسجد جامع مسجد آق قلا ہے، یہ مسجد صوبے کے ترکمن اکثریتی علاقے میں واقع ہے۔
کرمان شاہ کی جامع مسجد شافعی بھی ایران کی تاریخی اور خوبصورت مسجدوں میں شمار ہوتی ہے
یہ مسجد اپنے شاندار طرز تعمیر اور اسلامی فن پاروں کی وجہ سے عالمی سطح پر پہچانی جاتی ہے۔
مسجد کا فنِ تعمیر عثمانی طرز کی مساجد سے مشابہ ہے، جس میں بلند مینار اور خوبصورت گنبد شامل ہیں۔ اندرونی حصے میں شاندار پلاسٹر ورک، اسلامی خطاطی اور رنگین شیشوں کا استعمال اسے ایک شاہکار بناتا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران کے طول و عرض میں سنیوں کی پندرہ ہزار سے ستائیس ہزار تک چھوٹی بڑی مسجدیں ہیں۔



how many sunni mosques are there in Tehran.