کالم۔

کیا آپ اپنے مسائل کے بارے میں اپنے دوستوں سے مشورہ کرتے ہیں؟

dr khalid sohail

بعض لوگ کسی سے مشورہ نہیں کرتے۔ وہ اپنے نفسیاتی مسئلے کے بارے میں خود ہی سوچتے رہتے ہیں اور اگر مسئلہ حل نہ کر سکیں تو اندر ہی اندر کڑھتے بھی رہتے ہیں۔ بعض لوگ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے مشورہ کرتے ہیں اور ان کی مشاورت سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اپنے مریضوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ دوسروں سے مشاورت کریں اور ان کے مشوروں سے استفادہ کریں۔ اسی لیے ہم اپنے کلینک میں اپنے مریضوں کو ہر ہفتے گروپ تھراپی میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔

پچھلے ہفتے میری ایک کینیڈین مریضہ کیرن نے گروپ تھراپی کے دوران دوسرے مریضوں کو بتایا کہ اسے شہر میں کرایے پر اپارٹمنٹ حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ کہنے لگی میں عورت ہوں، میں سنگل مدر ہوں، میری دو بیٹیاں ہیں اور میں و یلفیئر پر ہوں۔ جب مالک مکانوں کو ان باتوں کا پتہ چلتا ہے تو وہ مجھے کرایے پر اپارٹمنٹ دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ میں جس اپارٹمنٹ میں دو سال سے رہ رہی ہوں مجھے اسے دو ماہ میں چھوڑنا ہے کیونکہ میرے مالک مکان کا بیٹا شہر میں واپس آ گیا ہے اور وہ اب میرے اپارٹمنٹ میں رہے گا۔

کیرن کی کہانی سن کر دوسرے مریضوں نے اس سے ہمدردی کا اظہار کیا اور اسے بتایا کہ مالک مکان جو کام کر رہے ہیں وہ غیر اخلاقی بھی ہے اور غیر قانونی بھی۔ اسے ٹیننٹ لینڈ لارڈ بورڈ سے رجوع کرنا چاہیے اور ان مالک مکانوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔ گروپ تھراپی کے آخر میں جب میری باری آئی تو میں نے کہا، میرا خیال ہے کہ ہر مسئلے کا حل اس مسئلے کے اندر ہی ہوتا ہے۔ ہم کچھ غور و خوض سے اس حل تک پہنچ سکتے ہیں۔ پھر میں نے اپنے موقف کو واضح کرنے لیے گروپ تھراپی کے مریضوں کو اپنی زندگی کا ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔

میں نے انہیں بتایا کہ میرے شاعر اور دانشور دوست امیر حسین جعفری نے جب پاکستان میں کئی سال رہنے کے بعد واپس کینیڈا آنے کا فیصلہ کیا تو مجھے ان کا امریکہ سے فون آیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی فیملی کو ٹورانٹو میں رہنے کے لیے ایک اپارٹمنٹ چاہیے۔ میں نے اپنی اور امیر حسین جعفری کی مشترکہ دوست عامرہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ریکسڈیل کمیونٹی سنٹر، جس کی وہ ڈائریکٹر ہیں، کے سامنے ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ میں ایک اپارٹمنٹ خالی ہے میں وہ اپارٹمنٹ امیر حسین جعفری کے لیے کرایے پر لے سکتا ہوں۔ چنانچہ اگلے دن میں اس اپارٹمنٹ بلڈنگ کی منیجر وکی سے ملنے چلا گیا۔ میں نے وکی سے کہا کہ مجھے اپنے شاعر دوست امیر حسین جعفری کے لیے ایک اپارٹمنٹ چاہیے اور مجھے پتہ چلا ہے کہ اس بلڈنگ میں ایک اپارٹمنٹ خالی ہے۔ وکی نے کہا کہ جو اپارٹمنٹ خالی تھا اس میں تو نیا کرایہ دار آ گیا ہے لیکن دو ہفتے کے بعد ایک اور اپارٹمنٹ خالی ہو رہا ہے جو امیر حسین جعفری لے سکتے ہیں۔

پھر وکی نے کہا کہ اپارٹمنٹ لینے کے لیے اسے امیر حسین جعفری کی بینک سٹیٹمنٹ، ملازمت کی تصدیق کا خط اور آخری مہینے کے کرایے کا دو ہزار ڈالر کا چیک چاہیے۔ میں نے کہا امیر چونکہ کئی سالوں کے بعد کینیڈا لوٹ رہے ہیں اس لیے وہ یہ چیزیں تو مہیا نہیں کر سکتے۔ وکی نے کہا پھر تو انہیں اپارٹمنٹ کرایے پر نہیں مل سکتا۔ یہ بات سن کر میں کچھ سوچ میں پڑ گیا پھر مجھے ایک اچھوتا خیال آیا اور میں نے اپنے ذہن میں اس مسئلے کا حل سوچتے ہوئے وکی سے کہا آپ وہ اپارٹمنٹ مجھے کرایے پر دے دیں میں آپ کو بینک سٹیٹمنٹ، ملازمت کی تصدیق کا خط اور دو ہزار ڈالر کا چیک دے دوں گا۔ میری بات سن کر وکی کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔ وہ مسکرائی اور کہنے لگی کیا امیر آپ کے بھائی ہیں؟ وہ بھائی نہیں میرے دوست ہیں اور دوستی کا رشتہ بھائیوں کے رشتے سے زیادہ قریب ہوتا ہے کیونکہ وہ خون کا نہیں دل کا رشتہ ہوتا ہے۔ میں نے وکی کو بتایا کہ امیر اور میں دوستوں کے ایک گروپ کے ممبر ہیں اور اس گروپ کا نام فیملی آف دی ہارٹ ہے۔ وکی فیملی آف دی ہارٹ کے نام سے بہت متاثر ہوئی۔

اس نے مجھے بتایا کہ وہ اس بلڈنگ کی بیس برس سے ڈائریکٹر ہے اور اس کی ان بیس برسوں میں کسی ایسے دوست سے ملاقات نہیں ہوئی جو کسی دوسرے دوست کا اتنا خیال رکھے۔ میں نے وکی سے کہا کہ چند ماہ رہنے کے بعد کیا میں اپنی جگہ امیر حسین جعفری کو اس اپارٹمنٹ کا کرایہ دار بنا سکوں گا۔ وکی کہنے لگی ایسا ممکن ہے لیکن اس ٹرانسفر کی دو سو ڈالر فیس ہو گی۔ میں نے کہا وہ میں ادا کر دوں گا۔ جب میں جانے لگا تو وکی نے پوچھا آپ کام کیا کرتے ہیں؟ میں نے کہا میں ایک ماہر نفسیات ہوں اور وہٹبی میں میرا ایک کلینک ہے۔

وکی نے مسکراتے ہوئے کہا، میں آپ سے مشورہ کرنا چاہتی ہوں میرا ایک ٹین ایجر بیٹا ہے وہ سکول میں دوسروں سے لڑتا رہتا ہے اسے کچھ نفسیاتی مدد چاہیے۔ میں نے وکی سے کہا کہ آپ مجھے اپنا پتہ دے دیں میں آپ کو اپنی ایک گرین زون فلسفے کی کتاب تحفے کے طور پر بھیج دوں گا جس کا آپ کو بہت فائدہ ہو گا۔ چنانچہ امیر حسین جعفری اور ان کا خاندان کینیڈا آ گئے اور بڑے آرام سے اس اپارٹمنٹ میں رہ رہے ہیں اور وکی ان کا خاص خیال رکھتی ہے۔ اپنی کہانی سنانے کے بعد میں نے کیرن کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی کسی ہمدرد سہیلی یا دوست یا رشتہ دار سے کہے کہ وہ اس کے لیے اپارٹمنٹ لے لے اور پھر چند ماہ کی رہائش کے بعد اس اپارٹمنٹ کے کرایے دار کا نام بدل دے۔ کیرن نے کہا اس نے کبھی ایسا سوچا ہی نہ تھا۔

ہمارے کلینک میں گروپ تھراپی میں ہر ہفتے ایک مریض اپنا مسئلہ بیان کرتا ہے پھر باقی مریض اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور آخر میں میری کوتھراپسٹ نرس بیٹی ڈیوس اور میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمارے مریض گروپ تھراپی سے جو چیزیں سیکھتے ہیں ان میں دوسروں کی بات غور سے سننا، اپنا نقطہ نظر بہتر طور پر پیش کرنا، اہم سوال پوچھنا، دل کی بات کرنا سر فہرست ہیں۔ گروپ تھراپی سے مریضوں کی خود اعتمادی بڑھتی ہے اور وہ دوسرے لوگوں سے ڈائلاگ کرنا سیکھتے ہیں۔ جب وہ گروپ تھراپی میں اجنبیوں کو دوست بنا لیتے ہیں تو ان کے لیے گروپ سے باہر اپنی زندگی میں بھی نئے دوست بنانا آسان ہو جاتا ہے۔

ہم اپنے کرئیٹیو سائیکو تھراپی کلینک میں انفرادی اور خاندانی تھراپی کے ساتھ ساتھ گروپ تھراپی سے بھی مریضوں کی مدد کرتے ہیں۔ تھراپی حاصل کرنے سے ہمارے مریض اپنی زندگی کے لیے مثبت اور دانا فیصلے کرنا اور صحتمند خوشحال اور پرسکون زندگی گزارنا سیکھتے ہیں جسے ہم گرین زون طرز حیات کہتے ہیں۔

Loading

Facebook Comments Box

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔
Subscribe
Notify of
guest
2 Comments
آغاگل
آغاگل
9 months ago

افسوس کہ ھم اپنی ذات کے قیدی ھیں ۔ ہر ھفتہ جمعہ کو حوروں جنت ۔ غلمان ۔ جنت کے ولیدان کی باتیں ۔ سب کر گھروں کی راہ لیتے ھیں ۔ شکر ادا کرتے ھیں کہ واپسی پہ جوتے مل گئے ۔ رھے ڈاکٹر تو 250 مریض روزانہ ھمارا سیکسٹریسٹ دیکھتا ھے ۔ آمریت نے بڑی محنت سے ھمیں انسانوں کی بجائے لسانی گرووں میں بانٹ رکھا ھے

عمران
عمران
8 months ago

سر اگر ھمیں اپنی سمجھ بوجھ پر اعتماد ہو تو کیا پھر بھی کسی دوست سے شیئر کرنا ضروری ہے کیونکہ یہاں آس پاس روائتی لوگ روائتی طور طریقوں والے ہیں

Facebook Comments

Related Articles

Back to top button
HumSub

FREE
VIEW