کالم۔

ایران امریکہ مذاکرات اور غریدہ کا غرارہ

adnan khan kakar

ایران امریکہ مذاکرات پر سب کی نگاہیں جمی تھیں۔ پوری دنیا بے تاب تھی کہ کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھلتی ہے یا پھر جنگ کے شعلے بلند تر ہوں گے۔ پوری دنیا کا دل تیل کی قیمت اور سٹاک کی گراوٹ دیکھ کر دھک دھک کر رہا تھا، لیکن ایسے میں ”نِگہ بلند، سخن دل نواز، جاں پُرسوز“ رکھنے والی پاکستانی قوم کی نگاہیں اصل معاملے پر مرکوز تھیں۔

وہ سبز رنگ کے جامے میں لپٹی غریدہ فاروقی کو دیکھ کر یہ طے کرنے کی کوشش کر رہی تھی کہ اس قسم کے لباس کا مذاکرات کاروں پر کیا اثر ہو گا؟ کیا ان کے دل پگھلیں گے یا نگاہیں پتھرا جائیں گی؟ کچھ حلقوں کا خیال تھا کہ اسے امریکی کیمپ اپنی سفارت کاری کی کامیابی قرار دے گا اور دوسرے حلقوں کا خیال تھا کہ ایرانی کیمپ اسے دیکھ کر نگاہیں نیچی اور مونچھیں اونچی کر لے گا۔ لیکن سوشل میڈیا پر عمومی رائے یہ دکھائی دے رہی تھی کہ غریدہ نے ساری لائم لائٹ امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں سے چرا لی ہے اور اسی وجہ سے بیل منڈھے نہیں چڑھی۔

دیکھیں ہماری رائے میں تو یہ غریدہ کا قصور نہیں بلکہ ان کے درزی کا ہے۔ اور درزی ظاہر ہے کہ مرد ہوتے ہیں۔ اس لیے پدر سری معاشرے میں اسے کوئی نہیں پوچھ رہا۔ سب غریدہ کو ہی دیکھ رہے ہیں۔ اب آپ کہیں گے کہ خواتین درزن بھی تو ہوتی ہیں۔ خواتین پرانے زمانے میں درزن ہوا کرتی تھیں۔ اب وہ فیشن ڈیزائنر ہوتی ہیں اور ان کے برانڈ کے نام ثنا سفینہ یا نازک آبگینہ وغیرہ ٹائپ ہوتے ہیں۔ کسٹم ڈریس سینے والے درزی مرد ہی ہوتے ہیں۔ اور صاف ظاہر ہے کہ غریدہ نے ڈیزائنر ڈریس نہیں پہنا ہوا تھا۔ اس کی کٹنگ اور سلائی خود بتا رہی ہے کہ وہ کسٹم میڈ ڈریس ہے۔

اب آپ ایک مرتبہ پھر ان تصاویر پر غور کریں۔ صاف ظاہر ہے کہ اصل مسئلہ کپڑے کا نہیں، کپڑے کے اندر موجود ہستی کا نہیں، بلکہ لباس کی فٹنگ، کٹائی اور سلائی کا ہے۔ بچاری غریدہ نے اس خاص موقعے کے لیے خاص طور پر سبز ریشمی سوٹ سلوایا ہو گا، اور ہبڑ تبڑ میں ٹرائی کے بغیر ہی پہن کر سیدھی مذاکرات میں پہنچ گئیں۔ اب بھلا اس معصوم کو کیا خبر تھی کہ درزی نے جوڑے کا ناس مار دیا۔ نہ اسے اندازہ ہو گا کہ اتنے ہائی سکیورٹی مذاکرات ہیں کہ انتظامیہ کے علاوہ سوشل میڈیا پر موجود لوگ بھی یوں شرکا کا بیک گراؤنڈ چیک رن کرنے لگیں گے۔

بہرحال کہاوت ہے کہ چور کو مت پکڑیں، اس کی ماں کو پکڑیں۔ تو اس معاملے میں بھی غریدہ کے درزی کو مذاکرات کی ناکامی کا سبب سمجھنا چاہیے، غریدہ بے قصور ہیں۔ ایک تو بچاری کے نئے جوڑے کا درزی نے ناس مار دیا اور اوپر سے لوگ ہمدردی کرنے کی بجائے الٹا غریدہ ہی کو دوشی ٹھہرا رہے ہیں اور اس لباس کے شرارے غرارے کر رہے ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Twitter: @adnanwk
Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
عارف احمد
عارف احمد
1 month ago

بندر کی بلا طویلے کے سر

محمد وسیم احمد
Muhammad Ahmad
1 month ago

Thank you for pointing us in the right direction 😂

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW